خواتین کو ہمت دکھانا ہوگی

EjazNews

جنسی ہراسگی کے مسائل دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی پر پھیلا رہے ہیں۔ ہماری خواتین کا گھر سے نکل کر نوکریاں کرنا کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے لیکن جو گھر سے نکلتی ہیں ان میں سے بہت سے معاشرتی رویوں اور جنسی ہراسگی کا شکار بھی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ سب کے ساتھ نہیں ہوتا، کچھ خاموش رہتی ہیں اور کچھ ہمت دکھا دیتی ہیں۔ ہم ایک ترقی پذیر ملک میں رہتے ہیں جہاں وہ لوگ جن کا کام قوانین سازی ہے سڑکیں بناتے ہیں اور جن کا کام سڑکیں بنانا ہے وہ گپیں ہانکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں آج بھی وہ قوانین موجود ہیں جو دنیا بھر میں شاید ختم ہو چکے ہوں کیونکہ مناسب وقت پر مناسب قوانین سازی ہی نہیں ہوئی ۔ آپسی جھگڑوں اور توڑ جوڑ کی سیاست ایسی جمی کہ رہے نام خدا کا۔ ان اندھیروں میں کچھ لوگوں نے روشنی کی کرن بھی جگائی لیکن اندھیرے اتنے گہرے ہیں کہ روشنی کا جگنو ٹمٹماتا ہوا کبھی نظر آ ہی جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہراسگی کے واقعات ایسے ہولناک ہیں کہ دل تھم جاتا ہے ایسے ایسے درندہ صفت واقعات ہوتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔
فیصل آباد میں گن مین کے ہاتھوں بس ہوسٹس کے اندوہ ناک قتل کی ہولناکی اور ڈیرہ غازی خان میں خاتون سماجی کارکن کے ویگن میں سر عام قتل نے ملازمت پیشہ خواتین کے با عزت طریقے سے روزگار کمانے پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں تعلیم یافتہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی خاصے محدود ہیں، خاندان کی کفالت کے لیے گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا قتل، پورے خاندان کے قتل کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں خاندان کا واحد کفیل تو موت سے ایک بار دو چار ہوتا ہے، لیکن اُس کے زیرکفالت افراد اپنی مجبوری، بے بسی اور محرومی کے باعث پَل پَل جیتے ، پَل پَل مرتے ہیں اور یہ درد، اذیت وہی محسوس کر سکتے ہیں، جو ان حالات سے گزرتے ہیں۔

2012ء میں ایک ترمیمی ایکٹ کے ذریعے ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ طالبات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی خواتین کو بھی اس قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا

آج سے ایک دہائی قبل تک پاکستان کا شمار ملازمت پیشہ خواتین کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں دوسرے پر ہوتا نمبر تھا، لیکن 2010ء میں اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ نے کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا قانون منظور کر کے دنیا بھر میں پاکستان سے متعلق اس منفی تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں، 2012ء میں ایک ترمیمی ایکٹ کے ذریعے ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ طالبات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی خواتین کو بھی اس قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا۔ مذکورہ قانون کی منظوری سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب مُلک بھر کی خواتین با وقار اور با اعتماد انداز میں اپنی ملازمت جاری رکھ سکیں گی۔لیکن ہر سوچ پوری ہو یہ کوئی ضروری امر تو نہیں۔
عورت فائونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں90فیصد خواتین کو کام کی جگہ پر، اتنی ہی خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں اور 82فیصد خواتین کو بس سٹاپس پر ہراساں کیا جاتا ہے۔اسی کے ساتھ ہی گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان واقعات میں خواتین کا اغوا، زیادتی، قتل اور ان پر تیزاب پھینکنا وغیرہ شامل ہیں، البتہ عوامی مقامات پر خواتین پر قاتلانہ حملوں یا انہیں قتل کرنے جیسے واقعات کی شرح کم تھی، لیکن رواں برس گاہے گاہے ایسے افسوسناک واقعات کا رونما ہونا، کسی سماجی المیے سے کم نہیں۔

فیصل آباد میں مہوش نامی بس ہوسٹس کو شادی سے انکار پر بس کے گن مین نے اُس وقت سر عام تھپڑ مارنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا رہی تھی۔ گن مین عُمر دراز کا کہنا ہے کہ اُس کی مہوش سے گزشتہ ڈیڑھ برس سے دوستی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن جب مہوش نے اچانک شادی سے انکار کیا، تو اسے غصہ آگیا اور اس نے طیش میں آکر مہوش کو قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ مقتولہ بس ہوسٹس اپنے گھر کی واحد کفیل تھی اور اس کا خاندان کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہے۔
مہوش قتل کیس کی دھول ابھی چھٹی نہیں تھی کہ ڈیرہ غازی خان میں ایک سماجی کارکن، آسیہ علی کو اُس وقت قتل کر دیا گیا۔ جب وہ اپنی والدہ، پروین بی بی کے ساتھ ویگن میں ڈیرہ غازی خان سے خان پور میں واقع اپنے گھر جا رہی تھیں کہ دو نامعلوم نقاب پوش ملزمان نے ویگن روک کر آسیہ علی پر اندھا دھند فائرنگ کی، گولیاں لگنے سے آسیہ علی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ مقامی پولیس کے مطابق فریقین میں رشتے کا تنازع چل رہا تھا اور مقتولہ کی چھوٹی بہن، اقصیٰ کے اغوا کا مقدمہ بھی تھانہ کوٹ چھٹہ میں درج ہے۔
پاکستان میں خواتین پر قاتلانہ حملوں کے واقعات نئے نہیں ۔ لاہور میں قانون کی طالبہ، خدیجہ کو اس کے کلاس فیلوشاہ حسین نے خنجر کے 23وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا ۔ خدیجہ کی جانب سے اس واقع کی رپورٹ درج کروانے کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی ۔ اس سے قبل پاکستان کی باصلاحیت گیند بازحلیمہ رفیق جنسی ہراسانی کی بنا پر خود کُشی کر چُکی ہیں اور پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس نے پی آئی اے کے چیئرمین کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدّمہ درج کروایا تھا، جبکہ 2010ء میں سیالکوٹ میں ڈائیوو بس کی ہوسٹس کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مُلک میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون موجود ہے تو پھر پاکستانی خواتین غیر محفوظ کیوں ہیں؟ ہمارے مُلک میں خواتین کو حقوق دینے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، لیکن جو خاتون بھی اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاتی ہے، اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے مُلک میں خواتین کے لیے کیٹ واک یا ماڈلنگ کرنا تو آسان ہے، لیکن عزّت سے روٹی کمانا مشکل۔ پھر ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے کہ 10-10سال تک مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے۔کیا نوکری پیشہ خاتون کسی مجرم کیخلاف دس دس سال مقدمے لڑ سکتی ہے ۔ یا پھر کوئی خاتون یہ ثابت کرنے کے لیے مجھے جنسی ہراسگی کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی ہے عدالتوں کے چکر ایک لمبے عرصے تک کاٹ سکتی ہے۔خدیجہ کیس میں شاید فیصلہ اس لیے ہو گیا کہ وہ ملک سے باہر چلی گئیں تھیں اور سابق چیف جسٹس جب فنڈ ریزنگ کے لیے گئے تو وہ ان سے خود ملیں ۔ خدیجہ اب اپنی وکالت کی ڈگری مکمل کر چکی ہیں۔ لیکن کتنی خواتین ہیں جن کے پاس وسائل اور معاشرتی رہن سہن اس قابل ہے کہ وہ طویل عرصے تک مقدمات لڑ سکیں۔ جو خاتون گھر کی واحد کفیل ہو اور مکان کرائے کا ہو وہ کیسے مقدمات کا سامنا کر سکتی ہے۔ پھر ہمارے قانونی نظام میں بے شمار پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام میرے خیال میں دو سو برس پرانا ہے، جس میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے، جبکہ ہمارے سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف لڑائی جھگڑوں میں مصروف ہیں۔ قانون سازی کا وقت کس کے پاس ہے۔سابق حکومت کی ایک خاتون ایم پی اے عظمی بخاری نے خواتین کے تحفظ کے لیے ایک قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا جس پر پورے ملک میں بہت شورا مچا تھا۔اس قانونی پر عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا یہ شاید ان کو بھی معلوم نہ ہوکیونکہ اب وہ بھی اقتدار سے اپوزیشن میں ہیں۔
دوسری طرف بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ عورتیں یہ جانتی ہی نہیں ہیں کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کی سزا 3برس قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ کیونکہ اس قانون کی تشہیر ہی نہیں ہے۔آپ اپنے دفاتر میں ایک چھوٹا سا سروے کر لیں اور دیکھیں کہ خواتین کو کیا پتہ ہے تو 90فیصد آپ کو جواب نہ میں ہی ملے گا۔ دوسری پھر عدالتی نظام کیوں کہ ہراساں کرنے والے اکثر و بیشتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو معاشرتی ا عتبارسے پیسوں یا رتبے کے لحاظ سے بڑے ہوتے ہیں ان کا مقابلہ ایک اکیلی خاتون نہیں کر سکتی ۔ مجھے آج بھی اس ماں کے الفاظ یا د ہیں جس کے بیٹے کو ایک مشہور شخصیت نے لاہور ڈیفنس کے ایریا میں قتل کر دیا تھا ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ مقدمہ کیوں نہیں لڑرہیں تو ان کا کہنا تھا کہ میری دو بیٹیاں بھی ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی حقیقت ہے جب تک ایسی مائوں کے الفاظ نہیں بدلیں گے معاشرے میں آپ جو مرضی کر لیں بدلائوں نہیں آسکتا۔
خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات کو ٹیسٹ کیس بنا دیا جائے اور ہر کیس کو پہلا کیس سمجھ کر اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ خواتین کو بھی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنے اندر اعتماد پیدا کرنا چاہیے کیونکہ ظالم کو ظلم کرنے کی ہمت تب تک رہتی ہے جب تک مظلوم میں سہنے کی ہمت رہتی ہے۔
آئیے کچھ دنیا کے بارے میں بھی جانتے ہیں کہ جنسی طور پر ہراسگی کے واقعات صرف پاکستان میں ہی ہیں یا پھر پوری دنیا میں خواتین اس کا شکار ہیں۔
صرف پاکستان ہی نہیںبلکہ دُنیا بھر میں ملازمت پیشہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ امریکا میں ہر 10میں سے 4خواتین کو ملازمت کے دوران ہراساں کیا جاتا ہے، دُنیا بھر میں سالانہ 12کروڑ خواتین کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گلوبل سروے کے مطابق، بنگلا دیش میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شرح 57فیصد، کمبوڈیا میں 77فیصد، بھارت میں 80فیصد اور ویت نام میں87فیصد ہے۔ شمالی افریقا میں 2016ء میں ہر 4میں سے ایک خاتون کو جنسی ہراسانی کا شکار ہوئیں۔ شمالی افریقہ میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ زمبابوے اور روانڈا میں ہر 3میں سے ایک خاتون اور شمالی امریکا میں ہر 4میں سے ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، جبکہ امریکا میں 65فیصد، برازیل میں 86فیصد، میکسیکو میں 62 فیصد اور آسٹریلیا میں 64فیصد خواتین جنسی ہراسانی کا شکار ہیں۔
یہ اعداد و شمار مختلف رپورٹوں سے اکٹھے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو تشدد کی ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے