خوش آمدید پاکستان مہاتیرمحمد

EjazNews

مہاتیر محمد 10جولائی 1925ء کو ملائیشیا میں پیدا ہوئے، پڑھا لکھا گھرانہ تھا والدہ اور والدہ دونوں اساتذہ تھے۔ اور ان کے ہاں ایک ہونہار طالب علم پید ہواتھے، دوران سکول انہوں نے جنگ عظیم دوم بھی دیکھی کیونکہ اس جنگ کے دوران ملائیشیا کے تمام سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا،لہٰذا مہاتیر محمد نے جنگ کے دوران ایک کیفے ٹیریا بھی کھولا تھا لیکن جنگ کے خاتمے پر انہوں نے اپنی تعلیم کی طرف توجہ دی اور گریجوایشن مکمل کی۔ گریجوایشن کے بعد انہوں نے سنگاپور کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹریٹ پاس کیا اور یہیں ان کو ان کی بیوی بھی مل گئیں اور آج تک یہ جوڑا کامیاب زندگی گزار رہا ہے، ان کے ہاں 6بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔
جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہی انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔1964ء کو انہوں نے پہلی دفعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد مسلسل سیاسی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا رہا ،لیکن بالآخر16جولائی 1981ء کو وہ وزیراعظم بن گئے۔پہلی دفعہ وہ 1981ء سے 1987ء تک وزیراعظم رہے ،دوسری دفعہ 1987سے 1990ء، تیسری دفعہ 1990ء سے 1998ء ،چوتھی دفعہ 1990ء سے 2003ء تک وزارت عظمی کے عہد پر فائز رہے۔ 2003ء کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی ، 22سال تک انہوں نے اپنے ملک کے سیاہ و سفید کے معاملات کا فیصلہ کیا۔لیکن اس طویل عرصے میں ملائیشیا دنیا کے نقشے پر ترقی کی منازل طے کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ آپسی جھگڑے ختم کر لیے گئے۔ دنیا کی بلند ترین عمارتیں وہاں بنیں ،لوگ خوشحال ہوئے، باہر پڑھنے اور علاج کروانے والے ملائیشیاء میں وہ ساری سہولتیں حاصل کرنے لگ پڑے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ملتی ہیں۔ آج ملائیشیا دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے اس کی سیاحتی انڈسٹری اربوں ڈالر کی ہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے وہ ملکی معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ 2018ء میں جب انہوں نے محسوس کیا کہ ملک کے حالات سنگین نوعیت کے ہیں اور ملک کو ان کی ضرورت ہے تو انہوں نے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کے بعد ملائیشیا کے عوام نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔اور10مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ آج پھر وہ وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر 40 سال پر محیط ہے۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا، ملے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا ۔اس کے لیے ملائیشیا ان کو کبھی بھول نہیں سکتا ۔ انہوں نے سنگا پور کی علیحدگی ایک سیاسی اصول کے تحت کی جس کا فائدہ ملائیشیا کو ہوا،آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا حل مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ ان جیسے رہنمائوں کی آج امت مسلمہ کو اشد ضرورت ہے۔ آج وہ دنیا کے سب سے طویل العمر حکمران ہیں لیکن اس طویل العمری میں ایک تجربہ بھی پنہاں ہے جس کا فائدہ ملائیشیا اور اسلامی ممالک اٹھا سکتے ہیں ۔
سوشل میڈیا کی اطلاعات کے مطابق مہاتیر محمد کے دادا جان کا تعلق پاکستان کے خطہ کوہاٹ سے تھااور وہ یہاں سے ہجرت کر کے ملائیشیا گئے تھے۔ ان کی والدہ وہی سے ملے قوم کی تھیں ۔ اگر یہ حقیقت سو فیصد سچ ہے تو مہاتیر کا دوسرا گھر تو پاکستان ہے۔ آپ کے آباؤاجداد پاکستانی ہیں ۔ خوش آمدید پاکستان

یہ بھی پڑھیں:  کین پیکنگ کتنی خطرناک ہے؟