کیا آپ جانتے ہیں فون کال پر لوگ پہلا لفظ ہیلو ہی کیوں کہتے ہیں

EjazNews

کبھی آپ نے سوچا کہ دنیا بھر میں لوگ فون کال ریسیو کرنے پر اسی لفظ ہیلو سے گفتگو کا آغاز کیوں کرتے ہیں؟آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق انگلش زبان میں ہیلو لفظ کی آمد 1827میں ہوئی تھی اور یہ خیر مقدمی لفظ نہیں تھا بلکہ لوگ اس سے دیگر کی توجہ اپنی جانب مرکوز کراتے تھے۔ مگرٹیلیفون گفتگو کے لیے اسے تھامس ایڈیسن نے متعارف کرایا۔ انہوں نے اس زمانے میں ٹیلیفون استعمال کرنے والے افراد پر زور دیا کہ جب وہ کال کا جواب دیں تو ہیلو سے بات شروع کر یں۔ تھامس ایڈیسن کے حریف اور ٹیلیفون کے موجد الیگزینڈر گراہم بیل کے خیال میں بہتر لفظ ahoyتھا جو کہ ڈچ لفظ hoiسے اخذ کیا گیا تھا اور اس کا مطلب بھی ہیلو ہی ہوتا ہے۔ مگر خوش قسمتی سے آج کے زمانے میںفون کال سنتے ہوئے یہ لفظ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ تھامس ایڈیسن نے خیر مقدمی لفظ کے طور پر ہیلو کو تجویز کیا ۔ اس زمانے میں ٹیلیفون کو ماڈرن واکی ٹاکی سمجھا جاتا تھا، جس میں کاروباری اداروں کے لیے لائن ہمیشہ کھلی رہتی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ فون کر نے والے کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ دوسری جانب والا کب بات کرنا چاہتا ہے اور اس کے حل کے طورپر ایڈیسن نے ہیلو کو تجویز کیا تھا ، تاکہ ہر ایک کی توجہ حاصل کی جاسکے اور بس پھر کیا تھا یہ لفظ عام ہو گیا بلکہ آج تک دنیا بھر میں لوگ فون کالز موصول کرنے کے بعد عام طور پر پہلا لفظ ہیلو ہی بولتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچھو کا زہر اب روبوٹ نکالیں گے