hart probloms

دل کے فیل ہونے کی علامات اور بچاؤ

EjazNews

ڈاکٹر غلام صدیق صاحب کے اس آرٹیکل میں دل کے فیل ہونے کی وجوہات اور ان سے انسان کیسے بچ سکتا ہے پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے جو کہ قارئین کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ دل کا عارضہ ہمارے ملک میں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
دل کا فیل ہو جانا ایک ایسی بیماری کا نام ہے جو ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں ،جس میں دل مناسب مقدار میں خون کو جسم کی طرف پمپ کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے جس کو ہارٹ فیلیورکہتے ہیں ۔
جیسا کہ تقریبا تمام لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ انسانی جسم میں دل ایک ایسا عضو ہے جو خون کو پمپ کرنے کا کام کرتا ہےاور اس کا پمپ کرنے والا عمل پیدائش سے لیکر موت تک مسلسل جاری رہتا ہے اور جب دل خون کو پمپ کرنے کا عمل بند کر دیتا ہے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ دل اپنا فعل تمام زندگی مسلسل کرتا ہے لیکن بعض اوقات اس کے فعل میں کوئی خرابی واقع ہو جاتی ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں، ایسی ہی دل کی ایک بیماری کا نام ہارٹ فیلیور بھی ہے، اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں آیئے کچھ بڑی بڑی وجوہات کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہارٹ فیلیور کی وجہ وہ کنڈیشن بن سکتی ہے جس کی وجہ سے دل کے عضلات کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جائے اور بنیادی طور پر اس صلاحیت میں کمی ہونے کی دو وجوہات ہیں ،پہلی دل کے عضلات کو کسی وجہ سے ہونے والا نقصان اور دوسرا اوور لوڈنگ یعنی دل میں خون کی مقدار زیادہ ہو جائے دل کے عضلات کو نقصان پہنچنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ مائیو کارڈیل انفارکشن جس میں دل کے عضلات کا وہ حصہ مردہ ہو جاتا ہے جہاں اوکسیجن کی سپلائی ختم ہو جاتی ہے اسی طرح بلند فشار خون میں دل کے عضلات کو زیادہ زور سے خون کو پمپ کرنا پڑتا ہے اور وہ خراب ہونے لگتے ہیں پھر ایک اور بیماری ہے جس کی وجہ سے دل کے عضلات کے ریشوں کے درمیان ایمپلائیڈ نامی ایک مادہ جمع ہو کر عضلات کی خرابی کا باعث بنتا ہے ان بیان کردہ وجوہات کی بنا پر دل کو ضرورت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے باعث دل کے عضلات میں تبدیلیاں واقع ہونے لگتی ہیں، ایک نارمل دل میں اگر خون کی زیادہ مقدار آنے لگے تو دل کے عضلات زیادہ طاقت سے سکڑنے لگتے ہیں تاکہ زائد مقدار کوآگے کی جانب یعنی جسم کی طرف دھکیلا جا سکے لیکن اگر دل کے عضلات خراب ہوں اور ان کو کسی وجہ سے نقصان پہنچ چکا ہو تو ایسی صورتحال میں عضلات زیادہ قوت کی بجائے نارمل سے بھی کم طاقت سے پمپ کرنے لگتے ہیں اور خون آگے کی بجائے دل میں اور دل سے پیچھے خون کی نالیوں میں جمع ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے ٹانگوں میں سوجن ہونے لگتی ہے۔
دل کے عضلات میں خرابی اور نقصان ہونے کی وجہ کچھ بیماریاں بھی بنتی ہیں مثلا کورونری آرٹری ڈیزیز، مائیوکارڈیل انفارکشن، ہائپرٹنشن، دل کے والو کی بیماریاں، کثرت شراب نوشی، انفکشن اور بعض دفعہ وجہ معلوم نہیں ہوتی دل میں خون کی اوور لوڈنگ کی بھی کچھ بیماریاں ذمہ دار ہو سکتی ہیں مثلا گردوں کی خرابیاں، کرانک انیمیا ،بیری بیری، گلھڑ، جگر کا سکڑنا ،شریانوں اور وریدوں کی ساخت کی خرابیاں وغیرہ جبکہ خون اور خون کی پراڈکٹس مثلا سیرم لگانے سے بھی خون کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ بعض دفعہ دل کے عضلات کی وائرل انفیکشن ہو جاتی ہے جس سے دل کے عضلات خراب ہو کر ہارٹ فیلیور کا باعث بن جاتے ہیں، کچھ ادویات بھی ایسی ہوا کرتی ہیں جو دل کے عضلات پر برا اثر ڈالتی ہیں اور ہارٹ فیلیور کا باعث بن جاتی ہیں، کچھ زہریلے مادے بھی مثلا سیسہ کوبالٹ وغیرہ بھی دل کے عضلات کو نقصان پہنچاتے ہیں ،ایک مخصوص کنڈیشن ’’ایسٹرکٹو سلیپ اپنیا نامی بھی دل کے فیل ہونے کا باعث بنتی ہے یہ ایک ایسی کنڈیشن ہے جس میں مریض کو سونے کے دوران سانس لینے میں دقت ہوتی ہے اور اس کی وجہ موٹاپا، بلند فشار خون اور شوگر ہوا کرتی ہے۔
ہارٹ فیلیور کی وجہ سے دل سے خون کی مناسب مقدار پمپ نہیں ہوتی جس سے جسم کو خون کی مناسب مقدار نہیں مل پاتی۔ خون دل اور وریدوں میں جمع ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے ٹانگوں اور جسم کے دوسرے حصوں میں سوجن پڑنے لگتی ہے اگر پانی پھیپھڑوں میں جمع ہو جائےتو اس کو پلمونری اڈیما کہتے ہیں جبکہ پیٹ میں پانی جمع ہونا اسائٹیز کہلاتا ہے ،اگرچہ ہارٹ فلیور بڑھاپے کی عام بیماری ہے لیکن یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے اور یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں بھی بچے کو ہو سکتی ہے، اگر بیماری فوراً ہو جائے تو اس کو اکیوٹ اور اگر دیرینہ ہو تو کرانک کہلواتی ہے ۔
اقسام
دل کے فیل ہونے کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کی بنیاد دل کی خون کو ایک دھڑکن کے دوران پمپ کی گئی مقدار پر ہے اس کو دایاں ہارٹ فیلیور اور بایاں ہارٹ فیلیور بھی کہا جاتا ہے ۔دائیں جانب کے ہارٹ فیلیور یا ڈیاسٹالک ہارٹ فیلیور بھی کہاجاتا ہے۔ اس میں دل خون کی نارمل مقدار کو آگے کی جانب پمپ کرتا ہے لیکن اس میں دل پوری طرح پھیلتا نہیں جس کی وجہ سے خون کی پوری مقدار دل میں جمع نہیں ہو پاتی بلکہ پیچھے کی جانب وریدوں میں جمع ہونے لگتا ہے جبکہ لیفٹ ہارٹ فیلیور میں دل کے اندر خون تو نارمل مقدار میں جمع ہوتا ہے لیکن دل پوری طرح سکڑتا نہیں جس سے دل میں خون کی مقدار جمع ہونے لگتی ہے کیونکہ دل کی بائیں جانب پھیپھڑوں سے صاف خون آتا ہے ،لہٰذا لیفٹ ہارٹ فیلیور میں خون پھیپھڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔

علامات
طبی زبان میں اسی لئے لیفٹ ہارٹ اور رائٹ ہارٹ فیلیور کی علامات کو الگ الگ بیان کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا کرتا ،عام طور پر دونوں کی علامات اکٹھی بیان ہوتی ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ عموما پہلے لیفٹ ہارٹ فیلیور ہوتا ہے جبکہ اسکی وجہ سے رائٹ ہارٹ فیلیور ہوتاہے ۔اگر صرف کلاسیکل لیفٹ ہارٹ فیلیور کی علامات کو دیکھا جائے تو اس میں خون پھیپھڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے اور جسم کو صاف خون کی سپلائی میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دقت اور جسمانی تھکن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جلد کا رنگ نیلگون ہونے لگتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دل سے نارمل آواز کے ساتھ ساتھ اضافی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں جو دل کے والو کی خرابی کا پیغام دیتی ہیں ،اس مرض میں مبتلا انسان کو بہت جلد سانس چڑھ جاتا ہے ،شروع میں تھوڑا کام کرنے پر اور مرض کے بڑھ جانے پر آرام کی صورت میں بھی سانس چڑھنا شروع ہو جاتا ہے پھر ایک خاص علامت لیفٹ ہار ٹ فیلیور کی یہ بھی ہے کہ مریض کو سیدھا لیٹنے پر بھی سانس چڑھ جاتا ہے اور اسے اٹھ کر بیٹھنا پڑتا ہے اور مرض کے بڑھ جانے کی صورت میں مریض تکیوں کے سہارے بیٹھ کر سونے کی کوشش کرنے لگتا ہے پھر اس قسم کے مریضوں میں دمے جیسی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں جس کو کارڈیک استھما کہتے ہیں کیونکہ لیفٹ ہارٹ فیلیور میں جسم کو صاف خون کی سپلائی میں کمی ہو جاتی ہے اس لئے وہ غنودگی اور کنفیوژن میں مبتلا رہتا ہے اور اس کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے رہتے ہیں۔جبکہ رائٹ ہارٹ فیلیور کی سب سے بڑی علامت اور نشانی ٹانگوں کا اڈیما یعنی پانی جمع ہونے سے سوجن ہونا ،پیٹ میں پانی پڑنے سے پیٹ کا پھول جانا اور جگر کا سائز بڑھ جانا ہوتی ہے ۔ایسے مریضوں میں رات کے وقت زیادہ اور بار بار پیشاب آنے کی علامت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب انسان لیٹتا ہے تو اس کی ٹانگوں میں جمع شدہ پانی واپس خون میں شامل ہو جاتا ہے جو بار بار پیشاب کا باعث بنتا ہے جبکہ جگر میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے جگر کے فعل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے حتیٰ کہ یرقان بھی ہو جاتا ہے۔ اگر ہارٹ فیلیور سے بچنے کی ترکیب بارے بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا تعلق کسی انسان کے جسمانی کام کرنے سے بہت گہرا ہے جو لوگ زیادہ جسمانی محنت کا کام کرتے ہیں وہ عام طور پر اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں اور ان میں یہ بیماری ہونے کا امکان سست اور ورزش نہ کرنے والے لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔

بچاﺅ
ہارٹ فیلیور سے بچنے کیلئے بلڈ پریشر شوگر اور کولیسٹرول لیول کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے وزن کو کنٹرول میں رکھنا ازحد ضروری ہے۔ نمک اور چینی کا استعمال کم سے کم رکھیں، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کو فوراً ترک کر دیں، اسلام میںتو نشہ ویسے ہی حرام ہے، لہٰذا اس لعنت سے دور رہیں ،باقاعدگی سے ورزش کریں، چکنائی اور مرچ مصالحے سے حتی الامکان دور رہیں۔

کیٹاگری میں : صحت