چین کی ترقی

قومیں یوں ہی ترقی نہیں کرتیں

EjazNews

چین رقبے کے لحاظ سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے اس کا رقبہ تقریباً پورے یورپ کے برابر ہے۔یہ دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں میں سے ایک ہے۔اگر ہم چین کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو چینی تہذیب مصر، یونان ، ایران اور ہندوستان سے زیادہ قدیم ہے۔ زمانہ قدیم میں یہ اپنی ایجادات دنیا سے چھپا کر رکھتے رہے ہیں۔ چائے سے لے کر ریشم تک چینیوں نے صدیوں تک دنیا سے چھپائے رکھا کہ یہ کیسے تیار ہوتی ہیں۔ کاغذ سازی کا فن تقریبا 13 سو سال پہلے اور متحرک طباعت 8سوسال پہلے ایجاد ہوئی۔تاریخی روایات کے مطابق ساڑھے تین ہزار سال پہلے چینیوں کو کھیتوں میں پانی دینے کا طریقہ آتا تھا۔ چینی بارود کا استعمال یورپ سے بہت پہلے سیکھ چکے تھے۔
اٹھارویں صدی چین کے ہاں جنگوں کی صدی کہی جاسکتی ہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب بادشاہوں کے ستونو ں کے نیچے سے زمین کھسکنا شروع ہو گئی۔ برطانیہ کے چین میں پیر جمتے ہی امریکہ اور فرانس نے بھی للچائی ہوئی نظروں سے چین کی طرف دیکھا اور بہت سی مراعات حاصل کیں۔ جاپانیوں کے ہاتھوں چینیوں کی شکست نے اندرونی کمزوری کو اور واضح کر دیاجس سے غیروں کی چین میں مداخلت بڑھ گئی۔1840-1858-1884-1894-1900میں چینیوں کے ہاں مختلف جنگیں لڑی گئیں۔ 1911ء کے انقلاب کو یوں تو ناکام انقلاب کہا جاتا ہے لیکن میرے خیال میں اس انقلاب نے چین کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس انقلاب کے بعد 3سو سال سے قائم بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔اور چینیوں نے 1915ء سے 1925ء تک تعلیمی میدان میں بہت ترقی کی ۔ 1920ء کے بعد سے چین اپنے ہاں اساتذہ میں تقریباً خودکفیل ہو چکا تھاغیر ملکی اساتذہ کی اسے ضرورت نہیں رہی تھی۔لیکن یہ ان میں اکثریت امریکہ سے تربیت یافتہ ہوتے تھے۔ 1913ء سے لے کر 1924ء تک چین تعلیم کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں بھی ترقی کرتا رہا۔چین اس زمانے میں ہماری طرح قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور بڑے ممالک اس کی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ باآسانی لے جاتے تھے۔ دوسرا یہ ممالک چین میں بر اہ راست مداخلت بھی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ 1926ء میں جمہوریت کے لیے تحریک شروع کی گئی اور یہ تحریک کامیاب رہی۔

چینی انقلاب کا اصل موڑ اس وقت شروع جب امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا اور چین پر جاپان کی گرفت تقریباً ختم ہوئی۔ 1945ء میں 10ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد مائوزے تنگ اور کومنٹیا نگ حکومت کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا جس کے تحت امن اور جمہوریت کے اصولوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں خانہ جنگی کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔لیکن بات جنگ کے بغیر ختم نہیں ہونی تھی اس لیے جنگ ہوئی ۔کہا جاتا ہے کہ 1946ء میں چینی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز چینگ کائے شیک کی فوج اور پیپلز لبریشن آرمی کے درمیان ہوئی۔ کائے شیک کی فوج تعدادمیں43لاکھ تھی جبکہ پیپلز لبریشن آرمی 12لاکھ80ہزارتھی۔ اس جنگ میں پیپلز لبریشن آرمی کی فتح ہوئی۔ 21ستمبر 1949ء کو چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس بیجنگ میں منعقد ہوئی جس میں چین کا نام عوامی جمہوریہ چین رکھا گیا اور مائوزے تنگ کو حکومت کی مرکزی کونسل کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ 55 ممبران پر مشتمل مرکزی حکومت کی ایک کونسل تشکیل دی گئی جس میں چو این لائی بھی شامل تھے۔
چین کے صوبے ہنان میں ایک غریب کاشتکار کے ہاں پیدا ہونے والے والے مائوزے تنگ پہلی جنگ عظیم کے بعد عملی سیاست میں آئے اور چینی کے انقلابی رہنما بنے۔ 1957ء میں امریکہ کوریا پر حملہ کرنا چاہتا تھا اور مائو یہ جانتے تھے کہ امریکہ چین کو اپنا اڈہ بنانا چاہتا ہے 1957ء میں مائو نے اپنی ایک تقریر میں کہا
’’کیا ہم اس سے ڈر جائیں گے؟وہ بیشک ایٹم بم استعمال کریں،اگر ستر کروڑ چینیوں میں سے چالیس کروڑ ہلاک بھی ہو جائیں تو جب بھی تیس کروڑ چینی اپنے دشمنوں سے نپٹ لیں گے‘‘
اور پھرتین سال کے اندر اندر دنیا یہ سن کر متعجب ہوگئی کہ چین نے میزائل بردار ایٹم بم تیار کر لیا ہے۔10سال تک مائوزے تنگ عوامی تقریبات سے دور رہے۔ سرکاری رسمی تقریبات میں بھی رسمی طور پر نظر آتے رہے اور پھر 31جولائی 1955ء میں عوام کے سامنے ایک پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام لے کرآئے۔1955-56ء میں مائوزے تنگ نے اپنی تین جلدوں پر مشتمل تصنیف شائع کی۔ اس باتصویر تصنیف میں سارا موا ددیہات میں اجتماعی فارم قائم کرنے سے متعلق تھا۔ اس دوران چین میں باصلاحیت لوگوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرپور فائدہ اٹھایاگیا۔ زرعی انقلاب کے لیے تمام زرعی پیداوار کو قومی تحویل میں لے لیا ۔ زراعت کو بے پناہ ترقی دینے کے ساتھ ساتھ دیگر امور میں جس تیز رفتار ترقی کا آغاز کیا بیسویں صدی کی کسی اور نو آبادیاتی مملکت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی شاید ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ جب چینی عوام کی جدوجہد فتح کی منزل حاصل کر چکی تو سرمایہ داری اور جاگیر داری کا خاتمہ تحریک کے قائدین کی اولین ترجیح ٹھہرا۔
1949ء میں سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا گیا تو قومی تحویل میں لی جانے والی صنعتوں کے بنیادی مقاصد تبدیل ہو گئے اور سرمایہ دار اس انقلابی ریلے کا مقابلہ نہ کر سکے۔ انقلاب کے بعد تمام مالی ادارے ، بینک، اثاثے اور سامراجیوں کے زیر انتظام چلنے والے ادارے قومی تحویل میں لے لئے گئے ایسے اور بہت سے اقدامات سے سامراجی ممالک کی منافع خوری کی جکڑ بندیوں کو توڑنے کا تیز رفتار سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملک میں پہلی مرتبہ معیشت کو چلانے کا طریقہ کار منڈی کے اتار چڑھائو کے ماتحت رکھنے کی بجائے ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔ چنانچہ پیداواری صلاحیتوں ، ضروریات اور ان کے حصول کے لئے معاشی و صنعتی پیداوار میں توازن پیدا کر نے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس نئے نظام کے تحت وافر مقدار میں سرمایہ اور وسائل پیدا ہونے کی وجہ سے سماجی ترقی میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔1966ء میں چین میں ثقافتی انقلاب کے عوامل اور اس کے تیزی سے بھڑکنے کے عمل میں مائو کی شخصیت کا بہت زیادہ عمل دخل تھا۔ آج چین دنیا کی تقریباً تمام تجارتی منڈیوں پر قابض ہو چکا ہے۔

تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے یہ چاہے صنعتی ہو یا ثقافتی ہو ۔یہ بات مائو کو بہت پہلے سے معلوم تھی۔ 1949ء میں انقلاب چین رونما ہوا تو چینی زبان کا رسم الخط پیچیدہ اور انتہائی ناقابل فہم تھا اس رسم الخط کی وجہ سے چین کا کتابی سرمایہ محدود تھااس پر قابو پانے کے لیے چین میں زبان کی تربیت کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا جس کی بدولت ایک ذہین آدمی تین یا چار ہفتے کی محنت کے بعد چینی زبان میں سوجھ بوجھ پیدا کر سکتا ہے۔ چین میں فوری طور پر جہاں حروف کی اشکال بھی اتنی آسان کر دی گئیں اس سے فروغ تعلیم میں بڑی مدد ملی۔چین کی ترقی میں دوسری رکاوٹ غیر ملکی اثرو رسو خ تھا اس وقت تک چین کے اکثر اساتذہ امریکہ سے تربیت حاصل کر کے آتے تھے جن کے ذہنوں میں یہ چیز راسخ ہوتی تھی کہ علم کی نعمت عام لوگو ں کے لئے نہیں ہوتی بلکہ یہ تحفہ صرف ایک طبقے کے لئے مخصوص ہے۔ اُس وقت چین کے سربراہ نے چین کے تعلیمی ڈھانچے کے لئے یہ بنیادی نعرہ دیا کہ
’’ہمارا تعلیمی نظام سامراجی ذہنوں کی نفی کرتا ہے اور یہ چینی قوم کی آزادی اور اس کے وقار کا امین ہے۔ اس نظام کا سلسلہ دنیا ایک سوشلسٹ اور جمہوری قوموں سے ملتا ہے۔‘‘
مائوکے یہ الفاظ چین کے تعلیمی نظام میں بنیادی اصول کے طور پر آج بھی مدنظر رکھتے جاتے ہیں اور پھر بہت جلد چین میں تعلیم کے لئے واضح اصول مرتب کر لئے گئے۔ چین کی آزادی کے صرف تین سال بعد چین کے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں سابق حکومت کے دور میں ایک بچہ تعلیم حاصل کرتاتھا وہاں اب ڈیڑھ سو سے دو سو تک بچے تعلیم حاصل کرنے لگے تھے۔ چین نہ صرف اپنے آپ کو زرعی ، تعلیمی ، فوجی طاقت کے طور پر بڑھا رہا بلکہ یہ دنیا میں اپنا اثرو رسوخ بھی آہستہ آہستہ بڑھا رہا تھا۔22سال کی تگ و دو کے بعد چین 26اکتوبر 1971ء کو اقوام متحدہ میں اپنی نشست سنبھالنے میں کامیاب ہوا۔ چین کی اقوام متحد ہ میں رکنیت کیلئے قرار داد پاکستان سمیت بائیس ممالک نے کی پیش کی تھی جو کہ اکثریت رائے سے منظور کی گئی۔
چین آج دنیا میں ایک واضح مقام رکھتا ہے۔ اس کی بات کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ لیکن یہ کوئی دو دن کی جستجو نہیں ہے اس کے پیچھے صدیوں کا سفر ہے جو چینی قوم نے طے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھو تھو