سگریٹ کے دھوئیں میں سانس لینے والوں میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

EjazNews

تحریر : ڈاکٹر غلام صدیق

تمباکو موجودہ دور کا سب سے بڑا خطرہ ہے جو انسانیت کو لاحق ہے۔ تمباکو میں شامل ایک کیمیائی مادہ نیکوٹین ہے جو زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہے ، یہ انسانی بدن میں سرایت کرکے وقتی طور پر اسے تسکین اور لذت فراہم کرتا ہے مگر خون میں شامل ہو نے کے بعدیہ اسے گاڑھا کرکے ’’دوران خون‘‘ کے کئی ایک عوارض کا باعث بنتا ہے۔ گردوں کے لئے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور نتیجے کے طور پر سگریٹ نوش ہائی بلڈپریشر، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ، ہارٹ اٹیک اور گردوں کا فیل ہوجانا جیسے جان لیوا اور خطرناک امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔
ایک تازہ ترین ریسرچ سے سگریٹ نوشی کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے معلوم نہیں تھے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اندھا پن، ذیابیطس، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جیسی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ روز تازہ ترین ریسرچ پر مبنی’’سرجن جنرلز رپورٹ‘‘ کے نتائج پیش کرنے کے لئے صحت کے شعبے سے منسلک تمام اعلیٰ امریکی عہدیدار وائٹ ہائوس میں موجود تھے۔ امریکی حکومت کی طرف سے اس نوعیت کی ایک رپورٹ پچاس برس پہلے پیش کی گئی تھی۔ 1964میں تمباکو نوشی کے نقصانات پر اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوسکتا ہے۔ اس تازہ ترین تحقیقی رپورٹ کے مطابق کثرت سے تمباکو نوشی ذیابیطس کے علاوہ تیرہ اقسام کے کینسر کا سبب بنتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والوں میں نظر کی کمزوری اور اندھے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی کٹے ہونٹ،حمل کے دوران پیچیدگیوں کا پیدا ہونا، جوڑوں کا درد اور جسم کے دفاعی صلاحیت میں کمی ہوجاتی ہے۔ رپورٹ میں کیاگیا ہے کہ اگر تمباکو نوشی کی شرح کم نہیں ہوئی تو13بچوں میں سے ہر ایک بچہ آگے چل کر اس سے جڑی کسی بیماری کی وجہ سے جان گنوا دے گا۔

امریکی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیئے جانے والے سگریٹ کے چند ا ولین کش ہی لمحوں میں ایسی جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے انسانی جسم پر اثرات اتنے ہی تیز ہوتے ہیں کہ جیسے انہیں دوران خون میں انجکشن کے ذریعے داخل کئے گئے کسی بھی مضر صحت مادے کی منتقلی کے ساتھ تشبیہ دی جاسکتی ہے۔
ہر مطالعہ اپنی نوعیت کی ایک ایسی اولین ریسرچ ہے کہ جس میں موجودہ زہریلے مادے انسانوں میں جینیاتی نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے تمباکو نوش افراد کے طور پر 12ایسے رضاکاروں پر اپنی تحقیق مکمل کی جن کے جسموں میں PAHنامی ماحول کو آلودہ کرنے والے اور زہریلے مادوں کو پتہ چلاگیا گیا۔ پی اے مادوں سے مراد پولی سائیکلک اپرومیٹک ہائیڈرو کاربنز ہیں جو تمباکو کے دھوئیں میں بھی موجود ہوتے ہیں اور جلتے ہوئے کوئلوں کے علاوہ ایسی خوراک میں بھی پائے جاتے ہیں جو آگ پر باربی کیو کرتے ہوئے بری طرح جل گئی ہو۔ اس مطالعے کے دوران امریکی سائنسدانوں کو سگریٹ نوش افراد کے جسموں میں تمباکو نوشی کے محض پندرہ سے لے کر تیس منٹ بعد فینائھترین نامی مادہ ملا جو ان کے دوران خون کا حصہ بن چکا تھا۔ یہ ایسا مادہ ہے جو اپنے زہریلے پن کی وجہ سے خاص طور پر ڈی این اے کے لئے تباہی اور اس میں تبدیلیوں کے علاوہ سرطان بھی پیدا کرتا ہے۔امریکہ میں اس نئی تحقیق کے لئے وسائل نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ نے مہیا کئے تھے۔ دنیا بھر میں ہر روز قریب تین ہزار انسان پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان میں90فیصد اموات کی براہ راست وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔
نوجوان تمباکو کے استعمال کے مختلف طریقے اپنا رہے ہیں ان میں نیکوٹین والے ای سگریٹ مختلف ذائقوں والے سگار اور شیشہ بھی شامل ہے۔ سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک یہ شیشہ ہے جو کہ حقہ نما ہوتاہے اور پوش علاقوں میں اور کالج، یونیورسٹیوں کے نزدیک دکانوں میں میسر ہوتا ہے جن کو ہم شیشہ کیفے کے نام سے جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ شیشہ کا ایک سیشن پورے ایک سو سگریٹوں کے برابر ہوتا ہے اور لڑکے اور لڑکیاں دونوں کا رجحان اس کی طرف بھرپور ہے۔ اس سے زیادہ تر منہ کا کینسر عام ہوگیا ہے کیونکہ اس کے پینے کے لئے ایک پائپ کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسانی جسم میں کمزوری کی وجہ بن رہا ہے۔

پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے وزیر اعظم نواز شریف سب سے ز یادہ داد کے حقد ار ہیں کیونکہ انہوں نے قوانین اور قواعد کے مطابق عوامی مقامات پر تمباکو نوشی ممنوع کردی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کی ممانعت ہے۔ اس طرح تمباکو کی فروخت بڑھانے اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے خریدار کو کسی قسم کی رعایت دینا اور تشہیر کرنا بھی منع ہے۔ تمام شیشہ کیفے چھاپہ مارنے کے بعد سیل کئے جارہے ہیں اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ یا دیگر ٹوبیکو مصنوعات فروخت کرنے پر پابندی ہے۔وزارت صحت کی تجویز پر تمباکو پر ٹیکس بڑھادیا گیا ہے جبکہ ٹوبیکو مصنوعات کی تشہیر پر بھی پابندی ہے لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے تمباکونشی سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیں اپنی عادات اور رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ صرف قانون سازی اور خلاف ورزی پر معمولی سزائیں اس سے نجات نہیں دلا سکتی۔ تمباکو نوش کو اس بری عادت کو ترک کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ضرورت رشتہ