husban and wife

اسلام میں بیوی کے حقوق اور شوہر کے فرائض

EjazNews

شادی کے بعد عورت اپنے والدین، بہن، بھائیوں اور گھربارکو چھوڑ کر شوہر کے گھر آتی ہے، لہٰذا اس اجنبی ماحول میں شوہر کی اولین ذمداری ہے کہ اسے ماحول سے مانوس ہونے اور گھر والوں سے قریبی تعلقات پیدا کرنے میں اس کی مدد و رہنمائی کرے۔
٭بیوی کی کفالت شوہر کی ذمداری ہے، لہٰذا اس کے جملہ اخراجات و ضروریات مثلاً غذا، لباس، رہائش وغیرہ اپنی استطاعت کے مطابق فراہم کرے۔ اس معاملے میں بخل سے کام نہ لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’ بیویوں کا روٹی کپڑا تم پر واجب ہے۔ بیوی کا حق ہے کہ شوہر اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اس کے ساتھ پیار و محبت کرے، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والے شوہروں کو امت کے بہترین اشخاص قرار دیا ہے۔ بیوی کا حق ہے کہ شوہر اس کے ساتھ حسنِ معاشرت، ہنسی مذاق، بے تکلفی اور خوش روئی سے پیش آئے۔ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرے۔ خوش اخلاقی، نرم خوئی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرے۔
٭ہر بیوی کا یہ حق اور خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر عفوودرگزر سے کام لیتے ہوئے پیار و محبت سے اس کی اصلاح کرے اور اس عمل کو جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ اس کی مرضی ومنشاکے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔
٭بیوی کا یہ حق ہے کہ اس کا شوہر اس پر مکمل اعتماد و بھروسا کرے اور گھریلو معاملات کو بہ احسن طریقے سے چلانے میں اس کی مدد کرے۔
٭بیوی کا حق ہے کہ اس کا شوہر اس کے والدین بہن، بھائی اور دیگر رشتے داروں کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے۔
٭شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کے جملہ رازوں پر پردہ رکھے اور انہیں دوسروں پر ظاہر کرکے اسے رسوا نہ کرے۔
٭بیوی کا حق ہے کہ اس کا شوہر اس کے عیبوں، کوتاہیوں اور لغزشوں کی پردہ پوشی کرے۔ انہیں عام کرتا نہ پھرے۔
٭شوہر پر لازم ہے کہ وہ بغیرتصدیق اور ثبوت کے بیوی پر بدگمانی کرے، نہ تہمت لگائے۔اکثر اوقات بعض شکی مرد اپنی بیویوں پر محض شک کی بناء پر یا غصے میں بدگمانی کرتے ہیں۔ بیوی پر اس طرح کا شک و بدگمانی اور تہمت لگاناگناہ عظیم ہے۔
٭بیوی کا یہ حق ہے کہ اس کا شوہر اس کے سامنے کسی دوسری عورت کے حسن و جمال اور خوبیوں کی تعریف نہ کرے،کیونکہ اس طرح اس کے دل میں بدگمانی اور شبہ پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے۔
٭بیوی اس بات کی متمنّی ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کی اور اس کے کاموں کی تعریف کرے۔ یہ عمل گھر کے ماحول کو خوش گوار بناتا ہے۔
٭نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’ ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیا کرو۔‘‘ لہٰذا یہ بیوی کا حق ہے کہ اس کا شوہراپنی حیثیت کے مطابق تحفے تحائف دیا کرے۔ اس طرح شوہر اور بیوی میں محبت و پیار کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
٭بیوی کا یہ حق ہے کہ اس کا شوہر اس کا بہترین دوست، مددگار اور محافظ ہو۔
٭ملازمت پیشہ خواتین، معاشی مسائل کے حل میں شوہر کی معاون ہوتی ہیں۔ ان خواتین کا یہ حق ہے کہ ان کے شوہر ان خواتین کے ممنون ہوتے ہوئے گھر کے جملہ معاملات میں ان کی معاونت کریں۔
٭بیوی کو اسلام نے یہ حق دیا ہے کہ اس کا شوہر خوش دلی سے (فرض جانتے ہوئے) اسے مہر کی ادائیگی کرے۔
٭ حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ بیوی بچوں کی فکر کرنا، ان کے راحت و آرام کے لیے جدوجہد کرنا، راہ خدا میں جہاد کرنے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چند حرام کردہ امور