mobile phone

بیرون ملک سے ایک موبائل فون کی پابندی

EjazNews

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین اور کسٹم حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنسوں کی 2015ء کی پالیسی کے تحت تجدید ہوگی جبکہ کمیٹی اراکین نے موبائل کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کے حوالے سے بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اراکین نے آئی ٹی اکنامک زون، تھری جی سروس 6ہزار دیہات کو پہنچانے کی سفارش بھی کی جبکہ بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کے ایک موبائل لانے پر شدید اعتراض بھی اٹھایا۔
اس سلسلے میں چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ہر سم میں لگنے والی ڈیوائس کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، درآمد کیے جانے والے موبائل کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے صارف کو 60دن کی مہلت دی گئی ہے۔
کسٹم حکام نے کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا کہ قانون نافذ ہونے کے بعد سے اب تک بیرون ملک سے آنے والے 34000موبائل رجسٹرڈ ہوئے جبکہ صرف 116موبائل فونز پر ڈیوٹی وصول کی گئی جس کی مد میں 15لاکھ روپے وصول ہوئے۔جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ موبائل فون کی مقامی صنعت سے تیاری کے لیے اسمگلنگ کو روکنا بہت ضروری ہے۔ جب تک غیر قانونی طریقے سے برآمدگی نہیں روکی جاتی مقامی انڈسٹری ترقی نہیں کر سکے گی۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ برس کے آخر تک موبائل فون کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد اس کی تاریخ میں 15جنوری تک توسیع کی گئی تھی ،بعد ازاں اس تاریخ کو14فروری تک بڑھایا گیا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں وفاقی کابینہ نے اسمگل شدہ موبائل فونز کی روک تھام کے لیے نئی پالیسی تشکیل دی تھی ۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان 12نگران وزراء کا تقرروزیراعظم نے کر دیا