انڈونیشیا میں سیلاب، 88سے زائد افراد ہلاک

EjazNews

انڈونیشیاء 17000جزائر پر مشتمل اسلامی ملک ہے۔ اس میں سیلابی اور طوفان زندگی کا حصہ بنتے جارہے ہیں ۔ جب بھی کوئی طوفان یا سونامی کی لہر آتی ہے تو اس سے نقصان اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ انڈونیشین باشندے پہاڑی سلسلوں کے قریب رہتے ہیں۔ انڈونیشیا کے صوبے پاپوا میں آنے والے سیلاب نے نظام زندگی کو مفلوک کر دیا ۔درجنوں افراد کا کچھ اتا پتا نہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا ءکے صوبے پاپوا کے کئی علاقے زیر آب ہیں جبکہ ریسکیو عملے کی جانب سے امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں، انڈونیشین حکام نے مزید ہلاکتوں کاخدشہ ظاہر کیا ہے۔ انڈونیشیا کے متاثرہ علاقوں میںپندرہ دن کیلئے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ تقریباً 6ہزار 8سو افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔انڈونیشیا میں بارشوں سے موسمی طوفانوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب آنے کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں ۔ اس سے پہلے متعدد واقعات میں سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں۔
یاد رہے گزشتہ برس دسمبر میں انڈونیشیا میں سونامی کی لہریں ساحل سے ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 429افراد ہلاک اور 16سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا وائرس : پھیلاﺅ کے خطرے کے پیش نظر واہان شہر سیل