کامیاب شادی کیلئے آئیے شادی شدہ جوڑوں سے کچھ سیکھتے ہیں

EjazNews

شادی شدہ زندگی میں بدترین لمحات وہی نہیں ہوتے جو سسرال والوں کے طعنوں یا دیگر خاندان والوں کی تلخ و ترش باتوں اور جھگڑوں کا نتیجہ ہوتے ہیں بلکہ اکثر اوقات میاں بیوی کے درمیان متضاد طرز زندگی اور پسند و ناپسند کا فرق بھی لڑائی جھگڑے اور فساد کا باعث بن جاتا ہے۔
میاں کو گرما گرم چاول پسند ہیں جبکہ بیگم صاحبہ روٹی کھلانے پر اصرار کر رہی ہیں۔ خاتون خانہ موسیقی کا پروگرام دیکھنا چاہتی ہیں اور میاں صاحب سپورٹس چینل بدلنے کے لئے کسی طور پر تیار نہیں۔ایسے معاملات میں دوسرے سے بات منوانا یا ہر با رکسی ایک کا اپنے شوق کی قربانی دینا تو آسان کام نہیں اور اگر دونوں کے شوق ، دلچسپیاں ، مشاغل، مذہبی عقائد اور زندگی سے متعلق مجموعی رائے بھی بالکل مختلف ہو تو اختلافات کا دائرہ مزید وسیع تر ہو جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں پر بحث و تکرار کی نوبت آتی ہے یا پھر دوسری صورت میں اندر ہی اندر جلتے کڑھتے زندگی خاموش تماشائی بنے گزر تی رہتی ہے۔
تجربہ کار اور دانا خواتین و حضرات پسند کی عینک آنکھوں سے اتار کر اپنے شریک حیات کی پسند و ناپسند کو ترجیح دینا ہی کامیاب ازدواجی زندگی کا راز بتاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو شادی کو نام ہی ”سمجھوتے“ کا دیتے ہیں۔ ہاں ان سمجھوتوں کی نوعیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ شادی سے متعلق لوگوں کے مشاہدات، تجربات اور خیالات بھی ایک دوسرے سے اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بھی آپ نے سن رکھا ہوگا کہ شادی ایسی چیز ہے ”جسے کرنے اور نہ کرنے والے دونوں ہی پچھتاتے ہیں۔ “
تاہم ایسے افراد کی تعداد کم ہے جو دانستہ عمر بھر شادی نہیں کرتے۔ بہر حال شادی کرنے والے پچھتاتے ہوں یا نہیں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ انہیں ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے بڑے جتن کرنا پڑتے ہیں۔اپنے مزاج کے برعکس بہت کچھ برداشت کرناپڑتا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اگر میاں بیوی میں ہم آہنگی بہت زیادہ ہو اور وہ ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں تو دونوں کو برداشت اور سمجھوتے جیسے تجربات کا سامنا کم سے کم کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شادی شدہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے برداشت، تحمل، قربانی یا دوسرے کی خوشی کے لئے اپنی خواہش کو دبانے جیسے تجربات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان تجربات کی نوعیت کیا ہوتی ہے اس حوالے سے مختلف شادی شدہ جوڑوں کے خیالات مختلف ہیں۔
ایک گھریلو خاتون سے جب ازدواجی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا:
”میرے میاں کو ہر وقت گھومنے پھرنے کا شوق ہے جبکہ مجھے گھر پررہ کر خانہ داری کرنے میں مزہ آتا ہے۔ انہیں ایکشن فلمیں پسند ہیں جبکہ مجھے لائٹ رومانٹک کامیڈی فلمیں پسند ہیں۔ وہ چائینز کھانوں کے دلدادہ ہیں لیکن مجھے چٹ پٹے مصالحے دار کھانے اچھے لگتے ہیں۔ سات سال ہو گئے ہیں نہ میری پسند بدل سکی نہ ان کی اور میرا نہیں خیال کہ کبھی ہماری پسند و ناپسند یکساں ہو لیکن گزارا ہو رہا ہے۔ کبھی وہ میری اور کبھی میں ان کی بات مان لیتی ہوں۔ اگر ہم ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے تو شاید ایک ساتھ نہ چل پاتے۔“
شاہ نواز اور شائستہ کی پہلی ملاقات کالج میں ہوئی تھی، یہ دونوں ہی تصورات میں رہنے والے آئیڈیل ازم کے قائل تھے اور آج یہ معروف کاروباری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور دو عدد بچوں کے والدین بھی۔شادی کے ابتدائی دنوں میں ان کے درمیان بہت معمولی باتوں پر بھی لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی تھی۔ ان ابتدائی دنوں کا موازنہ کیا جائے تو آج یہ فرق ضرور سامنے آتا ہے کہ طرز زندگی اور دوسرے معاملات سے ہٹ کر اختلافات آج بھی کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہیں۔
ایک خاتون اپنی سات سالہ ازدواجی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ”شروع شروع میں ہم چھوٹی چھوٹی بات پر بھی لڑ پڑتے تھے اور لڑائی اس قدر بڑھتی کہ برتن ٹوٹنے تک کی نوبت آجاتی تھی۔ایک مرتبہ ہم گاڑی ہی میں لڑنا شروع ہو گئے اور لڑائی اس قدر بڑھی کہ میں بیچ سڑک میں ہی اتر گئی۔ مگر یہ سب شروع شروع کی بات ہے۔ آج ہم مکمل طور پر میچور ہو چکے ہیں اور جب کوئی معاملہ درپیش ہو تو اس پر ڈسکس کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟اور یوں کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکل آتی ہے۔“
ایک خاتون کے چٹ پٹے کھانے اپنے حلقہ ارباب میں بے انتہا مشہور ہیں او روہ انہیں پکاتی بھی بھرپور توجہ سے ہیں مگر ان کے شوہر کو چائینز کھانوں کا شوق ہے۔ چھٹی کے دن خاتون خانہ اپنی مرضی کی ڈش پکانا چاہتی ہیں مگر صاحب چائینز فوڈ کھانے پر اڑے رہتے ہیں شوہر کا کہنا ہے ”مجھے مصالحہ دار کھانے بھی اچھے لگتے ہیں مگر بہت زیادہ نہیں۔ جب ہم کھانا کھانے اکثر باہر جاتے ہیں تو میری بیوی چائینز کی بجائے تیز مرچوں والے کھانے، کھانے اور کھلانے کے لئے تیار رہتی ہیں اور آج کل ہمارے ہاں ایک موضوع بحث کے لئے ہاتھ آیا ہوا ہے کہ بچوں کو آئندہ سیشن میں کس سکو ل میں داخل کرایا جا ئے؟ کئی دن گزر گئے اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا۔“
شادی کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں لیکن ان کے مزاج ، عادات ، خیالات اور تصورات سارے اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ اس لئے اس رشتے کو آپ سب سے زیادہ مزے داری سے تب ہی گزار سکتے ہیں جب آپ ایک دوسرے کو سمجھ کر ایک دوسرے کی سن کر اور ایک دوسرے کی مان کر گزارا کریں ، اس رشتے میں جب ضدیں اپنا گھر بنالیتی ہیںتو یہ جوڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور ہمارے معاشروں میں یہ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو سمجھئے، جانئے اور پھر ایک دوسرے کی مانئے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے