حج مبارک

EjazNews

’’حج‘‘ اسلام کا بنیادی رکن اور ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ حج کے موقع پر اللہ رب العزت خاص طور پر مسلمانوں کو ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کا ایک بہترین وسیلہ ہے۔ ہرسال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستانی عازمین حج بھی فریضہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے ہیں۔ دنیا کے اس سب سے بڑے اجتماع کی تیاری حجاز مقدسہ میں بھی ہرسال کی طرح جاری و ساری ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر کے حجاج کرام کو مکہ پہنچنے میں مہینوں لگ جاتے تھے، لیکن اب جدید ترین سفری سہولتوں کے باعث لاکھوں کی تعداد میں حجاج محض چند گھنٹوں میں ارضِ مقدّس مکّہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہ عظیم سعادت حاصل کرنے والوں میں نوجوان، بزرگ، بچّے اور خواتین سب ہی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ حرمِ پاک میں سب اپنے رب کے حضور شاداں و فرحاں پیش ہورہے ہوتے ہیں۔ ہر فرد اپنی زبان میں اپنے رب سے معافی کا خواست گار اور جنت کا طلبگار ہوتا ہے۔ بندگان خدا گناہوں پر ندامت اور بندگی کا اعتراف کرتے ہوئے خانہ کعبہ کے سامنے اللہ کی حمد و ثناء بیان کررہے ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر بھی ایک جم غفیر پروردگار کے حضور سر جھکائے کھڑا ہوتا ہے۔ حج و عمرہ سے فیض یابی کے دوران صفا و مروہ وہ مقدّس مقامات ہیں، جن کی تاریخ اور عظمت و اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ حرم کعبہ اور ارض مقدس میں اللہ تعالیٰ نے صفا اور مروہ کو اپنی نشانیاں قرار دیا ہے۔ ان مقدس پہاڑیوں کے کچھ حصے اب بھی محفوظ حالت میں ہیں کہ ان سنگلاخ پہاڑیوں پر اماں ہاجرہ علیہا السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کرجو کہ پیاس سے بلک رہے تھے، کس طرح بے قراری کے عالم میں ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک دوڑ رہی تھیں۔ قیامت خیز گرمی میں بھی اس منظر کو یاد کرنا شاید اب ناممکن ہے، کیونکہ سعودی حکومت نے اس مقام کو سینٹرلی ائیرکنڈیشنڈ کرکے حجاج کے لیے انتہائی آسانیاں فراہم کردی ہیں۔
حج کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حج کی پکار کو لوگوں تک پہنچایا اور اسی پر لبیک کہنے والے دنیا کے کونے کونے سے سمٹ کر حج بیت اللہ کے لیے ارضِ مقدس مکہ معظمہ آتے ہیں اور قیامت تک آتے رہیں گے۔
سورئہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اور اللہ کی رضاکے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا۔
’’لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، اس لیے حج کرو۔ کسی کو معلوم نہیں کہ (آئندہ) اسے کیا عذر پیش آجائے۔‘‘ (مسندِاحمد)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ
’’جو شخص حج پر قادر ہو، پھر بھی وہ اسے چھوڑ دے، تو اس کے لیے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔‘‘
حج ایک ایسا مبارک سفر ہے کہ جس میں پیش آنے والی تمام تر مشقت کو عازمین حج خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ تاہم کچھ عرصے سے دیکھا یہ جارہا ہے کہ ماضی میں حجاج جتنا وقت نمازوں کے بعد تلاوت قرآن و ذکر و اذکار کو دیتے تھے، اب وہ اپنا کچھ وقت موبائل فون کے استعمال اور سیلفیز بنانے پر بھی صرف کرتے ہیں۔
اس مقدس سفر کا دوبارہ سب کو موقع نہیں ملتا اس لیے جتنا زیادہ وقت تلاوت قرآن پاک اور اللہ کے حضور سجدوں میں گزار سکیں گزاریں۔ ہم انشاء اللہ حج کے مسائل سے بھی آگاہ کریں گے اور ہماری طرف سے تمام حجاج کو جن کے نام قرعہ اندازی میں نکلیں ہیں یا جو پھر سرکاری کی بجائے پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے ذریعے حج کی سعادت حاصل کرنے جارہے ہیں حج مبارک ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  طواف کے لیے ضروری باتیں