کیا صرف یونیفارم تبدیل کرنے سے ذہنیت بدلی جاسکتی ہے

EjazNews

وزیراعلیٰ پنجاب نے سینٹرل پولیس آفس کاکل دورئہ کیا دورے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا کہناتھا کہ نئے مالی سال کے آغاز سے ہی صوبائی پولیس کا یونیفارم تبدیل ہو جائے گا۔ پنجاب پولیس کے نئے یونیفارم میں گہرے نیلے رنگ کی پتلون اور ہلکے نیلے سمندری رنگ کی شرٹ شامل ہوگی ۔اس تبدیلی کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ نئے یونیفارم سے پنجاب پولیس کا مثبت چہرہ سامنے آئے گا۔
اب اہم بات یہ ہے کہ کیا وردیاں بدلنے سے ذہنیت بدلی جاسکتی ہے۔ یہ کام سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی کیا تھا۔ان کے دور میں بھی پولیس کی وردی تبدیل کی گئی تھی۔ لیکن خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔ پولیس کا رویہ اور ان کے کام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔نہ تو شہر میں کرائم ریٹ کم ہواور نہ ہی عوام بغیر کسی خوف کے بغیر کسی ڈر کے تھانوں میں جانا شروع ہوئے۔ہماری تھانوں کی عمارتیں ہی شریف آدمی کو اندر داخل ہونے سے پہلی ڈراتی ہیںاس کے بعد وہاںپر بیٹھے ہوئے لوگوں کے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جرم کی رپورٹ درج کرانے نہیں آئے بلکہ آپ نے یہاں آکر جرم کر دیا ہے۔
صرف وردی نہ بدلیں ،اس سے بڑھ کر کچھ کریں ،پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں میرٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے ہماری قطعی مراد یہ نہیں کہ ان کو جدید اسلحہ مہیا کیاجائے بلکہ ان کی ٹریننگ کے بعد مسلسل جسمانی اور ذہنی ٹریننگ ہوتی رہے تاکہ پھولے ہوئے پیٹ بھی کم ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہشت گردوں کے منظوم مقاصد ناکام ،5مارے گئے