ننھے منھے

جب ننھے منے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگیں تو کیا کیا جائے؟

EjazNews

سوچئے مت اور آپ ہماری یہ تحریر غور سے پڑھئے ۔اگر آپ کا بچہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ باعث مسرت ہے۔ آپ بچوں کو ہمیشہ مناسب ناپ کے کپڑے پہنائیں۔ پھسلنے والے موزے، حد سے زیادہ لمبی یا تنگ پوشاک آپ کے بچوں میں قدم اٹھانے کے حوصلے کوپست کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ بچے کے پائوں ننگے ہی رہنے دیجئے اور انہیں آرام دہ پچامے اور اسٹریچ ہونے والی شرٹ پہنائیں۔ ایسا کوئی لباس استعمال نہ کریں جو ان کی نقل و حرکت میں دشواری یا پیر کو پھنسانے کا باعث بنے۔ اگر آ پ کا بچہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگا ہے تو یہ یقینی بنائیں کہ آپ کے آس پاس کی جگہ صاف ستھری، جراثیم سے پاک ہو اور وہاں کسی قسم کی چوٹ کا باعث بننے والا کوئی بھی سامان نہ رکھا ہو۔ اسی طرح نوکیلی میزوں و دیگر فرنیچر سے بھی بچوںکو دور رکھنے کی کوشش کیجئے۔ جہاںبچہ کھیلتا ہے وہاں موجود چیزوں کو کسی اونچی جگہ پر رکھیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے سٹور سے سیفٹی کےلیے ضروری سامان بھی خریدا جا سکتا ہے۔ جب بستروں پر جانے کا وقت قریب ہو تو بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی ترغیب نہ دیں۔ اس طرح نہ صرف وہ تھک جائے گا بلکہ تنگ بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ توازن قائم رکھنے اور دونوں ہاتھوں سے خود کو سہارا دینے جیسی اہم باتوں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ جب آپ یہ دیکھیں کہ آپ کا بچہ ایک بار اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے تو اسے بار بار کھڑا ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔ یہ جتنا زیادہ اپنے پیروں پر کھڑاہوگا ،اسے دوسرا قدم اٹھانے کی اتنی ہی ترغیب ملے گی،اتنا ہی تیزی سےیہ چلنا سیکھے گا۔ بچے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی جاری رکھیے۔ اس کے نتیجے یں بچہ کھڑا ہو جائے تب بھی اور اگر وہ اپنا توازن قائم نہ رکھ سکے تب بھی اس کو لازمی کوئی نہ کوئی انعام دیجئے۔ یہ انعام ڈھیر ساری تعریفیں اوربوسوں کی صورت میں بھی دیا جاسکتا ہے آپ کا بچہ اس مرحلے میں جتنا پر جوش ہوتا ہے اتنا ہی کنفیوژ بھی ، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے آس پاس ایسے لوگ ہونے چاہئیں جس کے اس پر مثبت اثرات ہوں۔ بچوں کے سامنے اپنے اہل خانہ اور دیگر دوست احباب کو بھی بٹھائیں جو ان کی ویسے ہی حوصلہ افزائی کریں جیسے کسی میچ کے دوران تماشائی اپنی ٹیم کی کرتے ہیں، کیونکہ اس قسم کی حوصلہ افزائی کافی اثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خاندانی نظام میں عورت کا کردار