ہائی اور لو بلڈ پریشر کو صرف 30منٹ کی محنت سے قابو میں رکھا جاسکتا ہے

EjazNews

بلڈ پریشر دو قسم کا ہوتا ہے ۔کچھ لوگوں میں بلڈ پریشر لو ہوتا ہے اور کچھ میں ہائی ۔ دونوں صورتوں میں یہ خطرناک ہے ۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ ہائی اور لو بلڈ پریشر میں کیسے اپنا خیال رکھ سکتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر
زیادہ تر لوگوں میں ان کے ہائی بلڈ پریشر کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی ہے۔اور نہ ہی ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ آپ اپنے طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرکے اس کے بڑھنے کے خطرے سے بچ سکتے ہیں۔
اگر آپ نمک بہت زیادہ کھاتے ہیں،آپ مطلوبہ مقدار میں پھل اور سبزیاں نہیں کھاتے ہیں،آپ مطلوبہ حد تک فعال نہیں ہیں،آپ کا وزن بڑھا ہوا ہے یا پھر آپ کسی نشے کے عادی ہیں۔ تو جان لیجئے کہ آپ اپنے بلڈ پریشر کو بڑھنے کی دعوت خود دے رہے ہیں۔
پھل اور سبزیوں کا کھانا آپ کے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آپ کا وزن اگر کنٹرول میں ہے تو یہ آپ کے بلڈ پریشر اور صحت سے متعلق مسائل کےخطرے کو کم کرنے میں مدد دیگا۔ وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کم چربی اور کم کیلوریز والی غذاؤں کا انتخاب کریں اور اپنی جسمانی سرگرمیاں بڑھا دیں۔ ڈاکٹر سے مسلسل رابطے میں رہیں۔گھر میں بلڈ پریشر کو چیک کرنے والا آلہ ضرور رکھیں یہ آپ کے لیے بہت مفید ہوگااور اس سے آپ کو اپنے ڈاکٹر بتانے میں بھی آسانی ہوگی کہ کس وقت آپ کا بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے ۔
آئیے اب کچھ لو بلڈ پریشر کے بارے میں بھی جانتے ہیں یہ کیا ہے
لو بلڈ پریشر میں رگوں کے ذریعہ خون پھینکنے کی حرکت کم ہو جاتی ہے۔ بہت زیادہ کم خون کے دبائو کا مطلب ہے کہ خون کا بہائو کافی سست رفتار ی سے ہو رہا ہے۔ جس سے دماغ اور جسم کے دوسرے حصوں کی مناسب مقدار میں پرورش نہیں ہو رہی ہے اور جسم میں خون کی مقدار بھی کم ہو گئی ہے۔لو بلڈ پریشر کا اندازہ آپ ان علامات سے کر سکتے ہیں کہ اگر آپ کو بہت زیادہ سستی ہو رہی ہے،کسی کا م میں دل نہیں لگ رہا، تھکان محسوس ہورہی ہے، سردرد، یادداشت ختم ہو جانا، چکر آنا یہ سب لو بلڈ پریشر کی علامات ہیں۔عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ غیر متوازن کھانا ، پان ،پروٹین،وٹامن بی اور سی کی کمی جسم سے خون کے بہنے سے بھی خون کا دبائو گر جاتا ہے۔ خون کی کمی اور تپ دق کی حالت میں خون کا دبائو اکثر کم رہنے لگتا ہے۔ ہیضہ، تیز الٹیاں، ٹائی فائیڈ، آگ سے جلنے کے بعد جسم میں سیال مادے کی کمی، دماغی کام زیادہ کرنا، عورتوں میں ماہواری سے متعلقہ خرابیاں، بغیر نالی کے غدود کی خرابی، جذباتی ہونا، قبض، خون کا کم دبائو مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن اس لو اورہائی بلڈ پریشر پر قابو رکھا جاسکتا ہے آپ کو صرف تھوڑا وقت اپنے لیے نکالنا ہوگا ،اپنی اچھی صحت کے لیے۔
ماہرین کہتے آئے ہیں کہ کوئی دوا اور غذا ورورزش کی متبادل ثابت نہیں ہو سکتی تاہم ورزش دوا کا متبال ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔ اب ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ صرف 30منٹ کی تیز واک سے بلڈ پریشر کو عین اسی طرح قابو میں رکھا جاسکتا ہے جس طرح وہ دوا سے معمول پر رہتا ہے۔ نیو سائنٹسٹ نامی جریدے میں شائع ایک خبر کے مطابق وزانہ صبح نصف گھنٹے کی واک پورا دن بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتی ہے۔اس کے لیے یونیورسٹی آف ویسٹر ن آسٹریلیا کے ماہرین نے 55سے 80سال کے درمیان 32مرد اور35خواتین کو شامل کیا۔ ہر فرد کو کم سے کم چھ روز تک تین مختلف منصوبوں پر عمل کروایا گیا۔ پہلے منصوبے میں شرکا کو روزانہ 8گھنٹے تک بٹھایا گیا ۔ دوسرے پروگرام میں شرکا کو پہلے ایک گھنٹے تک بٹھایا گیا اور اس کے بعد ٹریڈ مل پر 30منٹ واک کرائی گئی اور اس کے بعد مزید ساڑھے چھ گھنٹے تک بٹھایا گیا۔ آخر میں شرکا کو ٹریڈ مل مشین پر 30منٹ تک کی واک کروائی گئی اور ساڑھے چھ گھنٹے تک ایسا بٹھایا گیا اور ہر 30منٹ بعد انہیں تین تین منٹ کے لیے ہلکی شدت کی چہل قدمی کروائی گئی۔ تمام شرکا کو ایک سا کھانا دیا گیا اور پورے دن ان کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ جن افراد نے ورزش کی ان میں بلڈ پریشر معمول پر رہا اور ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری ہوئی۔ یعنی دل دھڑکتے ہوئے خون کی رگوں میں پریشر بہتر نوٹ کیا گیا اور دل کے امراض میں بھی یہی چیز نوٹ کی جاتی ہے۔ تین منٹ کی واک کے فائدے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نمایاں تھے۔ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روزانہ صبح 30منٹ کی واک کی جائے تو س کے مفید اثرات پورے دن رہتے ہیں اور یہ عمل دوا کی تاثیر رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذیباطیس کا پھیلاﺅ کیوں؟