مسواک

مسواک کے فوائد

EjazNews

مسواک کرنا سنت رسول ﷺ ہے ۔ اس کے روزانہ استعمال سے نہ صرف دانت صاف ستھرے اور چمک دار رہتے ہیں،بلکہ سانس میں بھی ایک خوش گوار سی مہک پیدا ہوتی ہیں اور بدبو کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسلام جہاں مسلمانوں کوجسمانی و ذہنی پاکیزگی کا حکم دیتا ہے، وہیں اس کی تعلیمات مسلمانوں کے جسم و لباس کی تطہیر کا بھی درس دیتی ہیں۔حدیث نبوی ﷺہے کہ
’’حضرت جبرائیلؑ نے مجھے مسواک کرنے کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ میری اُمت پر واجب ہوجائے گی۔‘‘
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا
’’مسواک منہ کی پاکیزگی کا ذریعہ اور پرور دگار کی خوشنودی ہے۔‘‘
مسواک حضرت محمدﷺکی محبوب سنتوں میں سے ایک سنت ہےاور یہ وہ عمل ہے، جس میں زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی اور خرچ بھی کم ہوتا ہے۔حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ
’’ مسواک سے دماغ تیز ہوتا ہے۔‘‘
اب تو جدید سائنس نے بھی مسواک کی افادیت کا اعتراف کرلیا ہے۔جدید سائنسی تحقیق کے مطابق مسواک اینٹی سیپٹک بھی ہے اوراینٹی بائیوٹک بھی۔یہ دانتوں کو کیلشیم، کلورین فراہم کرتی ہے،بھوک بڑھاتی، نظامِ ہاضمہ درست رکھتی ہے۔نیز، منہ کی بو دور کرنے کے ساتھ مسوڑھوں کو بھی مضبوط کرتی ہے۔اس میں موجود فاسفورس دانتوں کو غذا فراہم کرتا ہے،جبکہ رس جو ذرا سا کڑوا ہوتا ہے، وہ گلے کے امراض سے بچاتا ہے۔مسواک کا مسلسل استعمال دائمی نزلے زکام سے بھی نجات دلاتا ہے، جبکہ باقاعدہ استعمال سے ٹانسلز اور منہ کے چھالے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔
جدید تحقیق کے مطابق ٹوتھ برش چاہے کتنا ہی اعلیٰ کوالٹی کااور مہنگا ہو،استعمال کے بعد جس قدر بھی پانی سے دھو لیں، اس کی تہہ میں بے شمار جراثیم رہ جاتے ہیں،جبکہ مستقل استعمال دانتوں پر موجود چمک کی تہہ ختم کردیتا ہے۔ مزید یہ کہ برش سے دانتوں کے درمیان خلا بھی پیدا ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس مسواک کے ریشے، جو کہ ڈنڈی کے متوازی ہوتے ہیں، دانتوں کے درمیان والی جگہ کی بہتر صفائی کرتے ہیں۔مسواک کے لیے ہر اس درخت کی شاخ مناسب ہے، جس کے ریشے نرم ہوں، تاکہ دانتوں میں خلا پیدا ہو اور نہ ہی مسوڑھوں کو نقصان پہنچے۔تاہم، بہترین اور اعلیٰ مسواک پیلو، نیم، کیکر اور کنیر کے شاخوں کی ہوتی ہے۔پیلو کی مسواک نرم ریشوں والی ہوتی ہے، اس میں کیلشیم اور فاسفورس کی زائد مقدار پائی جاتی ہےجو لعاب اور مساموں کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر اُسے قوت فراہم کرتی ہے۔ نیم کے درخت کی مسواک بھی نہایت مفید ہے۔ اس میں دانتوں کی جملہ بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ کیکر کی مسواک، دانتوں کو تعفن اور پیپ سے بچاتی ہے۔ یعنی پائیوریا جیسی خطرناک بیماری سے محفوظ رکھتی ہے۔اسی طرح کنیر کی مسواک دانتوں کی تمام تکالیف ختم کرتی ہے۔اگرچہ کنیر کی مسواک زیادہ کڑوی ہوتی ہے،مگر اس کی یہ کڑواہٹ ہی دانتوں کے لیے مفید ہے۔اس میں موجود اجزاء دانتوں کی چمک، مضبوطی اور پائیوریا جیسے امراض کے لیے اکسیر ہیں۔مسواک ہمیشہ تازہ استعمال کریں،جبکہ استعمال شدہ مسواک کو دوبارہ استعمال کرنے سے قبل ہر بار ریشے کاٹ کے دانتوں سے نئے ریشے بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مومنوں کاگھر