کم خوراکی

کم خوراک میں کمزوری نہیں صحت ہے

EjazNews

عموماً ہمارے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ خوراک کی مقدار زیادہ کھائی جائے تاکہ جسم میں طاقت زیادہ آجائے یہ تصور ذہنی طورپر ہمارے ہاں راسخ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے۔ جسم کے لیے اتنی خوراک کی مقدار بہت ہوتی ہے جو وہ ہضم کر سکے اس سے زیادہ خوراک کھانے سے جسم طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اور نت نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا لائف سٹائل بھی عجیب و غریب ہوتا جارہا ہے جس میں ورزش نام کی چیز ہم سے کوسوں دور ہوتی ہے جارہی ہے اور صحت کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ کم خوراکی سے صحت کو کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
صحت کیلئے کم خوراکی
زیادہ تر لوگ یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ کم کھانے سے جسم کو طاقتور چیزیں کم ملیں گی۔ جسم کے لیے خوراک مفید ہوتی اور کم خوراکی کے نتیجہ کے طور پر جسم کمزور ہو جائے گا ،دراصل یہ سوچ ہی غلط ہے۔ جسم کے لیے وہی خوراک فائدہ مند ہوتی ہے جو جسم میں ہضم ہو کر اچھی طرح جذب ہو جاتی ہے۔
یہ ہمیشہ یاد رکھئے کہ جتنی زیادہ مقدار میں آپ خوراک کھائیں گے اتنے ہی زیادہ امرا ض کو آپ دعوت دیں گے۔ آپ چاہیں تو اپنے آپ پر دو ہفتہ کا تجربہ کر کے دیکھئے۔ تین چار دنوں تک کم مقدار میں خوراک لینے کی وجہ سے بھوکے پیٹ ہونے کا احساس ہوگا لیکن ایک ہفتہ میں تو پیٹ اسی مقدار کے موافق ہو جائے گا۔ اس کے بعد غور سے اپنے جسم اور اطوار کو دیکھئے۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے جسم میں قوت احساس زیادہ ہوتی ہے۔ پھر تو آپ یقینا کم کھانے کی اہمیت کو سمجھ جائیں گے اور زندگی بھر اس پر عمل کرتے رہیں گے۔
لمبی عمر والے لوگ محدود مقدار میں خوراک کھانے والے ہی پائے جاتے ہیں۔ مہمان نوازی یا پیار کے بندھن میں بلا ضرورت کے زور زبردستی کھلانا عقلمندی نہیں ہے۔اگر حقیقت میں کم مقدار میں کھانا کھانے کا راز سبھی کی سمجھ میں آجائے تو انسان کی صحت کے مسائل کا حل تو مل ہی جائے گا۔ دنیا کی غذائی مشکل کا حل بھی نکل آئے گا۔
خوراک کم مقدار میں کھانے کی تراکیب:
اپنی عقل و فہم سے خوراک کی مقدار مقرر کریں ، جتنی خوراک کھانی ہو اتنی ہی اپنے برتن میں ڈالئے۔غذا کو خوب چبا چبا کر کھانے سے جلدی ہی اطمینان ہو جائے گا۔ اگر آدمی کوزیادہ کھانے کی عادت ہو۔ تو وہ ہمارے مشورے پر عمل کر کے ہر ایک لقمہ 32بار چبا کر کھائے۔ ایسا کرنے پر محض دو روٹی کھانے پر ہی اس کا پیٹ بھر جائے گا۔
کھانے کھاتے وقت فضول کی گپ شپ کرنا، کسی طرح کا دماغی تصور کرنا وغیرہ ہمیشہ نقصان دہ ہے۔ اس سے انجانے ہی خوراک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔وہی غذا کھائیں جو رس دار ، چکنی، جسم کو ٹکائو پن دینے والی، دل اور دماغ کو طاقت دینے والی اور آسانی سے ہضم ہونے والی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو ایسی غذا کا انتخاب کر کے کھائیں۔دن بھر میں صرف دوبار ہی کھانا کھانے کی عادت ڈالیں۔اکثر و اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ بچی ہوئی غذا کو ختم کرنے کے لیے ضرور ت سے زیادہ کھایا جاتا ہے، جس سے صحت کا زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ اسی طرح تحفہ میں ملی مٹھائیاں بغیر ضرورت کے کھائی جاتی ہے۔اچار، مربے، سرکا، پاپڑ، مرچ، مصالے ، کھٹائی وغیرہ کا استعمال نہ کریں۔ ان کی وجہ سے بھی ضرورت سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔
ذائقہ کھانے میں نہیں بھوک میں ہے
بھوک جسم کی طبعی مانگ ہے، اگر قدرتی بھوک ہے تو کھانے کی ہر ایک چیز ذائقہ دار لگتی ہے، جب بھوک نہیں ہوتی اور ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمیں ذائقہ دار کھانے کی ضرورت پڑتی ہے، تب ہمیں اچار ، مربے ، سرکا، مرچ مصالے، مٹھائی وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے ضرورت سے زیادہ کھانا بھی کھایا جاتا ہے جس سے نظام ہضم بھی بگڑ جاتا ہے۔ذائقہ دار لذیذ بنانے کے لیے غیر قدرتی رنگوں، سائنوں وغیرہ کا بھی استعمال ہونے لگا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ہمارے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کیا کھانا ہے، کب کھاناہے، کتنا کھانا ہے اور کھانا بند کب کرنا ہے۔قدرت نے انسانی جسم قدرتی خوراک (پھل ، سبزیاں اور میوے)کھانے کے لیے بنایا ہے مگر یہ غیر قدرتی خوراک پر ہی ہاتھ صاف کرتا رہتا ہے۔
لہٰذا دوبار کے کھانے کے درمیان میں کم از کم 6گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔ جس سے قدرتی بھوک جاگ سکے اور کھانے کی چیز لذیذ لگے۔بناوٹی ذائقہ والا کھانا کھانے کی عادت چھوڑ کر جب ہم پھل، سلاد کے قدرتی ذائقہ کی عادت ڈال لیتے ہیں تب کھانا کھانے میں جو لطف آتا ہے اس کے سامنے سب لطف پھیکے پڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تشنج یا کزار(tetanus)
کیٹاگری میں : صحت