sleeping

نیند کا عالمی دن

EjazNews

جس طرح اچھی صحت کے لیے ورزش کرنا ضروری ہے ،اسی طرح آرام بھی ضروری ہے۔ کھانا اور محنت و مشقت کے بعد جسم کو آرام کی خاص ضرورت ہوتی ہے۔ بہت زیادہ محنت کر کے تھکا ہوا انسان آرام کر کے ہی دوبارہ طاقت حاصل کرتا ہے۔ تھکاوٹ کے لیے آرام سے بڑھ کر دوسرا کوئی علاج نہیں، جسمانی اور دماغی دونوں طرح کا ہی آرام ضروری ہے جسم اور دماغ دونوں کو مناسب آرام ملنے پر مکمل آرام کی حالت بنتی ہے۔ نیند آرام کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔ تھوڑی دیر کے آرام کے لیے مردہ کی طرح تمام جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر آنکھیں بند کر کے چت لیٹنا بہت ہی بہتر ہے۔ اکثر لوگ جسم کو آرام دیتے ہیں لیکن دماغی آرام سے بہت دور رہتے ہیں۔ کچھ دیر دماغی کام بند کر کے آنکھیں موند کر پر سکون اور تنائو سے دور ہونے سے دماغی آرام ملتا ہے۔ دفتر وغیرہ میں کچھ وقت کے لیے آنکھوں کو بد کر کے آنکھوں کے سامنے دونوں ہاتھوں کی کٹوریاں بنا کر رکھ لیں ور کہنیاں میز پر رکھ لیں ، دماغی آرام حاصل کرنے کی یہ اعلیٰ ترکیب ہے۔ 3-3گھنٹہ کے بعد چاہے جسمانی ہو یا دماغی ہو ، دونوں طرح سے آرام کر لینا چاہئے۔ اس سے کام کرنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ آرام نہ کرنے سے جسمانی اور دماغی امراض ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ دھیان سے دل کو تسکین اور آرام ملا ہے۔ مکمل آرام دوا کے برابر ہے۔
پرسکون نیند کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال کی طرح 15مارچ نیند کا عالمی دن منایا جاتاہے ۔
یاد رکھیے نیند پوری نہ ہونے سے سب سے پہلا اثرآپ کی جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی پرپڑتا ہے۔ نیند کی کمی سے آپ سارا دن تھکن اور سستی کا شکار رہیں گے۔ آپ اپنے کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے سکیں گے اور نہ ہی نئے تخلیقی خیالات سوچ سکیںگے۔یہی نیند کی کمی آپ کوبد مزاج اور چڑ چڑا بھی بنا سکتی ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی کا شکار رہنے والے افراد بیماری کا شکار بھی رہتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور آج کل اس ترقی یافتہ دور میں ہر شخص اپنے من پسند ٹی وی شو دیکھنا چاہتا ہے یا پھر اپنے سمارٹ فون اور کمپیوٹر کے ذریعہ سے دنیا کے ہر کونے میں گھوم رہا ہوتا ہے۔لیکن دراصل یہی چیز ہماری نیند کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ ٹی وی اور فون کی روشنی دماغ کو متحرک رکھتی ہے اور دماغ دن کے مطابق اپنے تمام افعال سرانجام دیتا ہے۔ اندھیرے میں ہمارے دماغ میں ایک ہار مون میلا ٹونین متحرک ہو جاتا ہے جو نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم سونے سے ایک گھنٹہ پہلے ٹی وی یا موبائل فون بند کر دیں تو ہم پر سکون نیند سو سکتے ہیں۔

شام کے بعد اور رات کوسونے سے پہلے مرغن ، مصالحہ دار اوربہت زیادہ پیٹ بھر کر کھانا کھانا بھی نیند کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے بہت سے نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔اورنیند نہ آنے کا بھی سبب بنتا ہے۔ اکثر و بیشتر ڈاکٹروں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ صبح کا ناشتہ پیٹ بھر کر کھائیں ، دوپہر کو ضرورت سے کم کھائیں اور رات کو ہلکی پھلکی غذا لیں۔رات میں ہلکا پھلکا کھانا جسم کے اندرونی نظام کو بھی آرام دیتا ہے اور آپ کا جسم حالت سکون میں چلا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر رات میں آپ کو بھوک لگ رہی ہے تو ایک ایک گلاس نیم گرم دودھ بہترین غذا ہے۔
ایسے چیزیں جو آپ کے دماغ میں چستی پیدا کر کے نیند کو بھگاتی ہیں ان کا استعمال نہ کیا جائے تو بہت بہت ہے اور خاص کر شام کے بعد کافی سے گریز کریں ،کافی میں موجود کیفین دماغ کو جگا دیتی ہے اور اس کا اثر 12گھنٹے تک رہتا ہے۔ یہ صرف دماغ کو ہی نہیں جگاتی بلکہ نیند کے دورانیے میں بھی خلل پیدا کرتی ہے۔
اگر آپ کو نیند نہیں آرہی تو ہمارے آج ایک اور فیشن بنتا جارہا ہےخواب آور گولیاں ۔ نیند لانے والی دوائوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ دوائوں سے بھلے ہی نیند آجائے لیکن لمبی مدت تک دوائیں لیتے رہنے سے نقصان ہی ہوتا ہے۔زیادہ جسمانی محنت کرنے والوں کو زیادہ نیند لینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عام آدمی کے لیے آٹھ گھنٹے کی نیند کافی ہے۔ بڑی عمر والوں کے چھ گھنٹہ کی نیند کافی ہے۔
اگر آپ کو نیند نہیں آرہی تو اپنے کمرے سے بالکونی یا کسی دوسرے کمرے میں مدھم روشنی جلا کربیٹھ جائیں۔اگر اس طرح بھی نیند نہ آئے تو کوئی کتاب پڑھنا شروع کردیں اکثر و بیشتر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کتاب پڑھتے ہوئے سونا شروع ہو جاتے ہیں یاپھر آپ اگر موسیقی کے شوقین ہیں تو ہلکی موسیقی سنناشروع کردیںاس کے لیے روحانی طریقہ کار سے بھی مدد ملی جاسکتی ہے ۔عبادت روحانی طورپر پرسکون کرتی ہے اورجسم اور دماغ کو آرام پہنچاتی ہے۔اگر آپ رات میں بے سکون نیند سوئے ہوئے ہیں اور اگلی صبح تھکاوٹ اورنیند محسوس کر رہے ہیں تو ٹھنڈے پانی سے غسل کریں ۔ ہلکی سی چہل قدمی کریں اور ایک بھرپور ناشتہ کریں یہ تمام کام آپ کو پورا دن چاک و چوبند رکھیں گے۔بظاہر آپ کسی کو کہیں کہ نیند پوری نہ کرنے والے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ تو وہ اسے مذاق سمجھے گا لیکن یہ درست ہے۔ ذہین سے ذہین آدمی نیند پوری نہ کرنے سے کند ذہن بن سکتا ہے، اس میں کوئی شق نہیں ایسا ہوا ہے۔ جسم کے ہر حصے کو ایک مناسب اور پوری نیند کی ضرورت ہے۔ ہر 12گھنٹے بعد جسم کے بعض حصوں کو نئی توانائی کی ضرورت ہے اور نیند کی صورت میں مختلف حصوں میں موجود فاسد یا نقصان دہ مادہ قدرتی طریقوں سے خارج ہو جاتا ہے۔ مختلف خلیوں کے کام کرنے کے نتیجے میں انسانی دماغ میں بھی فاسد مادے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ نیند سے یہ مادے زیادہ تیز ی سے خارج ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی نیند پوری نہ کرے تو کیا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق دماغ کو پورا وقت نہیں ملتا اور وہ یہ فاسد مادے خارج کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ بلکہ نیند پوری نہ کرنے کی صورت میں یہ مادے مختلف ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

پوری نیند نہ لینے والے 15-16سال بعد الزائمر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یعنی دائمی بے خوابی الزائمر کا باعث بنتی ہے۔1999ء سے اب تک الزائمر سے شرح اموات میں 50فیصد اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ امریکہ بے خوابی کا شکار ہے۔ ہمارے ہاں بھی بڑھتی ہوئی بے خوابی لا تعداد امراض کا باعث بن رہی ہے۔ اس لیے نیند پوری کیجئے ، آرام سے سوئیے ، اطمینان سے اٹھیے ۔یہی اچھی اور خوشگوار زندگی کی علامت ہے۔ ورنہ خام خواہ دماغ کو پریشان کرنا اچھا نہیں ہوگا۔

کیٹاگری میں : صحت