نواز شریف کی درخواست ضمانت 26مارچ تک ملتوی

EjazNews

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا ‘نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے، آپ نے ان کی ساری رپورٹس لگائی ہیں۔
وکیل نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ 29 جولائی 2018 سے نواز شریف کی مختلف میڈیکل رپورٹس لگائی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں تمام میڈیکل رپورٹس پڑھنا ہوں گی۔
دوران سماعت خواجہ حادث نے نواز شریف کی طبی رپورٹ عدالت میں پیش کیں اور اپنے دلائل میں کہا کہ تمام رپورٹس میں ڈاکٹرز نے نواز شریف کی طبیعت خراب بتائی ۔ نوازشریف کے طبی معائنے کے لیے 4ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنا جس میں پی آئی اور آر آئی سی کے ڈاکٹرشامل تھے۔16جنوری اور5فروری کی رپورٹس کے مطابق نوازشریف کی صحت درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لیے 5مختلف میڈیکل بورڈبنائے گئے، پہلا میڈیکل بورڈ 17جنوری کو بنا ، پی آئی سی کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے رپورٹ دی تھی۔ دوسری میڈیکل ابتدائی رپورٹ جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز کی آئی ۔تیسری میڈیکل رپورٹ 30جنوری 2019ءکو آئی، چوتھی رپورٹ سروسز ہسپتال کی 5فروری کو آئی اور پانچویں میڈیکل رپورٹ بھی جناح ہسپتال کی طرف سے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے وکیل نے لندن کے ڈاکٹر کے خط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ڈیوڈ آرم لارنس ان کا علاج کر رہے تھے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 15جنوری کو نواز شریف نے بازو اورسینے میں درد کی شکایت کی۔
چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا لندن کی رپورٹس یہاں کے ڈاکٹرز کو نہیں دی گئیں، ہم پمز کی پہلی رپورٹس دیکھنا چاہیں گے، پہلی رپورٹ میں نواز شریف کی عمر 65 اور دوسری میں 69 سال ہے، ڈاکٹر نے نواز شریف کی عمر 4 سال بڑھا دی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا 17 جنوری 2019 کو نواز شریف کی دوسری میڈیکل رپورٹ آئی، دوسری رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا بلڈ پریشر کافی زیادہ ہے، انہیں گردے میں پتھری، ہیپا ٹائٹس، شوگر اور دل کا عارضہ ہے، رپورٹس اس لیے دیکھ رہے ہیں کہ کیا انہیں یہ چاروں پرانی بیماریاں ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا سب کو معلوم ہے کہ نواز شریف مختلف بیماریوں کی ادویات استعمال کرتے ہیں، الیکشن سے قبل نواز شریف جلسے جلوس اور ریلیاں بھی نکالتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین جاسوس کلبھوشن کے فیصلے پر ملکی اور غیر ملکی رہنما کیا کہتے ہیں؟