دنیا بد ل گئی ہے اور ایشیا

EjazNews

تحریر: اخلاق احمد
انسان نے خواب دیکھا کہ وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ گیاہے ،بند آنکھوں سے دیکھا یہ خواب پہلے کاروں نے پورا کیا ،پھر ہوائی جہاز نے ، رہی سہی کسر راکٹ سسٹم نے پوری کردی ۔اب تو بلٹ ٹرین کا زمانہ ہے جو پلک جھپکنے میں ایک شہر کراس کر جائے گی۔ چین میں ایک ایسی ٹرین کی بھی شنید ہے جس میں ہر سٹیشن کا پلیٹ فارم اس کے ساتھ چلے گا۔ لوگ اتر جائیں گے پلیٹ فارم وہیں رہ جائے گا یہ ایک جدید سائنس ہے۔سائنس فکشن فلم سٹار ٹریک اگر آپ کو دیکھنا کا اتفاق ہوا تواس میں ایک مشین میں بیٹھا شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ گیا کئی دہائیوں تک یہ صرف سٹارٹریک میں تھا مگر اب سائنسدان یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ تھری ڈی پرنٹنر یا کسی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اشیاءکو ایک جگہ سے دوسری جگہ کیوں منتقل نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے امکانات پر تحقیق ہو رہی ہے ہم نہیں کہہ سکتے یہ ناکام ہو گی یا کامیاب۔
ہوا میںاڑنے والی گاڑیوں پر دن رات تحقیق ہو رہی ہے ۔ شنید ہے کہ ایک ایسی موٹر بائیک تو تیار بھی کر لی گئی ہے۔ جسے انسان سڑک کی بجائے اڑا بھی سکتا ہے۔ یہ تحقیقات اور تخلیقات کی دنیا دن بدن بدلتی ہی جارہی ہے۔ اور آگے سے آگے بڑھنے کی طرف گامزن ہے ۔کچھ سائنسدانوں نے سوچنا شروع کیا کہ مکان اگر زمین پر پڑے رہ سکتے ہیں ، جہاز ہوا میں اڑ سکتے ہیں ۔ ہیلی کاپٹر ہوا میں کھڑا ہو سکتا ہے، انسان ان میں سے اتر سکتا ہے۔ ہوا میں معلق ہیلی کاپٹر میں سامان منتقل کیا جاسکتا ہے توایسی ہی طاقتور چیز کسی بڑی عمارت کوہوا میں کیوں کھڑا نہیں کر سکتی ۔ یہی تخلیقی سوچ ہوا میں معلق عمارتوں کی بنیاد بن رہی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا میں بلند ترین عمارتوں کی تعمیر زورو شور سے جاری ہے جو باتیں کبھی قصے کہانیوں میں پڑھی تھیں وہ اب حقیقت کے روپ میں سامنے ہیں، ایسا ہی ایک بڑا منصوبہ یورپی سپیس ایجنسی نے 2015ءمیں شروع کیا وہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت خلا میں بنانا چاہتا ہے۔ یہ خلائی ٹاور 32ہزارمیٹر کی بلندی پر ہوگا۔ شمسی توانائی سے بجلی ملے گی ، بادلوں اور ہوا سے پانی لے گا۔ فلٹر اور صاف کرنے کی مشینری پلانٹ میں نصب ہوگی۔ توانائی ،کھانا پینا سارا کچھ اندر ہوگا اس ملٹی بلڈنگ کی اونچائی پر دھوپ کا دورانیہ 45منٹ زیاد ہ ہوگا تاکہ طاقتور سولر پینل زیادہ بجلی حاصل کر سکیں ۔خلا میں معلق اس بلڈنگ کا درجہ حرارت منفی 40ڈگر ی سینٹی گریڈ ہوگا۔ عام حالات میں اس درجہ حرارت پر آپ باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ صفر درجہ حرارت پر پانی برف بن جاتا ہے۔ سانس بھی جمتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن خلا باز منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ پر بہت مزے سے زندگی گزارتے ہیں ۔ اس خلائی ٹاور کے مکینوں کو بھی خلا بازوں جیسی خصوصی تربیت دی جائے گی۔

مصنوعی ذہانت نے پوری دنیا کے سامنے نئے چیلنجز کھول دئیے ہیں۔ ربورٹس سے وہ کام لیے جارہے ہیں جوکبھی انسان کیا کرتے ہیں۔ انہیں اس قابل بنایا جارہا ہے کہ ان میں انسانوں کی طرح سوچنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکی۔
لیکن اگر ہم ایشیاءکی طرف دیکھیں تو اندازہ ہو تا ہے کہ ایشیاءکہا ںپر ہے۔ آپسی لڑائیوں ، جھگڑوں ، ہزاروں قسم کی مکروہات میں ڈوبا ہوا ایشیاء، غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزارنے والے کروڑوں انسان، ترقی یافتہ ممالک کے پھینک ہوئے کپڑوں،جوتوں، برتنوں اور بہت سی دیگر اشیاءکو پہننے والے ہزاروں انسان یہاں پر عام موجود ہیں۔ دنیا جب خلا ءمیں گھر بنانے کا سوچ رہی ہے۔ تو یہاں پر بسنے والے انسان نہ جانے کیوں آپس میں لڑائی جھگڑے کا سوچ رہے ہیں۔ ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود ، کروڑوں انسانوں کی زندگی داﺅ پر لگانے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ جنونیت کی انتہا تو یہاں تک ہے کہ اب کھیل کے میدان بھی جنگوں کے میدان بننے شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز انڈین ٹیم سروں پر فوجی ٹوپیاں پہن کر آئیں جس کیخلاف پاکستانی حکام نے احتجاج کیا اور آئی سی سی کو اس کا نوٹس لینے کا کہا۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھئے ہوم گراﺅنڈ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں اس ٹیم کو شکست ہوئی اور اس ٹیم میں بھی ایک پاکستانی نژاد عثمان خواجہ آسٹریلوی کھلاڑی موجود تھا،جسے مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔کھیل کو کھیل ہی رہنا چاہیے ، کھیل ڈپلومیسی ضرورہوتی رہی ہے لیکن کھیل ڈپلومیسی کھلاڑیوں نے کبھی نہیں کی یہ کام جن کا کرنے کا ہے ان ہی کو کرنے دیا جائے تو بہتر ہے۔

جو مرضی کر لیا جائے آخر میں بیٹھنا ٹیبل پر ہی پڑتا ہے۔ اس لیے اپنے رویوں، اپنے خیالات اور تصورات کو بدلئے ۔ جب آپ ٹیبل پر بیٹھیں گے تو بہت سے واقعات بھی ہوں گے ایسے واقعات جو دہلا دینے والے ہوتے ہیں لیکن اگر آپ امن کی راہ چھوڑ دیں گے تو واقعات تو شاید نہ ہوں لیکن دونوں طرف اسلحے کے انبار لگنے شروع ہوجائیں گے اور بہت سے اسلحہ کے کارخانے بند ہونے سے بچ جائیں گے۔ بڑے ملکوں کی ٹیکنالوجی کے خریدار بھی بڑھ جائیں گے۔