Suprem court

جھوٹی گواہی دینے والے کو سزاملے گی:سپریم کورٹ

EjazNews

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے 33صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی پر جھوٹے گواہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سچ انصاف کی بنیاد ہے اور انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، سچ پر سمجھوتہ دراصل معاشرے کے مستقبل پر سمجھوتہ ہے۔ہمارے عدالتی نظام کو سچ سے انحراف کرن ے کا بہت نقصان ہوا، اس سنگین غلطی کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جو ایک جگہ جھوٹا ہوگا وہ ہر جگہ جھوٹا ہوگا، گواہی کے کسی حصے میں جھوٹ پر ساری گواہی جھوٹی تصور ہوگی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم یک لچک نہ دکھائیں اور جھوٹی گواہی دینے پر کارروائی کی جائے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، ایمان کا تقاضا ہے کہ سچی گواہی دی جانی چاہیے ،سچی گواہی کی عدم موجودگی میں انصاف ممکن نہیں، جھوٹے کی حمایت سے نا انصافی اور انصاف کے خلاف جارحیت کو فروغ ملتا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام بھی گواہی میں حقائق چھپانے سے روکتا ہے، جھوٹی گواہی انصاف اور مساوات کو نقصان پہنچاتی ہے اور جھوٹی گواہی عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات