مزدور

مزدور کو پوری اجرت دینے کا حکم

EjazNews

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’تین شخص ایسے ہیں، جن سے قیامت کے روز اللہ جھگڑا کرے گا۔
ایک وہ، جو میرے نام پر وعدہ کرے اور پھر عہد شکنی کرے۔
دوسرا وہ، جو کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائے۔
تیسرا وہ، جو کسی کو مزدوری پر رکھے،اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے۔‘‘ (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث کے مطابق، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ کو تاکید فرمایا کرتے تھے کہ کسی بھی کام کے کروانے کی صورت میں اس کی پوری اجرت بروقت ادا کردو۔ بعض اوقات بڑی دلچسپ صورت حال بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ صحابی ؓ کام کی پوری مزدوری دینا چاہتے تھے، لیکن کام کرنے والے صحابی ؓکم اجرت لینے پر اصرار کرتے، یوں دونوں میں بحث چھڑجاتی۔ مزدور اس خیال سے کم لینا چاہتا تھا کہ مبادا کہیں کام میں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو اور آجر مقرر کردہ اجرت سے زیادہ اس لیے دینا چاہتا تھا کہ مزدور نے مقررہ کام سے زیادہ کام نہ کردیا ہو اور اللہ کے یہاں پکڑ نہ ہو جائے۔حضرت ابراہیم ادھم کا ذریعۂ معاش محنت مزدوری تھا۔ بسا اوقات وہ اس بناء پر مزدوری لینے سے انکار کردیتے تھے کہ کہیں ان سے کام میں سستی نہ ہوگئی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کام کرنے والے کو اس کام کے منافع سے حصہ ادا کرو، کیونکہ محنت کرنے والا اللہ کی طرف سے نامراد نہیں ہوتا۔‘‘ (مسند احمد)
ایک اور حدیثِ مبارکہ ﷺہے ’’جس شخص نےمزدور سے کام پورا لیا، مگر معاوضہ پورا نہیں دیا، میں اس کے خلاف قیامت کے روز اللہ کی عدالت میں خود مقدمہ لڑوں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں شراب خوری کی سزا