آپ کے خیالات آپ کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں

EjazNews

آدمی جیسے خیالات رکھتا ہے ویسا ہی بنتا ہے۔ خیالات کا صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے جو لوگ عیش و عشرت ، فحاشی کے جذبات دل میں لاتے ہیں اسی طرح کی بات چیت یا تفریح و دل بہلائو کرتے رہتے ہیں ۔وہ اعلیٰ صحت حاصل نہیں کر سکتے۔ سوچ ، فکر ، غصہ، خوف ، مایوسی ،بے صبری، بغض وکینہ ، بدنیتی، لالچ، غرور وغیرہ خیلات بھی امراض کی خاص وجوہات ہیں۔
غلط خیالات سے ہونے والے کچھ امراض کی مثالیں دیکھئے
سوچ و فکرسے ہائی بلڈ پریشر ، دل کے امراض، ذیابیطس ، بے خوابی وغیرہ ہوتا ہے ۔
خوف سے نوجوانی کی عمر میں بال سفید ہونا اور کم عمر میں بڑھاپے کی طرف انسان جانا شروع ہو جاتا ہے۔
غصہ سے پیٹ اور آنتوں میں چھالے وغیرہ بن جاتے ہیں۔
لالچ سے بد ہضمی اور دست لگ جاتے ہیں جبکہ مایوسی بد ہضمی، جوڑوں کا درد وغیرہ کا سبب بنتی ہے۔
کچھ لوگ محض غلط خیالات کی وجہ سے ہی دکھ بھگتتے ہیں۔ ایسے مریضو ں کے جسم کا چاہے جتنا بھی مناسب علاج کیا جائے پھر بھی انہیں تب تک صحت حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے خیالات میں سدھار نہیں ہو پاتا۔ برے ارادے سے جس طرح مختلف امراض پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے اچھے ارادے سے مختلف امراض اچھے ہو جاتے ہیں۔
اگر تحت الشعور دماغ میں یقین پیدا ہو جائے کہ مرض اچھا ہو رہا ہے تو یقینا ہی مرض اچھا ہو جائے گا۔ ا س طریقہ سے ایک دو نہیں بلکہ سبھی طرح کے مرض اچھے کئے جاسکتے ہیں ،اس لیے مریض چاہے کسی بھی مر ض میں مبتلا کیوں نہ ہو صحت یاب ہونے کے ارادے کی مشق اسے ضرور کرنی چاہیے۔
دنیا کے کسی بھی طریق علاج سے جو مرض اچھا نہیں ہو سکتا وہ محض صحت یاب ہونے کے اچھے ارادے سے ضرور ٹھیک ہو سکتاہے۔
ٹیلی ویژن کا تحت الشعور دماغ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے ،اس لیے اس کے پروگراموں کو دیکھنے کا چنائو اور وقت سوچ سمجھ کر طے کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  ناگوار سانسوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے
کیٹاگری میں : صحت