Kidnapped-kids

ہوشیاری

EjazNews

عثمان ایک بہت اچھا لڑکا ہے۔ وہ ہر کسی کی بات مانتا ہے۔ ایک دن اس کے ابو نے اسے کہا کہ اگر تم جماعت میں اوّل آئو گے تو میں تمہیںسائیکل لے کر دوں گا پھر کیا تھا عثمان نے دن رات محنت شروع کر دی۔ آخر کار اپنی جماعت میں اوّل آگیا۔ پھر ا ُس نے ابوکو ان کا وعدہ یاد دلایاتو انہوں نے کہا بیٹا کل لے دوں گا۔
صبح کا وقت تھا سب ناشتہ کر رہے تھے کہ عثمان نے ابو کو پھر سے وعدہ یاد دلایا بیٹا تنخواہ ملنے میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں جب تنخواہ ملے گی تو لے دوں گا۔ عثمان کو بہت غصہ آیا ،اس نے سب سے جھگڑا شروع کر دیا اور بغیر ناشتے کے سکول چلا گیا۔
سکول میں چھٹی ہوئی تو سب بچے سکول سے اپنے گھر کی راہ لیے۔ عثمان بھی اپنے دوست خالد کے ساتھ نکل آیا ۔ ابھی دونوں آگے جاہی رہے تھے کہ انہیں رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ان دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ روتا ہوا نظر آیا۔ عثمان نے اپنے دوست خالد کی طرف دیکھا۔ ان دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ روتا ہوا نظر آیا۔ حامد نے اپنے دوست خالد کی طرف دیکھا پھر بچے کی طرف متوجہ ہوا۔ کیا ہوا کیوں رو رہے ہو۔ بچے نے کہا میں اپنے گھر کا راستہ بھول گیا ہوں۔ کیا تم میری مدد کرو گے، عثمان بولا کیوں نہیں چلو تمہارا گھر ڈونڈتے ہیں۔ عثمان نے اپنے دوست خالد کو کہا چلو خالد چلتے ہیں۔خالد بولا مجھے نہیں لگتا یہ سچ بول رہا ہے کیونکہ یہ ہے بھی 8-9سال کا لڑکا۔

عثمان بولاکہیں تم نے کوئی جاسوسی کہانی تو نہیں پڑھ لی ۔ ہا ہاہا خالد اپنے گھر کو چلا گیا تو عثمان بولا تم کہاں رہتے ہو۔ لڑکا بولا میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے محلے کا نام محلہ صوفیہ ہے، یہاں سے کچھ دور ہے لیکن مجھے راستہ معلوم نہیں۔عثمان پریشان ہو گیا اب وہ اس بچے کا کیا کرتا خالد بھی جا چکا تھا۔ بچہ بولا میرے ساتھ چلو مجھے ڈر لگتا ہے۔ دونوں محلہ صوفیہ کی طرف چل پڑے۔ تھوڑی سی مسافت کے بعدعثمان کو ایسے لگا کہ جیسے اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے ۔جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ کر اسے بے ہوش کر دیا۔
جب اسے ہوش آیا تووہ ایک کمرے میں بند تھا۔وہ بہت رویا اور پھر کچھ دیر وہا ں رہنے کے بعد اس نے اللہ سے دعا مانگنا شروع کر دی کہ اس نے اپنے امی ابو کو ستایا ہے یہ اسی کی سزا ہے۔ ابھی وہ دعا ہی مانگ رہاتھا کہ اسے پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں آنے لگیں، پھر کمرے کا دروازہ کھلا تو انسپکٹر صاحب کے ساتھ اس کے ابو بھی تھے ۔وہ فوراً ابو سے لپٹ گیا، پھر اس نے ابو سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا میں یہاں ہوں۔ اس کے ابو بولے جب تم اس لڑکے کی مدد کر رہے تھے تو اس وقت خالد کسی کام سے تمہاری پیچھے آیا ،وہ تمہیں آواز دینے والا ہی تھا کہ اس نے دیکھا تمہیں کوئی بے ہوش کر رہا ہے۔ اور جب یہ دیکھا کہ تمہیں بے ہوش کیا جارہا ہے تو اس نے جلدی سے پولیس کو اطلاع کی اور پھر مجھے بھی پیغام بھجوایا۔اس طرح ہم تمہیں بچانے میں کامیاب ہوئے۔ گھر آکر عثمان نے سب سے معافی مانگی اور آئندہ سے امی ابو کو ستانے سے توبہ کرلی۔
پیارے بچوں اس کھانی سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ دوسروں کی مدد ضرور کرنی چاہیے لیکن اگر آپ کو کسی نقصان کا اندیشہ ہوتو فوراً اپنی حفاظتی اقدامات کرنا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر سکول سے آتے ہوئے کبھی بھی اکیلے کسی کی بات مان کر کہیں نہیں جانا ہمیشہ دوستوں ایک جھٹ ہو کر رہنا ہے اور اپنے قابل اعتماد دوستوں یا والدین کے ساتھ گھر آنا ہے اور کسی اجنبی سے نہ کوئی چیز لے کر کھانی ہے ۔
تحریر:انیس احمد

یہ بھی پڑھیں:  صحبت کا اثر