islam-muslims

پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق چنداحادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم

EjazNews

زمانہ جدت اختیار کرتا جارہا ہے اور حالات یہ ہیں کہ آج برسوں بیت جاتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے پڑوس کے گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں اور ان سب کے نام کیا کیا ہیں، جبکہ اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بڑی اہمیت ہے۔ چند احادیث مبارکہ ہم نے آپ کیلئے اکٹھی کی ہیں جن میں پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق فرمایا گیا ہے
٭ہم سایوں کی خبرگیری کرو، ان کی حاجات پوری کرو اور انہیں تحائف دیا کرو۔ (صحیح مسلم)
٭سچا مسلمان اپنے پڑوسی کے ساتھ نرمی کا برتائو کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
٭وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کی شرارتوں اور ایذاء رسانیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ (صحیح مسلم)
٭تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ (صحیح مسلم)
٭اپنے پڑوسی کو اپنی ہانڈی کی خوشبو سے تکلیف نہ پہنچائو۔ (صحیح مسلم)
٭جب تم کوئی شوربے والی چیز پکائو، تو اس میں شوربا زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔ (صحیح مسلم)
٭کامل انسان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذاء سے تمام مسلمان محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری/صحیح مسلم)
٭جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ (صحیح بخاری)
٭’’اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں، جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)
٭جو شخص اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین رکھتا ہو، اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔ (صحیح بخاری)
٭حضور ﷺنے فرمایا’’ حضرت جبرائیل ؑنے مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے یہ خیال گزرا کہ شاید اسے وارث ہی ٹھہرادیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری)
٭جس ہمسائے کا دروازہ قریب ہو، ہدیہ دینے میں اس کو ترجیح دینی چاہیے۔ (صحیح بخاری)
٭رسول اللہ ﷺنے حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا۔ ’’لوگو! میں تمہیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری)
٭کسی مسلمان پر روا نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ (صحیح بخاری)
٭ہمسائے کے تحفے کو حقیر نہ جانو، چاہے وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح بخاری)
٭کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے منع نہ کرے۔ (صحیح بخاری)
٭اللہ ایسے شخص پر رحم نہیں فرماتا، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (صحیح بخاری)
٭اللہ کے یہاں بہترین وہ ہیں، جو اپنے ہم سائے کے لیے بہترین ہیں۔ (ترمذی)
٭برے پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ (نسائی)
٭جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکا محبوب بنے، تو وہ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک کرے۔ (البیہقی)
٭غریب پڑوسی کی مدد نہ کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (طبرانی)
٭پڑوسی کے گھر جھانکنے والا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ (طبرانی)
٭وہ شخص جنت کا مستحق ہے، جو اپنے پڑوس کی بداخلاقیوں، اذیتوں اور لغزشوں پر صبر کرتا ہے۔ (طبرانی)
٭وہ شخص مومن نہیں، جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا سوئے۔ (طبرانی)
٭پڑوس کی خواتین پر بری نظر ڈالنے والا جہنم کا حق دار ہے۔ (طبرانی)
٭آپس میں ہدیہ لیا اور دیا کرو، کیوں کہ یہ دل کے کینے کو دور کرتا ہے۔ (مشکوٰۃ)
٭جب تم میں سے کوئی اپنی جائیداد بیچنے کا ارادہ کرے، تو بیچنے سے پہلے اپنے پڑوسی سے اجازت لے۔ (ابن ماجہ)
٭پڑوسیوں کو دین سکھانا اور ان سے دین سیکھنا، باعث ثواب ہے۔ (معارف الحدیث)
٭برا پڑوسی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ (الادب المفرد)
٭ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ (سیرت النبیؐ)
٭نیک پڑوسی بڑی عظیم نعمت ہے۔ (اصلاحی خطبات)
٭پڑوسی کی ایذاء پر صبر کرنے والوں کی بڑی فضیلت ہے۔ (حضرت ابوذرؓ)
٭نیک پڑوسی سعادت مندی کی نشانی ہے۔ (مجمع الزوائد)
٭ہمسائے کی عزت و حرمت ہمسائے کے لیے ماں کی حرمت کی طرح ہے۔ (حضرت سعید بن المسیبؓ)
٭قیامت کے دن کتنے ہی پڑوسی اپنے پڑوسی کو پکڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور، اس کے برے سلوک پر فریاد کریں گے۔ (درّمنثور)

یہ بھی پڑھیں:  زہد و قناعت