Travel-Industry-in-Pakistan-Banner

کرتار پور راہدی ایک سنگ میل ہے

EjazNews

کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر اس کو تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو ہمارا خطہ تاریخی، ثقافتی ورثہ کا گڑھ ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ بنی نوع انسان کی پہلی نسلوں سے یہاں انسان آباد ہیں ۔ مونجو داڑو کو عالمی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں کے مذاہب بھی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی عبادت گاہیں ہیں اور ان کی یہ عبادت گاہیں ایسی ہی ہیں جیسی کہ مسلمانوں کے لیے ارض مقدس ہے۔ شمالی علاقہ جات کے علاوہ پورے پاکستان کے مختلف مقامات پر ہندوئوں کی تاریخی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ پاکستان میں موجود آنسو جھیل کو ہندو مت میں شیو کے آنسوئوں سے بنی ہوئی جھیل کہا جاتا ہے ان کے مطابق یہ جھیل شیو کے آنسوئوں سے بنی تھی۔ جبکہ پاکستانی مسلمانوں کیلئے ہندوستا ن میں اولیاء اللہ کے مزارات اور ان کے اپنے آباؤ اجداد کی قبریں کھچائو رکھتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ شدت پسندی کے ہاتھوں یر غمال ہے۔ سکھ مذہب کے ماننے والے ہندوستان سے دوربینوں کے ذریعے سے اپنی عبادت گاہ کی زیارت کرتے تھے جبکہ ہندوستانی حکومت نے کبھی اپنی اقلیت کے لیے اس پر پاکستان سے بات نہیں کی۔ لیکن جس نے اپنے لوگوں کے لیے بات کی وہ ہندوستان میں غدار کہلایا۔ پاکستان نے اس مذہبی عبادت گاہ کو سکھوں کے لیے کھول دیا ہے تاکہ وہ آئیں اور اپنی عبادت کریں ۔

مغل بادشاہوں کا تعمیر کردہ تاج محل دنیا بھر سے لوگ دیکھنے کے لیے انڈیا میں آتے ہیں

آپ ا یک بات پر غور کریں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ کر کے مسلمانوں کو شہید کر نے والا اور اس ملک کو پوری دنیا میں بدنام کرنے والا ایک آسٹریلوی باشندہ تھا اس کا تعلق آسٹریلیا سے تھا ۔ کیا اس واقع کے بعد نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں یا پھر آسٹریلیا سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے یا پھر ان سے سماجی ، سیاسی، ثقافتی روابط کی قطع تعلقی کے بارے میں آپ نے کوئی خبر پڑھی یا سنی ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن ہمارے خطے میں کچھ لوگ صرف سیاست ہی پر تشدد کرتے ہیں ۔ اگر کچھ بھی ہو جائے تو سب سے پہلے ثقافتی روابط توڑو، قطع تعلقی کرو، معاملات ختم کرو، تجارت ختم کرو ، بس کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈو جس سے یہ محاظ گرم رہیں ۔ اور سیاست عروج پر چلتی رہے جبکہ اپنے اپنے ملکوں کے لوگوں کو غربت میں دھکیلتے جائو۔ کھربوں روپے کے رافیل طیارے خرید لو لیکن بھوک سے مرتے کروڑوں بچوں کو ایک وقت کی روٹی دینے کے بارے میں مت سوچو کیسے انسان ہیں۔ کشمیر میں جو واقع ہوا اس میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا وہ گاڑی پاکستان سے نہیں گئی، وہ بارود پاکستان سے نہیں گیا، سب کچھ انڈیا سے گیا ، انڈیا میں تباہی ہوئی لڑائی پاکستان سے اور ایسا ماحول بنوایا گیاکہ شاید پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ حالانکہ دو ایٹمی پاوروں کے درمیان جنگ کا سوچنا بھی جہالت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے۔ کچھ انڈین میڈیا نے ایسے تاثر دئیےجیسے پاکستان نے انڈیا کے دبائو میں آکر گرفتار پائلٹ کو چھوڑا ہے لیکن بھلا ہو چند عقلمندوں کا جنہو ں نے باور کرایا اگر اتنا ہی دبدبہ اور ر عب ہوتا تو کلبھوشن یادیو کے لیے عالمی عدالتوں میں رہائی کے لیے اپیلیں لیے پھرتے۔ بحرکیف یہ ایک طویل بحث ہے ۔
لڑائیوں سے ہفت کر اگر دونوں ممالک کرتار پور کی طرح مذہبی سیاحت کو فروغ دیں تو اس سے دونوں ملکوں کے عوام کے ساتھ ساتھ حکومتوں کا بھی فائدہ ہوگا کیونکہ جو بھی سیاحت کے لیے آئے گا یا جائے گا وہ وہاں پر کچھ خرچ کر کے جائے گا۔ وہ اس ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ پھر نفرتیں بھی کم ہوں گی۔ عالمی ثقافتی ورثہ میں پاکستان کے 6تاریخی مقامات شامل ہیں اسی طرح ہندوستان کے بھی ہیں اگر صرف مذہبی سیاحت کے فروغ پر توجہ دی جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ دوسری سیاحت بھی ضروری ہے لیکن مذہبی سیاحت دونوں ممالک کے لیے ایک خاص کھچائو رکھتی ہے۔ اور کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے ۔ امید ہے کرتار پور راہداری منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا۔اور دونوں ممالک ملک بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دیں گے۔ پاکستان کی طرف سے ایسا کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن انڈین الیکشن میں پاکستان کارڈ سب سے اہم ہوتا ہے۔ وہاں نفرت کی سیاست نے اپنے پنجھے پوری طرح گاڑھ لیے ہیں۔ یاد رکھئے نفرت صرف تباہی لاتی ہے اس سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ محبوبہ مفتی کے ٹویٹ بیان پر میں اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہو کہ
’’پوچھ گچھ کے نام پر کشمیریوں نوجوانو ںکو گھروں سے اٹھا کر تابوت میں گھر واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔مرکزی سرکار کی طاقت پر مبنی پالیسیاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہی ہیں۔ وطن پرستی کے جنون کے مظاہر کے لیے کشمیر کو استعمال کرنا بند کیا جانا چاہیے۔ کشمیریوں نے بے شمار مصیبتیں برداشت کی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  28اپریل 1977ءمیں بھٹو کا پارلیمنٹ سے خطاب

اگر کرتار پور کی تاریخ لکھنے بیٹھوں تو شاید اس آرٹیکل کی کئی قسطیں کرنی پڑیں۔ بحرکیف تاریخ میں سے چند الفاظ بابا گرونانک کے بارے میں لکھنے لگا ہوں جو آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔

تاریخ کے مطابق، 1539ءمیں جب بابا گرو نانک کا دیہانت ہوا، تو مقامی سکھوں اور مسلمانوں میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔ دونوں اپنی اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتے تھے۔ اگرچہ اس حوالے سے کئی اور متنازع روایات بھی موجود ہیں، لیکن سکھوں اور مسلمانوں کی مقامی آبادی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخری لمحات میں بابا گرونانک کا جسدخاکی چادر کے نیچے سے غائب ہوگیا تھا اور اس کی جگہ مقامی آبادی کو کچھ پُھول ملے تھے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی تاریخ میں درج ہے کہ بابا جی کی میّت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک حصّہ مسلمانوں نے اپنے طریقۂ کار کے مطابق دفنایا، تواس کے ساتھ ہی دوسرا حصّہ سکھوں اور ہندوئوں نے اپنے مذہبی طریقے سے اور اسی مقام پرگوردوارہ کرتارپورتعمیر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی قربانی