ملک کو اچھی خبر ملنے والی ہے: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

سینئر صحافیوں اور میڈیا مالکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں بڑے بڑے کنوئیں ہیں جہاں اربوں روپے چلے جاتے یں۔ قومی ائیر لائن میں سیاسی بھرتیاں ہیں اور پی آئی اے میں خسارہ 4سو ارب ہے۔ پی آئی اے کو پائوں پر کھڑا کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ سٹیٹ لائف میں بھی خسارہ 50ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ بیوروکریٹ فیصلے نہیں کر رہے جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ رہ ہیں۔ بیوروکریٹ سمجھتے ہیں جتنی انکوائریاں کھل چکی ہیں نیب کے پاس افرادی قوت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگوں کو سزاے ملنے پر چھوٹے بدعنوان خود بخود راہ راست پر آجائیں گے۔ مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم نے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بنا دیا۔
پلوامہ واقعہ کے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں لیکن جیسے ہی جیش محمد کا نام لیا گیا تو سب کی انگلیاں پاکستان پر اٹھنے لگیں اب ہم کالعدم تنظیموں کے پیچھے لگ گئے ہیں انہیں ختم کر کے رہیں گے۔ بھارت کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتنے کے لیے مودی حکومت کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی مسلح افواج ، حکومت اور قوم ہر چیلنج سے نبٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے علاوہ ایران اور افغانستان کی سرحدوں کو بھی محفوظ بنا رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے واقع پر ان کا کہنا تھا کہ نعیم راشد کی اہلیہ کی گفتگو ہی اصل اسلام ہے اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا رد عمل پوری دنیا کے لیے قابل احترام ہے، کون سا مہذب ملک اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو آپریٹ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
معیشت کے متعلق ان کا کہنا تھا حکومت سنبھالی تو سب سے بڑ ا چیلنج معیشت تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا ، شروع میں آئی ایم ایف نے سخت شرائط لگائیں، اب معاملات کنٹرول میں ہیں، پاکستان سے ایک لاکھ ورکرز قطر جائیں گے، آئندہ 3ہفتوں میں ملک کیلئے اچھی خبر آئے گی۔ اسی اچھی خبر کی بنیاد پر ملکی مسائل حل ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ نومبر بہت دور ہے جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے متعلق نہیں سوچا۔پہلے شریف خاندان شور مچا رہا تھا اب زرداری ، حکومت کا نیب پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی علماء کرام کے وفد سے ملاقات