imran khan

کشمیر کے لوگوں کی دلیری کو سلام پیش کرتا ہوں :وزیراعظم عمران خان

EjazNews

باجوڑ میں وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاندار استقبال پر باجوڑ کے عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔27سال پہلے باجوڑ آیا تھا، قبائلی علاقے سے متعلق کتاب لکھی تھی، اس وقت حالات مشکل تھے آج جنون دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کو نقصان پہنچااور قبائلیوں کے کاروبار ، مال مویشی متاثر ہوئے ۔ نقل مکانی کرنی پڑی ہم سب جانتے ہیں قبائلی علاقوں نے کتنی مشکلیں جھیلیں، قبائلی عوام کی آسانی کا وقت شروع ہوگیا ہے اور قبائلی عوام مشکل وقت سے نکل چکے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہا تھا کہ بھارت میں الیکشن ہیں وہاں کی ایک جماعت نفرتیں پھیلا کر الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ انہوں نے واردات کی ہماری ائیر فورس نے ملک کا بہترین دفاع کیا۔پاکستانی قوم امن چاہتی ہے ہم سب ہمسائیو ں سے امن چاہتے ہیں ۔ ہم اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم یہاں سرمایہ کاری چاہتے ہیں جنگ نہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو غلطی سے بھی کوئی کمزوری نہ سمجھے بارہا بھارت کو کہہ رہے ہیں جنگ کی بجائے تجارت کریں۔ ملک کی بہتر ی کیلئے میں نریندر مودی سے بات کیلئے بھی تیار ہوں۔ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات ہیں اور مذاکرات کے ذریعے سے ہی اس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کی دلیری کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ وہ لوگ اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں، بھارت میں الیکشن ہیں آئندہ 30دن دھیان رکھنا پڑے گا۔ بھارت کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ آپ نے چوکنا رہنا ہے پاکستانیوں کو اپنی حفاظت کیلئے تیا رہنا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ باجوڑ میں انٹر نیٹ آنا چا ہی باجوڑ کا نوجوان باشعور ہے۔ پہلی کوشش باجوڑ میں انٹرنیٹ پہنچانے کی کریں گے۔ اسلام آباد پہنچ کر باجوڑ میں انٹرنیٹ پہنچانے کی کوشش کرو ںگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے سارے صوبے اپنے حصے کا 3فیصد قبائلی عوام کو دینگے۔ پنجاب اور کے پی کے میں میری حکومت ہے سندھ اور بلوچستان کو کہوں گا آپ بھی دیں قبائلی علاقے کے لوگوں نے پاکستان کیلئے بہت قربانیاں دیں ہیں۔بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں کی مدد کریں۔ ویسٹ جرمنی نے ایسٹ جرمنی کو پیسہ دیا وہ کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ کیا پوری قوم اپنے قبائلی عوام کو اوپر اٹھانے کیلئے 3فیصد نہیں دے سکتی۔ ہم نے قبائلی علاقوں کو نہ اٹھایا تو دشمن انہیں ملک کیخلاف اکسانے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے۔ خدانخواستہ قبائلی علاقوں میں اگر اب آپریشن کرنا پڑا تو 3فیصد سے بھی بہت زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 60سال میں ملک کا قرضہ 6ہزار ارب تھا۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کو ہم چارٹر آف کرپشن کہتے ہیں پی ٹی آئی کی ان سوئنگنگ یار کرنے دوجماعتوں کی 10سال کی پارٹنر شپ توڑی۔ پچھلے 10سال میں 2جماعتوں نے ملک کو تباہ کر دیا اور ملک کا قرضہ 30ہزار ارب پر پہنچا دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان سے بات شروع ہو گئی ۔ افغانستان میں اچھی حکومت آئے گی خطے میں خوشحالی آئے گی۔ کرپشن کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کروں گا۔ کبھی کسی کرپٹ کے ساتھ مفاہمت نہیں کروگا۔ این آر اوز کی وجہ سے ملک نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے ، اب کوئی این آر او نہیںہوگا ۔
وزیراعظم نے باجوڑ میں روزگار سکیم کیلئے 2ارب روپے سے نوجوانوں کو سستے قرضے دینے کا اعلان کیا۔ باجوڑ تھوڑا صبر کریں آپ کا بجلی کا مسئلہ بھی حل کرتے ہیں۔3سو مساجد میں سولر سسٹم لگائیں گے۔تعلیم صحت کے شعبے میں 8ہزار نوکریاں لا رہے ہیں۔ اور کھیلوں کیلئے سہولتیں فراہم کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تبدیلی آسانی سے نہیں آسکتی تھوڑا وقت لگے گا صبر کرنا پڑے گا۔ ملک دشمن انتشار کی کوشش کریں گے دشمن انضمام نہیں چاہیں گے رخنے ڈالیں گے۔ آپ نے دشمن کی ہر سازش کو فیل کرنا ہے۔ آخر میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ باجوڑ کے ہر گھر میں صحت کارڈ لارہے ہیں 7لاکھ20ہزار تک کا علاج ہو سکے گا۔ باجوڑ کے لوگوں انشاء اللہ آ پ کا مستقبل بہت روشن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آرمی ایکٹ کثرت رائے سے منظور