20کروڑ انسان کیسے مرے؟

EjazNews

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ بلیک ڈیک یعنی طاعون سے موت کو سمجھا جاتا ہے۔1346ءسے 1353ءکے 7سالوں میںساڑھے سات کروڑوں اور زیادہ سے زیادہ 20کروڑ لوگ لقمہ اجل بنے۔اس موت کا ذمہ دارچوہوں کو سمجھا جاتا رہا۔ تاریخی کتب کے مطابق طاعون سے پھیلنے والے وبائی مرض نے آدھی دنیا کو نیست و نابود کر دیا اورکروڑوں لوگ لقمہ اجل بنے لیکن اب حال ہی میں دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے مضمون میں انکشاف کیا کہ اس موت کا ذمہ دار پاکیزگی ترک کر دینے والے انسان تھے ناکہ چوہے۔ طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ موت دراصل بیکٹریم یمسیمینیا پیٹسBacteruium Yersini Pestisسے پھیلی اور اس وائرس کے اثرات 19ویں صدی کے اوائل تک بیماریوں اور موت کا سبب بنتے رہے اب دنیا کی دو مائع ناز یونیورسٹیوں یونیورسٹی آف آسلے اور یونیورسٹی آف سیلینا کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق سے انکشاف کیا کہ 20کروڑ افراد کی موت کا سبب بننے والا وائرس انسانی سلیفFlefal اور Lice سے پھیلا۔ سائنس دانوں نے یورپ میں 14ویں اور 19ویں صدی میں دو دفعہ پھیلنے والی طاعون کی وبا کا تمام تر ڈیٹا اکٹھا کیا تب پتہ چلا کہ یہ انسانوں کے کپڑوں پر پائے جا نے والے فلید اور لائس سے پیدا ہوا اور اس نے کوپن ہیگن ، سٹاک ہوم، ماسکو ، کیف ، ویانا، کولون، میلان، روم، پیرس اور لندن کی تمام وادیوں کو ملیا میٹ کر دیا ۔
طاعون کی وبا قسطنطنیہ سے شروع ہوئی پھر ماسکو، روم ، بارسلونا، ماسلیس، پیرس، میلان،لندن، کولون، کوپن ہیگن اور سٹاک ہوم کے کروڑو ں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔سائنس دانوں کی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ درجنوں حصوں میں موت کا سبب انسان ہی تھے۔ اس وبائی مرض کے پھیلنے کی وجہ کوئی اور دکھائی نہیں دیتی ۔ نیشنل اکیڈیمی آف سائنس کے محققین نے بھی اس نکتہ سے اتفاق کیا ۔اکیڈیمی کے محققین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ تصور عام ہے کہ چوہوں اور ان کی گندگی سے طاعون کی وبا پھیلی لیکن دوسرے پھیلاﺅ کے دوران اس دعوے کی تصدیق کے ثبوت میں کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں ۔ طاعون کی صورت میں بروقت علاج نہ ہونے پر موت کی شرح 30فیصد سے 60فیصد تک ہوتی ہے ۔14ویں صدی میں اتنی بڑی آبادی کے نیست و نابود ہونے کو بلیک ڈیک کہا گیا جب کم از کم 5کروڑ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ طاعون کا شکار افراد ابتدائی طور پر خون جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں طاعون کی تین اشکال ہیں۔ اور ان کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس کا وائرس کس طریقے سے جسم میں داخل ہوا ۔ سانس کے راستے داخل ہونے کی صورت میں نمونیا کے اثرات اور اس کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ انفکشن کا ذریعہ اگر ببونک ہے یا سیپٹی شیمک ہے تو اسی قسم کی علامات ظاہرہوں گی۔ پھر تکلیف دہ ورم ہوگا اور یہ لیف میں سویلنگ ہوگی اس کی جلی متاثر ہوگی جبکہ تیسری قسم ببونز کی ایک زیادہ عام شکل ہے۔ یہ وبائی مرض اب بھی کئی ممالک میں پایا جاتا ہے جن میں میڈاگاسکر ، کانگو اور پیرو میں یہ جان لیوا وباءدوسرے ممالک سے کہیں زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے۔ 2010ءسے 2015ءتک طاعون کے دنیا بھر میں 3248کیسز سامنے آئے اور ان کیسز میں 584افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔سائنس دانوں کے بقول طاعون کی صورت میں یہ مرض کافی حد تک زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دنیا کی کم و بیش 60فیصد آبادی ختم ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھاپے کو جوانی کی طرح گزارئیے
کیٹاگری میں : صحت