عمر کے ہر حصے میں صحت مند کیسے رہا جائے؟

EjazNews

انسانی زندگی کئی مراحل پر مشتمل ہے ۔ وہ پیدا ہوتا ہے۔ بچپنے میں رہتا ہے ، جوان ہوتا ہے اور تیسرے مرحلے میں بوڑھا ہوجاتا ہے۔ سائنسدانوں اور محققین نے انسانی زندگی پر کچھ تحقیقات کیں اور اندازہ لگایا کہ انسان کو کس عمر میں کیا کرنا چاہیے تاکہ وہ ہر عمر کی مناسبت سے اپنی زندگی کو انجوائے کر سکے اور ایک بہترین زندگی گزار کر خالق حقیقی کی جانب لوٹ جائے۔ زندگی کے انہی مراحل پر مشتمل رپورٹس سے ہم نے آپ کیلئے اقتباساس چنے ہیں جس سے آپ اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بھی رکھ سکتے ہیں اور بہتر زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ آئیے پڑھتے ہیں کہ کس عمر میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کس طرح ہم جسمانی ، ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔
18سے 35سال کی عمر میں
یہ وہ عمر ہے جس میں نوجوان اپنے آپ کو عملی زندگی کے لیے تیار بھی کرتا ہے اور اس کا آغاز بھی ، اس عمر میں لائف سٹائل یکسر بدل جاتا ہے بچپن کی آسان زندگی ختم ہو جاتی ہے اور ایک انتہائی مصروف مستقبل اس کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے ۔دن بھر کا ایک مصروف شیڈول نوجوان کے سامنے میز پر پڑا رہتا ہے۔ اس عمر میں بہت زیادہ کھیل کود کرنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اسی عمر میں کھیل کے میدانوں کو خیر باد کہہ دینا چاہئے۔یونیورسٹیوں ، کالجوں اور نوکری جیسی اہم منزلیں نوجوانوں کے سامنے ہوتی ہیں، پوری بھرپور توجہ اس طرف مبذول ہونی چاہیے۔ پارٹیوں میں شرکت اور دعوتیں ضرور اڑانی چاہئیں لیکن توازن کے ساتھ ، فٹنس کیلئے کوئی کلب جوائن کیجئے تاکہ جسمانی صحت برقرار رہے، اسی عمر میں سماجی تعلقات قائم بھی ہوتے ہیں اور بگڑتے بھی ہیں ، کھیل کے میدان یا جمنز صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے تعلقات بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس لیے سب کاموں کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے آسان طریقہ ورزش کا ہے۔
35سے 60سال کی عمر میں
یہ عمر کئی حوالوں سے آپ کیلئےکٹھن آزمائشیں لے کر آتی ہے۔ شادی ہو چکی ہوتی ہے، بچوں کی فیسیں دینے کے لیے ادھار لینا پڑتا ہے یا گھر چلانے کے لیے مزید پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینک سے جلدی سے گاڑی تو مل جاتی ہے لیکن قسطوں کی ادائیگی 24گھنٹے سر پر سوار رہتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں بچپن اور جوانی کی دونوں سرگرمیاں یکسر ختم ہو جاتی ہیں۔بہت زیادہ مسائل میں گھرے نوجوانوں کیلئے پریشانیاں اور تنہائیاں گھر بنائے ہوتی ہیں جس سے وزن بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ، نظام ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور نوکری بوجھل دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس لئے اپنے لیے آسائشیں ضرور حاصل کریں لیکن اپنے آپ کو مشکلات کا شکار بنا کر نہیں محنت کے ساتھ آہستہ آہستہ۔
60سال سے زائد عمر میں
60کی حد کو پار کرنے والوں کیلئے کسی بھی قسم کی ورزش کرنا آسان نہیں کیونکہ پٹھے کمزور پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے استعمال نہ ہونے والے اوزار ضائع ہو جاتے ہیں ۔ لہٰذا گھر کے اندر ہی کوئی ہلکی پھلکی ورزش کیجئے۔ جسمانی قوت کے مطابق وزن اٹھانے والی ورزش بہترین ہے۔ اس سے پھیپھڑے ، گھٹنوں کی ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو یوگا شروع لیجئے۔
کم از کم 20سے 30منٹ تک ہفتے میں میں دو تین مرتبہ تیز تیز واک کیجئے اس سے چستی بھی پیدا ہو گی اور فٹنس بھی۔کسی ٹرینر سے مدد لے لیجئے تا کہ وہ آپ کے لیے مفید ورزشوں کے بارے میں بتائے۔ لہٰذا جوڑوں کی ہڈیوں کو موومنٹ کے قابل رکھیے اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے کوئی آسان سی ورزش کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  طاعون یا سیاہ موت: حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے
کیٹاگری میں : صحت