آج بھارت میں وہی ہو رہا ہے جو قائداعظم نے محسوس کیا تھا: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے چھاچھرو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد پہلا جلسہ چھاچھرو میں کر رہا ہوں۔ الیکشن نہیں ہو رہے اس کے باوجود یہاں جلسہ کر رہا ہوں۔ چھاچھرو میں جلسہ کیوں کر رہا ہوں اس کی ایک وجہ ہے کیونکہ چھاچھرو پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور تھرپارکر کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کا مقصد پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوشش ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد تقریباً سارے اختیارات صوبو ں کے پاس ہیں لیکن ہیلتھ انشورنس وفاقی حکومت کے پاس ہے۔تھرپارکر میں ایک لاکھ 12ہزار گھرانوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ ملیں گے۔ کوشش کریں گے سارے تھرپار کر کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ پہنچائیں۔ تھرپارکر کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ پہنچائیں۔ تھرپارکر میں موبائل ہسپتال شروع کریں گے اور 2بڑی گاڑیاں ہوں گی ۔ پورے تھرپارکر میں موبائل ہسپتال کی گاڑیاں چلیں گی جبکہ 4ایمبولینس بھی فراہم کریں گے۔تھرپارکر میں کالا سونا رکھا ہوا ہے یعنی کوئلہ موجود ہمارا فیصلہ ہے پسماندہ علاقوں سے جو بھی معدنیات نکلیں گی پہلا حق علاقے کا ہوگا ہم نے فیصلہ کیا ہے پاکستان کی انشاء اللہ تمام پالیسیاں تبدیل کریں گے، ہم کوشش کریں گے سب سے پہلے پسماندہ علاقوں میں ترقی کریں ۔ تھرپاکر میں 100آر او پلانٹ فوری لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس کے بعد بھی اگر ضرورت ہوئی تو مزید آر او پلانٹس لگائیں گے ۔آر او پلانٹ بھی سولر پر چلائیں گے اور لوگوں کو بھی بجلی ملے گی۔سب سے پہلے تھرپارکر پر توجہ دیں گے کیونکہ آپ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ،تھرپارکر میں تقریباً آدھی آبادی ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ہے، بھارت میں مسلمانوں ،سکھوں ، عیسائیوں پر ظلم کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ہماری حکومت پاکستان میں تمام اقلیتوں کیساتھ کھڑی ہے۔پاکستان میں ہندو سمیت کسی بھی اقلیت پر ظلم نہیں ہونے دیں گے، میرے لیڈر قائداعظم نے محسوس کیا ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کو حقوق نہیں ملیں گے اسی لیے پاکستان کیلئے الگ راستے پر چل پڑے تھے۔
وزیراعظم نے کہا آج بھارت میں وہی ہو رہا ہے جو قائداعظم نے محسوس کیا تھا آج بھارت میں اقلیتوں پر تشدد ہو رہا ہے اور انہیں انسان نہیں سمجھا جارہا ، لوگوں کو تقسیم کر کے الیکشن نہیں جیتے جاسکتے۔ ایک آدمی نے کراچی میں لوگوں کو تقسیم کر کے حکومت کی ، ایک شخص نے کراچی میںنفرتیں پھیلائی ، نفرتیں نہ پھیلائی جاتیں تو آج کراچی دبئی سے آگے ہوتا، کبھی پختون اور کبھی بلوچ کے نام پر سیاست کی گئی، کبھی مشکل پڑی تو جاگ پنجابی جاگ، پکڑے جانے کا خوف ہو تو سندھ کارڈ استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی نے بھی یہی طریقہ اپنا کر مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرتیں بڑھائیں اور بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ کہاں مہاتما گاندھی جنہوں نے مسلمانوں کیلئے بھوک ہڑتالیں کیں، آج مودی الیکشن کیلئے نفرتوں کو ہوا دے کر ووٹ بٹورنا چاہتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی کو کہا تھا ہمارے خطے میں غربت سب سے زیادہ ہے ، مل کر خطے کی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کرتے ہیں، مجھے کیا معلوم تھا جیسے ہی الیکشن قریب آئے گا ،مودی جنگی جنون میں مبتلا ہو جائے گا۔پاکستان کے لئے ہم آخری سانس تک لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہادر شاہ ظفر نے غلامی مان لی تھی، ہمارا ہیرو اور لیڈر ٹیپو سلطان ہے، ٹیپو سلطان نے فیصلہ کیا تھا غلامی سے بہتر موت ہے۔ کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں غلام بنا لے گا تو یہ کان کھول کرسن لے میں اور میری قوم میچ کی آخری بول تک کھیل کر جنگ کی طرح لڑیں گے۔ ہماری فوج بالکل تیار ہے، بھارت سے کہتا ہوں کچھ بھی کیا تو جوابی کارروائی ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، سب سے پہلے پسماندہ علاقوں پر توجہ ہوگی۔ سب سے پہلے پسماندہ علاقوں پر پیسہ خرچ کیا جائے گا پھر میٹرو جیسے مہنگے منصوبے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  فریال تالپوراور آصف زرداری کی سماعت 21مئی تک ملتوی