وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے ٹویٹ پرسوشل میڈیا کو دیکھتے ہیں کیا کہتا ہے

EjazNews

وزیراعظم عمران خان اپنے ٹویٹ میں کہتے ہیں” مجھے پنجاب اسمبلی کے فیصلے سے انتہائی مایوسی ہوئی کہ وزیراعلیٰ ، وزیروں اور ایم پی ایز وغیرہ نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کر لیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔پاکستان خوشحال ہو جائے تو شاید یہ قابل فہم ہو مگر ایسے میں جب ہم لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں دے پارہے ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ یہ فیصلہ بالکل با جواز ہے۔ “جبکہ وزیراطلاعات کہتے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب اور پنجاب اسمبلی کے خود کو نوانے کے اقدامات وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی پالیسیز سے متصادم ہیں۔ تحریک انصاف کی پالیسی کا صریحاً مذاق اڑایا گیا ہے۔ امید ہے اس پالیسی پر فوری نظر ثانی کی جائے گی۔
یاد رہے گزشتہ رات پنجاب اسمبلی نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر لیا ہے اور یہ بل کثرت رائے سے پاس ہوا ہے ۔
وزیراعظم کے ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا پر چھڑی گئی ہے ایک نئی بحث ،آئیے پڑھتے ہیں لوگ اس فیصلے پر کیا کہہ رہے ہیں
طارق عزیز کہتے ہیں خان صاحب پنجاب میں آپ کی حکومت ہے اور وسیم اکرم بھی آپ کا اپنا لگایا ہوا ہے اسے روکنا آپ نے ہے یا کوئی آسمان سے اتر کر روکے گا؟

یہ بھی پڑھیں:  ایوی ایشن کا طیارہ گر کر تباہ ، 18افراد جاں بحق

آفتاب اقبال کہتے ہیں جناب مایوس ہونے سے کوئی فادہ نہیں صاف ظاہر ہے وزیراعلیٰ نااہل ہے۔ ان کے اپنے اراکین ان کے قابو میں نہیں۔ بہترین موقع ہے کہ بزدار صاحب کو فارغ کیا جائے اور اس بل کو صدارتی آڈر یننس سے منسوخ کروا کر پیش کرنے والے رکن کی رکنیت معطل کی جائے ورنہ پوری قوم آپ سے مایوس ہو گی۔
سید فیض علی کہتے ہیں خان صاحب آپ وزیراعظم ہیں اور پنجاب میں حکومت بھی تحریک انصاف کی ہے یہ مذمتی ٹویٹ کرتے آپ تب اچھے لگتے اگرآپ اپوزیشن میں ہوتے ۔ بلائیں میٹنگ اور بزدار سمیت سب کو فارغ کریں ان لوگوں کو جواسمبلیوں میں صرف اپنی تنخواہیں بڑھانے کی قانون سازی کرنے آئے ہیں ورنہ ان کے یہ بلنڈر لے ڈوبیں گے۔
میاں متین کہتے ہیں جن پنجاب اسمبلی کے عیاش اراکین کے خلاف میں آواز اٹھا رہا تھا ان کے چیلے اور پلاسٹک کے انصافی مجھے گالیاں دے رہے تھے آج میرے کپتان نے بھی ان کا اصل چہرہ دیکھا دیا ہے۔ میرے بھولے انصافیوں اسی لیے کہتا ہوں انصافی بنو پالشیوں مالشیوں کی کمی تو ن لیگ اور زرداری کے پاس بھی نہیں۔
فضل خان کہتے ہیں ہا ہاہا قوم کو بے وقوف سمجھ رہے ہو کیا؟ ۔ اب ایک طرف اپنے وزیرکو نوازا جارہا دوسری طرف اس کی مخالفت کی جائے کہ عوام کو بے وقوف بنا دیا جائے۔
محمد نعیم معین کہتے ہیں فواد صاحب بزدار کے گھر میں بجلی تک نہیں بچہ ابھی سیکھ رہا ہے انجوائے کردیں۔
عصمت مالک کہتے ہیں میں تو ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کے خلاف تھا وہ تو مسلم لیگ ن والوں نے مجھ پر اتنا دباﺅ ڈالا کہ مجھے مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا۔عثمان بزدار
شاہ جی کہتے ہیں تو کرو نظر ثانی روکا کس نے ہے۔
عتیق گوہر کہتے ہیں بہر حال جو بھی ہے فواد صاحب حکومت آپ کی ہے آپ وفاق میں بھی ہو تو عملی اقدامات کی طرف بھی جائیں تاکہ ہمارا اعتماد بنا رہے نہیں تو پچھلی حکومتوں اور موجودہ حکومت میں فرق کرنا ذرا مشکل ہو جائے گا۔
منی پی ٹی آئی لکھتی ہیں گزشتہ 6ماہ میں پنجاب اسمبلی میں جو 2بل 24گھنٹوں کے اندر اندر پاس ہوئے وہ 2ہیں ۔ ایک تنخواہوں میں اضافہ کا بل متفقہ طور پر پاس ہوا کیونکہ فائدہ بھی متفقہ ہے اور دوسرا پروڈکشن آرڈر کا قانون متفقہ طور پر پاس ہوا۔ خواجہ سلمان رفیق اور علیم خان اب اس قانون سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
محمد احمد کھوکھر کہتے ہیں شرم آنی چاہئے پنجاب اسمبلی کے ممبران کو عوام کے لیے تو کچھ کر نہیں سکے لیکن اپنی ذات کےلئے سب سے آگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان صدرکادورہ پاکستان اس وقت اہم کیوں ہے؟