child

مکار لومڑی اور چالاک بگلہ

EjazNews

ایک دفعہ کا ذکر کسی جنگل میں مکار لومڑی اور چالاک بگلہ بھی رہا کرتے تھے۔ مکار لومڑی ہر ایک سے پیارسے باتیں کرتی ان کے دل میں اپنے لیے جگہ بناتی۔ انہیں اپنے گھربلاتی اور پھر انہیں بے وقوف بناتی۔
ایک دن اس نے بگلے کو بے وقوف بنانے کا سوچا اپنے چکنی چوپڑی باتوں کے ذریعے اسے بھلا پھسلا کر دوست بنا لیا۔ کچھ ہی دنوں بعد اسے اپنے گھر دعوت پر بلا لیا ۔بگلے نے اس کی دعوت قبول کر لی۔ لومڑی نے پوچھا کہ کیا کھاﺅ گے۔بگلے نے بتایا کہ جو میرے جیسے سارے جانور کھاتے ہیں وہی میری بھی خوراک ہے۔ لومڑی بولی پھر ٹھیک ہے شام کو گھر آجانا، وہ جب شام کو گھر پہنچا تو فرش پر ایک پیالے میں کچھ چیزیں پڑی ہوئی تھیں ۔ اس نے بہت کوشش کی لیکن اس کی لمبی چونچ اس پلیٹ تک پہنچ ہی نہ سکی۔ لومڑی نے مزے مزے سے اسے دکھا کر کھایا۔ بغلہ بہت شرمندہ ہوا اور طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے وہاں سے رخصت ہوا۔
اسے شرمندگی ستارہی تھی، اس نے بھی لومڑی سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ اسے بھوک بہت تھی لیکن لومڑی نے اس کا مزاق اڑایا ۔ یہ وہ فراموش نہ کر سکا، اگلے دن اس نے چالاک لومڑی کا دماغ ٹھکانے لگانے کے لیے اسے اپنے گھر بلا لیا۔ اس نے ایک برتن میں لومڑی کے لیے سوپ ڈالا اور اس کے سامنے پیش کر دیا۔ سوراخی دار برتن میں لومڑی کا منہ اندر جا ہی نہ سکا۔ بگلہ مزے مزے سے کھاتا رہا چٹکخارے لیتا رہا اور لومڑی منہ دیکھتی رہی۔ کیسا ہے سوپ بگلے نے پوچھا، بہت لذیذ ہے لومڑی بولی، لیکن میراپیٹ خراب ہے ، اس لیے میں ذرا گھر جارہی ہوں یہ کہہ کر وہ خالی پیٹ واپس چلی گئی۔
بچوں دیکھو سچ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی کبھی کسی کا دل نہیں دکھانا چاہیے اور کسی بھوکے کا مذاق بنانا بہت بری بات ہے

یہ بھی پڑھیں:  کامیاب زندگی