p group

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی پر قومی رہنماؤں کا اظہار افسوس

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ (نیوزی لینڈ) میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کیساتھ ہیں۔
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کہتے ہیں میں نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہوں۔میری دعائیں اور نیک تمنائیں نیوزی لینڈ کے عوام اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے آج کا کٹھن دن دیکھا۔ پاکستان ہمیشہ سے کہتا آیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور کوئی ملک نہیں ہوتا۔
جہانگیر ترین کہتے ہیں میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے سے آج بہت اداس ہوا ۔ میری ساری ہمدردیاں مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو دیکھ کہ دہشت گردکا کسی مذہب یا ملک سے تعلق نہیں ہوتا وہ دہشت گرد ہوتا ہے۔
وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا تھا نیوزی لینڈ میں فائرنگ واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا شکر ہے بنگلہ دیشی ٹیم محفوظ ہے ۔ دہشت گرد دنیا کا امن تباہ کر رہے ہیں دہشت گرد جہاں جس مذہب سے بھی ہو ان کے خلاف لڑنا چاہئے۔
پرویز خٹک کہتے ہیں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں دنیا کو متحد ہو کر دہشت گردی کیخلاف لڑنا ہوگا۔ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا قوم سے نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم اور فورسز نے دہشت گردی کیخلاف بے پناہ قربانیاںدی ہیں۔
سید زلفی بخاری کہتے ہیں پاکستانی قوم کی ہمدردیاں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ ہے نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں دہشت گردی کی مصیبت اب براعظموں کی سرحدیں بھی پار کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہتے ہیں میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے سے دلی طور پر دکھی ہوا ہوں ۔ میری ہمدردیاں اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنوں کو کھویا یا پھر ان کے اپنے زخمی ہیں۔ یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ۔اس نے صرف دہشت پھیلانی ہوتی ہے۔
کامران خان کہتے ہیں نیوزی لینڈ میں حملے کے مقامات مساجد نہیں چرچ ہوتے حملہ آور مسلمان ہوتا توپورا مغرب حملہ آور کے پیچھے اس مخبوط الحواس شخص کے پاگل جنونی ہونے کی بجائے اس کے مسلمان ہونے میں ڈھونڈتا اورتمام مغربی میڈیا اسلامی دنیا کے خلاف طبل جنگ بجا چکا ہوتا ۔ یاد رہے دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حقیقت فارنزک آڈٹ کے بعد سامنے آئے گی: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان