کیا سوال پوچھنا جرم ہے؟

EjazNews

کچھ دن پہلے تک پاکستان کیخلاف زہر اگلنے والا انڈین میڈیا اب اپنے ہی لوگوں کو غداری کا لیبل دینے لگا ہے کیونکہ سوال پوچھے جارہے ہیں اور سوال پوچھے جانے چاہیے۔ اگر ان کے جواب ہوں گے تو دئیے جائیں گے اس دفعہ معاملہ کچھ الگ ہے ۔ کچھ زیادہ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں ۔ مجھے یاد ہے جب پچھلی دفعہ انڈین نے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا جسے پاکستان نے جھوٹا قرار دیا ۔تو وزیراعلیٰ دہلی کیجریوال سے جب صحافی نے انٹرویو کیا تو انہوں نے اپنے خیال کا اظہار کیا کہ سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوا۔ بہر کیف ایک تو وہ وزیر اعلیٰ تھے اور دوسرے وہ ہندو تھے اس لیے غداری کے لیبل سے بچ گئے۔ لیکن اس دفعہ تو انڈین چینلز کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے کہہ رہے ہوں کہ اگر کسی نے سوال کیا تو بی جے پی تو بعد کی بات ہے پہلے ہم تمہیں پورے ملک سے غدار کہلوائیں گے۔ گزشتہ رات ایک ٹی وی اینکر کا انداز دیکھ کر تو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ خود ہی جج ہوں خود ہی وکیل ہوں جب اتنا بڑا جھوٹ بولا جائے گا تو سوال تو ہوں گے۔ کیونکہ جنہوں نے کچھ کیا انہوں نے ثبوت بھی پیش کیے۔ اور دکھایا کہ جب کچھ کیا جاتا ہے تو دنیا سے چھپ نہیں سکتا وہ نظر آتا ہے۔ یہ غداری کے طوغ سے بچنے کے لیے اس دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسد الدین اویسی جیسے سیاستدانوں نے بھی اپنا رنگ بدلا اور اس جماعت کی حمایت کی جو انڈیا میں مسلمانوں کے وجود کی بھی دشمن ہے۔ پوری بی جے پی میں مسلمانوں کو کتنے ٹکٹس ملے ہیں ملتے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
انڈنی چینلز کو دیکھتے ہوئے اچانک خبر نمودارہوئی کہ انڈین فضائیہ کے دفتر میں آگ لگی ۔بلڈنگ کے پانچویں فلور پر موجود ائیرفورس میں آگ اس قدر بڑھکی کہ اس کے شعلے کیمرے کی آنکھ سے دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق اس عمارت میں وزارت برائے پانی ، سیوریج ، جنگلات، اور سماجی انصاف وغیرہ کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹر ز نے اپنی کارروائی کر کے اس آگ پر قابو پالیا۔اس واقع میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا ۔اچھی نوید یہ ہے کہ اس کا ملبہ ابھی تک پاکستان پر نہیں ڈالا گیا۔دوسری طرف ایسی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر دیکھی جارہی ہیں کہ سیاستدان لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو جوتے مار رہے ہیں ، گریبان پھاڑ رہے ہیں کہ تم سرجیکل سٹرائیک پر جھوٹ بول رہے ہو تم ائیر سٹرائیک پر جھوٹ بول رہے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا تعلیم آج بھی ہماری پہلی ترجیح ہے؟