موٹاپے سے بچنے کیلئے چکنائی کی کمی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے

EjazNews

جسم میں زیادہ چربی جمع ہونے کا نام موٹاپا ہے یہ اپنے آپ میں کوئی مرض نہیں ہے لیکن یہ بہت سے امراض کا دروازہ کھولتا دیتا ہے۔موٹاپے کا ایک سبب چکنائی کی زیادتی بھی ہوتا ہے۔آج کے دور میں ہر شخص کو سمارٹ نظر آنے کے لیےمشوروں کی بھرمار اور ادویہ کا سہارا لیتے ہوئے مکمل طور پر چکنائی کا استعمال ترک کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جہاں خوراک کے اجزائے ترکیبی کی زیادتی مختلف عوارض کا سبب بنتی ہے، وہیں ان کی کمی بھی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک صحت مند فرد کو اوسطاً 6سوگرام غذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں، جو وہ نشاستہ، لحمیات، چکنائی اور وٹامنز کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ غذا میں ان اجزاء کا شامل ہونا ہی ’’متوازن غذا‘‘ کہلاتا ہے۔ یعنی متوازن غذا سے مراد وہ غذا ہے، جس میں ایسے غذائی اجزاء شامل ہوں، جن سے جسم کی نشوونما بہتر ہو، صحت برقرار رہے اور روزمرہ کے امور عمدگی سے انجام دیئے جا سکیں۔
جسم کی بہتر نشوونما کے لیے درکار اجزاء میں دالیں، دودھ اور اس سے بنی اشیاء، انڈے، گوشت، مٹر اور مونگ پھلی وغیرہ شامل ہیں،
جسم کو توانائی اور حرارت فراہم کرنے والی غذائیں گندم، چاول، مکئی، جَو، باجرہ اور آلو اور اس سے تیار کردہ اشیاء شامل کی گئی ہیں
روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے جسم کو طاقت فراہم کرنے والی غذائوں میں شکر، چینی کے علاوہ چکنائی، سویابین، کھوپرا، سرسوں، زیتون، مونگ پھلی، سورج مکھی اور مختلف اقسام کے بیجوں سے تیار کردہ تیل اور مارجرین وغیرہ شامل کیے گئے ہیں۔
ہاضمے کو تقویت فراہم کرنے اور غذا کی افادیت بڑھانے والے غذائی اجزاء وٹامنز اور نمکیات پر مشتمل ہے، جنہیں سورج کی روشنی اور دیگر غذائوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً گہرے ہرے رنگ کی پتوں والی سبزیاں، ٹماٹر، گاجر، سلاد اور پھلوں میں آم، پپیتا، لیموں اور سنگترا وغیرہ۔ علاوہ ازیں، متوازن غذا کا ایک اہم جز پانی بھی ہے، جو ہمارے جسم میں مختلف غذائی اجزاء کو بافتوں تک پہنچانے اور ہضم ہونے والے اجزاء کے اخراج میں کام آتا ہے۔
جب ہماری غذا میں کسی ایک جزو کی پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، نمکیات، وٹامنز اور پانی کی بھی کمی ہوجائے اور باقی اجزاء کا تناسب بھی برقرار نہ رہے، تو پھر کئی طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ چہرے اور پیٹھ پر کیل، مہاسے، جلد پر سوجن، جلد کا بے رونق ہوجانا، جلد کی سرخی، خشکی اور مچھلی کی جلد جیسے نشانات ظاہر ہونا، سورائسز، ایگزیما، جسم کی جھریاں، بینائی کا متاثر ہونا، بال خشک اور بے رونق ہو جانا، بالوں کا گرنا، یاسیت، یادداشت کی کمزوری، چال میں لڑکھڑاہٹ، چلتے ہوئے پیروں کا مڑ جانا، عضلات میں درد اور کمزوری، ایڑی کا پھٹ جانا، بازو یا کہنی پر ابھار بننا، ناخنوں کا سست رفتاری سے بڑھنا، آنکھوں اور منہ کا خشک رہنا، کانوں میں میل کی زیادتی، زیادہ پیاس لگنا، دمہ، جوڑوں میں سختی، ذیابطیس اور خاص طور پر خواتین میں دوران ماہ واری شدید تشنج جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ عموماً چکنائی کی کمی کے شکار مریض جب معالج سے رابطہ کرتے ہیں، تومعالج انہیں بتاتا ہے کہ انہیں کوئی مرض نہیں، بلکہ یہ علامات چکنائی کی کمی کے سبب ظاہر ہو رہی ہیں، تو زیادہ تر افراد غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی فرد موٹاپے کا شکار ہے اور وہ اس سے نجات کے لیے چکنائی کا استعمال ترک کر بیٹھا ہے، تو وزن میں کمی کے ساتھ وہ کئی طبّی مسائل کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ سوسب سے بہتر تو یہی ہے کہ وزن میں کمی کے لیے کسی ماہر معالج سے رجوع کیا جائے تاکہ وہ آپ کیلئے جسم کو درکار غذائی اجزاء کی ضرورت کے مطابق ایک غذائی چارٹ مرتب کر سکے۔
اگر معالج سے رابطہ نہیں کرنا چاہتے تو قدرتی علاج کے طور پر خوراک آہستہ آہستہ گھٹاتے ہوئے کچھ دن صرف پینے والی چیزوں سے گزارہ کریں پھر ضرورت کے مطابق کچھ دن بغیر آگ کی پکی کچی چیزیں کھا کر رہیں۔ بعد میں عام خوراک پر آنے پر آٹے کی روٹی اور ابلی ہو ئی سبزیاں لیں۔ صبخ خالی پیٹ نیم گرم پانی میں نیمبو کارس ڈال کر پئیں۔ غذا کو منہ میں اتنا چبائیں کہ منہ میں ہی پانی ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  گرمی سے بچاؤکیسے ممکن ہے؟
کیٹاگری میں : صحت