moon

ایک چندہ ماما کی کہانی ختم

EjazNews

بچپن سے چندا ماما کی کہانیا ں نانی دادی سے سنتے آئے ہیں ، وہ زمانہ بیت گیا جب ایک چاند کا راج ہوا کرتا تھا۔ چندہ ماما کی کہانیاں اب پس منظر میں چلی جائیں گی۔ چونکہ حال ہی میں سائنسدانوں نے سورج کے نظام شمسی میں ایک سو سے زیادہ سیاروں اور ہمارے چندہ ماما سے بڑے متعدد چاند ٹھونڈ نکالے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھاسورج کے نو چاند میں عطار د، زہرہ، زمین ، مریخ، مشتری، زحل، یورینس ، نیپچون اور پلوٹو شامل ہیں۔ پلوٹو کی انٹری نظام شمسی میں بطور سیارہ تھوڑے ہی سال رہی۔ 2006ءمیں سائنسدانوں نے پولٹو کو ”بونا“ سیارہ قرار دیتے ہوئے اسے سورج کے چاندوں میں سے نکال دیا۔ اس کے بعد آٹھ سیارے رہ گئے۔ لیکن اب سائنسدانوں نے اسے مکمل چاند قرار دیتے ہوئے نظام شمسی کا حصہ بنانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سورج کے چاند یا سیاروں کی تشریح میں کچھ تبدیلی کی جائے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کم سے کم سو اور زیادہ سے زیادہ ایک سو دس چاند دریافت ہوئے ہیں۔ پلوٹو 1990ءمیں دریافت ہوا تھا اور 2006ءمیں اپنے چاند والے سٹیٹس سے محروم ہو گیا تھا۔لیکن اب ایرس اور فیرس جیسے بڑے چاند بھی دریافت ہوئے ہیں۔ جس کے بعد سائنسدان پلوٹو کو باقاعدہ سیارہ قرار دینے والے ہیں۔ جان ہاکسن یونیورسٹی کے کربی رون یان نے اسی سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو مشتری اور دوسرے سیاروں کے گرد گھومنے والے چاندوں کا پتہ چلائیں گے۔ انہوں نے مشتری کے ایک چاند کو یورو فا کا نام دیا ہے۔ یہ بھی نظام شمسی کا حصہ ہے۔ اسی طرح مریخ ، نیپچون اور زمین کے بھی کچھ چھوٹے چھوٹے سیارے دریافت ہوئے ہیں۔ اس طرح مستقبل میں ہمارا نظام شمسی میں بہت سارے چاند گھومتے نظر آئیں گے۔ سائنسدان ان چاندوںکے بارے میں ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے لیکن حتمی فیصلے ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کولاحق خطرات