18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا گیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے: بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی صرف اور صرف پی ٹی آئی کو جتوانے کے لیے کی گئی۔ کالعدم تنظیموں کو الیکشن میں لایا گیا تاکہ پی ٹی آئی کو سپورٹ ملے ۔ اکائونٹیبلٹی موجود ہے مگر صرف اپوزیشن کیلئے۔ تین بار منتخب وزیراعظم بیمار جیل میں ہے۔سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہیے،اگر آپ نے کسی کوگرفتار کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر قانون کہتا ہے جہاں جرم ہوگا وہاں پر سزا ہوگی تو یہ پنڈی صرف بھٹوز کے لیے کیوں تیار کیا جاتا ہے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔آپ کالعدم تنظیموں کو حراست میں نہیں لے سکتے۔ سپیکر سندھ اسمبلی کو آمدن سے زائد اثاثوں پر اسلام آباد سے حراست میں لے سکتا ہو۔ کالعدم تنظیموں کے پاس اثاثے کہاں سے آتے ہیں ،کالعدم تنظیموں کا مقابلہ ہم کسی پریشر کی وجہ سے نہیں کر رہے انڈیا یا امریکہ کی دھمکیپر ہم نہیں کر رہے ۔ہماری جدوجہد ہمیشہ سے جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ہم کہتے ہیں نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کریں ۔ حکومت کی نیت پر شک ہو گا،اگر وزیراعظم اپوزیشن کیخلاف بات کر سکتا ہے توکالعدم تنظیموں کیخلاف بات کیوں نہیں کر سکتا۔آپ نے ملک کا وزیراعظم بننا ہے ۔پیپلز پارٹی کیخلاف پراپیگنڈہ بند کیا جائے ۔
دو وزیروں کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ان کے کالعدم تنظیموں کے سے روابط ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی ۔ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ایجنڈے پر عمل کرتا رہوں گا۔ وفاق سندھ کا پیسہ دے ہم اس سے سکول ، ہسپتال کھولیں گے اور روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔پیپلز پارٹی چھوٹے صوبوں کے حقوق کے لیے الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعدسب سے زیادہ آواز پیپلزپارٹی نے اٹھائی۔ ہم نے اس حکومت کو واضح کیا ہے کہ 18ویں ترمیم میں کوئی ردو بدل قبول نہیں ۔اگر 18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو میں خود سڑکوں پر نکلوں گا۔
نیب کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی مشینری ہے ۔مریم نواز کے بارے میں ان کا کہنا تھا وہ اپنے والد کے لیے جتنی جدوجہد کر رہی ہیں مسلم لیگ ن میں کوئی اور اتنی زیادہ جدوجہد نہ کر سکتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دو وزیراعظم نہیں ہر جماعت کے وزیراعظم کو ان کے مدت پوری ہونے سے پہلے ختم کیا گیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر زرداری کیخلاف کتنے کیس بنائے گئے۔ لیکن ہر الزام میں وہ بری ہوئے۔ا س لیے میں اس کو پروپیگنڈہ کہتا ہوں۔پیپلز پارٹی کیخلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔آج تک شوکت عزیز کیخلاف کچھ نہیں ہوا، جونیجو کیخلاف کچھ نہیں ہوا ، مشرف کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  ینگ ڈاکٹرز کے بڑھتے مطالبات؟