شادی سے پہلےایک ٹیسٹ کروا کر آنے والی نسل کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے

EjazNews

تھیلسیمیا ایک ایسا موذی مرض ہے کہ اگر یہ کسی کو لگ گیا تو زندگی بھر وہ خون کا محتاج رہتا ہے۔ جب تک اس کی زندگی ہے اس کو خون کی ضرورت رہتی ہے۔ اس مرض کو عمومی طور پر موروثی کہا جاتا ہے جو کہ والدین اپنے بچوں میں منتقل کرتے ہیں۔ صرف ایک ٹیسٹ کروا کر والدین اپنے بچوں کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں پریشانیاں اس قدر ہیں کہ اس طرف کسی کا دھیان جاتا ہی نہیں اور جن کی اولاد اس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے بعد میں وہ زندگی بھر پچھتاتے ہیں کہ کاش ہم نے شادی سے پہلے تھیلسیمیا کا ٹیسٹ کروا لیا ہوتا۔ بحرکیف اسی موذی مرض میں مبتلا بچوں کے لیے کچھ فاؤنڈیشنز ایسی بھی ہیں جن کی کارکردگی کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جب آپ ان فاؤنڈیشنز میں جاتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ درد دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں جن کو اپنے لوگوں سے پیار ہے۔ جو آج بھی بہت کچھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ انہی اداروں میں سے ایک سندس فاؤنڈیشن بھی ہے ۔ مجھے گزشتہ روز سندس فاؤنڈیشن جانے کا اتفاق ہوا اور وہا ںپر مریض بچوں کو تازہ اورصحت مند انسانی خون کی منتقلی کا عمل دیکھ کر دل پسیج سا گیا۔ چند ساعتوں کےلئے وقت جیسے تھم سا گیا اور میں نے سوچا کہ یہ کیسی الگ سی دنیا ہے جہاں تمام معصوم چہروں پر جینے کی آس اور تمنا ہے۔وہاں مجھے کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کی عمر 35-40سال کے لگ بھی ہے اوروہ شادی شدہ بھی ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں ۔
اس فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمین منو بھائی اس دنیا فانی سے رخصت ہو چکے ہیں اور ابھی تادم تحریر کوئی نئے چیئرمین منتخب نہیں ہوئے۔ لیکن ہم نے علی رئوف ڈائریکٹر فنانس و ایڈمن کا قیمتی وقت لیا جس سے اس ادارے کے بارے میں ہم خود بھی جان سکیں اور آپ کو بھی آگاہ کر سکیں ۔ آئیے ان کی گفتگو پڑھتے ہیں۔
بہت شکریہ سر آپ نے ہمیں ٹائم دیا۔
ج:نہیں ایسی کوئی بات نہیں
س:آپ پہلے آپ اپنا پورا تعارف کرائیں؟
ج: میرا نام علی رئوف ہے اور میں سندس فاؤنڈیشن میں ڈائریکٹر فنانس و ایڈمن ہوں۔
س :منو بھائی کے بعد ابھی کوئی باقاعدہ چیئرمین منتخب ہوا ہے؟
ج:ان کے بعد ان کے مقابلے کی کوئی شخصیت تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔اللہ نے ان کو بڑا مقام دیا ہے اور ان کی ادارے کے لیے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ان کی جگہ کس کو چیئرمین بنایا جائے لیکن سہیل وڑائچ صاحب کا نام زیر گردش ضرور ہے۔
س:آپ کے بورڈ ممبر کتنے ہیں؟
ج: ہمارے 7بورڈ ممبر ہیں۔ان میں خالد عباس ڈار، سہیل احمد عزیزی ، ادیان صادق کے علاوہ کچھ باقی بزنس کمیونٹی سے ہیں۔

ڈائریکٹر فنانس و ایڈمن علی رؤف

س: سندس فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک صرف پنجاب میں ہے یا پھر یہ پورے پاکستان میں ہے؟
ج:جی ہم ابھی صرف پنجاب میں ہیں اور پنجاب کے مین شہروں میں گوجرانوالہ ، گجرات، سیالکوٹ ، فیصل آباداور چھ ماہ پہلے اسلام آباد میں بھی شروع کیا ہے۔ ہم نے اپنے دفاتر مین شہروں میں اس لیے رکھے ہیں تاکہ شہر کے گردونواح کے علاقو ں سے بھی لوگ اس سے مستفید ہو سکیں ،کیونکہ شہرو ں تک رسائی لینا آسان ہوتی ہے۔ ان تمام شہروں میں ہمارا پورا سٹاف اور ڈاکٹرز موجود ہیں جو وہاں مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
س: سندس فاؤنڈیشن کتنے عرصے سے چل رہی ہے؟
سندس فاؤنڈیشن 1998ء سے کام کر رہی ہے۔ اس کی شروعات ہم نے گوجرانوالہ سے کی تھا۔ لاہور میں اس سے پہلے ایک سنٹر کام کر رہا تھا۔ لاہور کے گردونواح سے بھی لوگ لاہور میں ہی آتے تھے اس لیے ہم نے گوجرانوالہ میں سنٹر بنایا تاکہ وہاں کے لوگ وہیں سے مستفید ہوسکیںاور گوجرانوالہ کے گردونواح سے بھی لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔
س:آپ کی فاؤنڈیشن کا نام سندس فاؤنڈیشن کیسے رکھا گیا؟
ج: سندس ایک تھیلیسیمیا کی بچی تھی، جس کے نام پہ اس فاؤنڈیشن کو قائم کیا گیا ۔ یہ بچی تھیلیسیمیا کی مریض تھی اس کے بورڈ ممبر یا اس فاؤنڈیشن شروع کرنے والوں کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا۔
س:ہسپتالوں میں جو مریض آتے ہیں ان کی رسائی آپ تک کیسے ہوتی ہے؟
ج: تھیلیسمیا ایک ایسا مرض جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے،یہ موروثی بیماری ہے، تین سے پانچ ماہ تک تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ بچے میں کوئی بیماری ہے۔ تین ماہ کے بعد سے اس میں پرابلم آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے گال پچکنے شروع ہو جاتے ہیں، رنگ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔والدین بچے کو کلینک پر لے جاتے ہیں ۔جب ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آتا تو وہ اس کے ٹیسٹ کرواتا ہے اور اس کے بعد وہ مریضوں کو ہمارے پاس بھیجتے ہیں۔ اس طرح بچے ہمارے پاس آتے ہیں۔یہ کوئی مارکیٹنگ یا نیٹ ورکنگ سے نہیں آتے بلکہ ڈاکٹر انہیں ہمارے پاس بھیجتے ہیں،بلکہ ہسپتال بھی مریض ہماری طرف بھیجتے ہیں کہ تھیلسیمیا کا علاج سندس فاؤنڈیشن میں بہتر ہوگا اور یہ مرض ایسا ہے جس کو ایک مرتبہ ہوگیااس کو پوری زندگی خون لگتا رہتا ہے۔ ہسپتال میں جو مریض جاتے ہیں انہیں ہسپتال سے خون بہت کم ملتا ہے ،اپنے روابط اور تعلقات سے خون ملنے کی ایک حد ہوتی ہے اس کے بعد کسی نہ کسی ریفرنس سے وہ ہمارے پاس ہی آتے ہیں۔ بچے کو مہینے میں ایک دو دفعہ خون لگنا ہوتا ہے اگر وہ ہسپتال سے بھی خون لگواتے ہیں تو اتنا بلڈ کیسے ارینج کر پائیں گے ۔ سندس فاؤنڈیشن ایک مشہور ادارہ ہے۔اور ہمارے پاس خون میں موجود ہوتا ہے اس لیے یہ مریض ہماری طرف کسی نہ کسی ریفرنس سے آتے ہیں۔اس میں سب سے مشکل کام خون کی دستیابی ہے۔ عزیز رشتہ داروں کے بعد دو چار لوگ ہوتے ہیں اس کے بعد وہ سندس فاؤنڈیشن جیسے اداروں سے رابطے میں آتے ہیں۔ سندس فاؤنڈیشن پنجاب میں سب سے مین ادارہ ہے اور سندس فاؤنڈیشن کے پاس ہی تھیلسیمیا اور ہیمو فیلیا کے مریض سب سے زیادہ ہیں۔ اس طرح ہمارے ادارے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ہم بچوں کو رجسٹرڈ کر نے کے بعد ان کو خون بھی لگاتے ہیں اور خون بھی خود سے مہیا کرتے ہیں اور اس بیماری سے متعلقہ جو دوائیں بھی ہوتی ہیں مستحق مریضوں کو ہم مفت میں دیتے ہیں۔ یہ دوائیں بھی بہت مہنگی ہوتی ہیں،چونکہ بچوں کو خون لگنے میں ایک سیٹرن لیول ہوتا ہے۔ جب بچوں میں آئرن بڑھنا شروع ہوتا ہے تو وہ ان کو متاثر کرتاہے۔ اس کو نکالنے کے لیے یہ دوائیں ہوتی ہیں جو اچھا خاصا بندہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ ہمارے پاس موجود فنڈز سے ہم بچوں کو دوائیں دیتے ہیں۔ ہم جن مریضوں کو خون لگاتے ہیں یا پھر دوائیں دیتے ہیں ان سے کسی قسم کا کوئی پیسہ نہیں لیا جاتا۔ جو دوائیوں کو افورڈ کر سکتے ہیں ہم ان کو سبسڈائیز قیمتوں پر دیتے ہیں۔
س:آپ کے پاس اتنا بلڈ کہاں سے آتا ہے؟
ج: ہمارا اہم ذریعہ جہاں سے ہم خون حاصل کر تے ہیں وہ کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک تو تازہ خون ہوتا ہے بیماریوں سے پاک ہوتا ہے اور یہ سب سے زیادہ صحت مند خون ہوتا ہے۔
س:آپ کے پاس کوئی ڈیٹا ہے جس سے آپ پتہ چلا سکیں کہ پنجاب میں کتنے مریض ہیں یا مریضوں کی کتنی ریشو ہے؟
ج:کوئی ڈیٹا تو ا س وقت نہیں ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق 6فیصد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کوئی آفیشل ڈیٹا نہیں ہے اور ہم جیسے ادارے ایسا ڈیٹا جمع بھی نہیں کرسکتے۔پوری آبادی کو جب تک سکین نہ کیا جائے اس وقت تک مریضوں کی ریشو نہیں نکالی جاسکتی۔ اس کے لیے بہت زیادہ فنڈز درکار ہوں گے اور یہ کام حکومت کا کرنے والا ہے۔ زیادہ تر ہمارے فنڈز بچو ں کے علاج معالجے میں چلا جاتا ہے ۔
س:آپ کے پاس خون کی اسکریننگ کا لیول کیا ہے؟
ج:ہمارا سکریننگ کا معیار شوکت خانم اور آغا خان کے لیول کا ہے۔ ہمارے ایک بیگ کی سکرینگ کی قیمت 5ہزار روپےتک آتی ہے اور اس طرح ایک بچہ ہمیں مہینے میں کم از کم 30ہزار روپے میں کاسٹ کرتا ہے۔ مہینے میں دو دفعہ اگر بلڈ لگے تو 10ہزار تو اسی پر کاسٹ آتی ہے ۔ اس کے علاوہ آپ نے مریضوں کو ادویات دینی ہے اور کچھ مستحق مریضوں کو تو ہم رہائش ، کھانا اورٹرانسپورٹ کے لیے پیسے بھی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اندرون سندھ سے بھی مریض آتے ہیں۔
س:ایک بچہ جو اندرون سندھ میں رہائش پذیر ہے وہ خون لگوانے کے لیے لاہور میں آتا ہے؟
ج: جی ہاں اندرون سندھ میں صحت کے حوالے سے بڑا فقدان ہے۔ پنجاب کے بارڈر پر یا پھر سندھ کے شروع میںجو لوگ ہیں وہ صحت کی سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں، غربت بھی زیادہ ہے۔ پھر وہ دیکھتے ہیں علاج کی سہولت کہاں پر ہے۔ سارا دن سفر کر کے وہ ہمارے پاس پہنچتے ہیں ۔ ہم ان کا ایچ بی لیول ٹھیک کر کے بھیجتے ہیں جس سے ان کا مہینہ پندرہ دن گزر جاتے ہیں۔ ان کو کرایہ بھی دیتے ہیں ، رہائش اور کھانا بھی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سب یہ طعنہ دیتے کہ انور مسعود کا بیٹا ہو کر بھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتا سو، میں نے نثر کا میدان چُنا: انور مسعود
تھیلسیمیا کے مریض بچے

س: وہ پندرہ بیس دن بعد آپ کے پاس خون لگوانے آتے ہیں؟
ج: جی ہاں ،ریموٹ ایریاز میں رہنے والے یہ مستقل پریکٹس کر رہے ہیںجو بہت غریب ہوتے ہیں ان کا ہم خیال رکھتے ہیں۔ وہ بہت زیادہ غربت کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اب ان سے جینے کی امنگ تو نہیں چھین سکتے۔ وہاں سہولیات نہیں ہیں، غربت زیادہ ہے اور سب سے بڑھ کر اس بیماری کے پھیلنے کی وجہ وہاں پر سہولیات کے ساتھ ساتھ اویرنس کا نہ ہونا بھی ہے۔
س:کیا دنیا میں کوئی ملک اس بیماری سے پاک ہے؟
ج:جی ہاں بہت سے ایسے ممالک ہے جہاں سے یہ بیماری ختم ہو چکی ہے ۔ اس میں ایران ہے ،مالدیپ ، اٹلی ، روم ہے۔ روم میںایک وقت ایسا تھا جب یہ بیماری بہت زیادہ تھی اور ہمارے یہاںبھی یہ بیماری تب ہی آئی جب رومی یہاں آئے تھے۔
س:وہاں پر کیسے ختم ہوئی؟
ج:یہ موروثی بیماری ہے اور یہ والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ایک کیرئیر صحت مند ہوتا ہے لیکن جب یہ کیرئیر دوسرے کیرئیر سے شادی کرتا ہے تو یہ بیماری بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ بچہ بیماری والا ایک حصہ باپ سے لیتا ہے اور ایک ماں سے اور اس طرح دونوں حصے لے کر بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔اس صورت میں اگر اس کے والدین میں سے کوئی ایک اس بیماری کا شکار نہ ہوتا تو اس بچے نے صحت مند ہی ہونا تھا۔ دونوں طرف سے جب اس کو بیماری ملی تو اس نے بیمار ہونا ہی ہونا ہوتا ہے اور پوری زندگی کے لیے اس کو خون لگنا ہی ہوتا ہے۔اس کا ایک کیرئیر ٹیسٹ ہوتا ہے ،شادی سے پہلے، اگر وہ ہم لوگ کروالیں تو مسائل ہی ٹھیک ہوجائیں۔ اگر لڑکا کروا لے تو لڑکی کا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
س:کیرئیر کیا ہوتا ہے؟۔
ج:کیرئیر جسم میں موجود جینز کو کہتے ہیں ۔ یہ جینز کسی شخص میں بھی موجود ہوتے ہیں لیکن بظاہراً وہ شخص صحت مند ہی ہوتا ہے۔ لیکن جنریٹک میں بیماری موجودہوتی ہے۔
س:اس کے پھیلاؤ کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟
ج:صرف ایک ٹیسٹ کروا کر اس کے پھیلائو کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر گورنمنٹ نکاح میں یہ شرط رکھ دے کہ دولھا دلہن شادی سے پہلے تھیلیسمیا کے ٹیسٹ کا سرٹیفکیٹ لے آئیں کہ کیرئیر ٹیسٹ کلیر ہے تو بیماری ختم ہو جائے گی۔ ہمارے معاشرے میں ایک چیز یہ بھی بہت زیادہ ہے کہ اگر آپ لڑکی والوں کو کہیں کہ آپ لڑکی کا ٹیسٹ کروا لیں تو آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائے اس کے لیے بہتر ہے کہ لڑکے کا ٹیسٹ ہی کروایا جا ئے ۔ اس کے بعد اگر ضرورت ہو تو لڑکی کا ٹیسٹ بھی کروایا جائے۔
س:کیا یہ ٹیسٹ خاصا مہنگا ہوتا ہے؟۔
ج:نہیں یہ ٹیسٹ زیادہ مہنگا نہیں ہے یہ ٹیسٹ ہزارپندرہ سو روپے میں ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پہلے یہ وائرس جانوروں سے انسان کو لگتا تھا اب انسان سے انسان کو لگ رہا ہے اس لیے یہ بہت زیادہ خطرناک ہے: ڈاکٹر غلام صدیق
تھیلسیمیا اور ہیمو فیلیا کے مرض میں مبتلا بچے

س:صرف ہزار پندرہ سو روپے کی خاطر یہ بیماری پھیل رہی ہے؟۔
ج:جی ہاں ، میں نے آپ کو بتایا کہ ہمارے ہاں تعلیم کا فقدان ہے اور ہماری ذہنی سوچ کابھی ایک محرک ہے کہ پتہ نہیں کیوں ٹیسٹ کروانا چارہے ہیں پتہ نہیں ان کا ارادہ کیا ہے۔
س:آپ اس مرض کی آگاہی کیلئے کیا کررہے ہیں؟۔
ج:ہم جہاں کیمپنگ کرتے ہیں وہاں پر بھی پروگرام کرتے ہیں اس کے علاوہ ہماری پبلک میٹنگ بھی ہوتی ہیں۔سیمینا ر بھی کراتے ہیں ،بیماری کے حوالے سے،سال میں دو چار ایونٹ کراتے ہیں۔ جب منوبھائی مرحوم زندہ تھے تو وہ ہر فورم پر تھیلیسیمیا کے مریضوں کی بات کرتے تھے۔ وہ فاؤنڈیشن کے لیے بہت کام کرتے تھے۔ ان کے بعد بھی ہم پوری کوشش کرتے ہیں۔ یہ صدقہ جاریہ ہے آپ آگے کریں اور وہ لوگ آگے کریں۔
س: گورنمنٹ اس کی روک تھام کیلئے کیا کر سکتی ہے؟
ج:گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایک پوری کمپین لانچ کرے وہ اپنے تمام میڈیم میں قومی فریضہ سمجھ کر ایک کمپین لانچ کریں تاکہ قوم کو اس بیماری سے بچایا جاسکے۔
س:سندس فاؤنڈیشن کے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں؟
ج:سندس فاؤنڈیشن کا بذات خود کوئی کاروبار تو نہیں ہے لوگوں کے عطیات ہی کے ذریعے ہم بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔ ابھی تک سورس آف انکم کوئی نہیں ہے، لیکن مستقبل میں ہم اس کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ جس طرح حالات مشکل ہوتے جارہے ہیں لوگوں کی آمدن میں کمی آتی جارہی ہے۔ اس وجہ سے ہم بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ کاروبار چلیں گے تو لوگ پیسے دیں گے۔ لیکن بچے تو اپنی جگہ موجود ہیں ان کا علاج تو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بچے ہماری ذمہ داری ہیں ۔ اس کے لیے ہم سوچ رہے ہیں کہ ادارہ کوئی ایسا کام کرے جس سے ادارہ خود کفیل ہو جائے لیکن یہ ایک مشکل کام ہے۔
س:سندس فاؤنڈیشن خودکفیلی کی طرف جانےکے لیے مستقبل میں کوئی پلان بنا رہی ہے؟
ج:جی ہاں،ہمارا پلان ہے کہ کوئی ہسپتال بنایا جائے جس میں فلا ح کا کام تو ہوگا ہی لیکن جو لوگ پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ پیسے دیں۔ ہمارا یہ بھی پلان ہے کہ سندس فاؤنڈیشن میں کچھ کمرے مختص کر دئیے جائیں جس میں کنسلٹنٹ بیٹھیں وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ ہمیں بھی دیںجو بچوں کی فلاح و بہبود کےلیے خرچ کیا جائے۔
س:کیا وہ لوگ جو اخراجات برداشت کرسکتے ہیں وہ پیسے دیتے ہیں؟۔
ج:ہمارے ہاں یہ بدقسمتی ہے ،کہ زیادہ تر لوگ پیسے نہیں دیتے حالانکہ وہ دے سکتے ہیں،لیکن کچھ لوگ ایسےبھی ہیں جو پیسے اگر دے سکتے ہیں تو دیتے ہیںہم کسی پر زبردستی نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر کوئی دے سکتا ہے تو اس کو ضرور اپنی حسب توفیق دینا چاہیے۔ اکثر وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہیں ہمیں پیسے نہیں دیتے کہتے ہیں آپ فری علاج کر رہے ہیں آپ کو پیسے کیوں دیں۔ ہم ان سے کہتے ہیں آپ کی جگہ کوئی اور پیسے دے رہا ہے۔
س:آپ ان کو بتاتے ہیں کہ یہ زکوٰ ۃ اور صدقہ خیرات کے پیسے ہیں؟
ج:ہم کسی کواس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ ہمیں بہت پیسے دے ۔ ہم کہتے ہیں جس شخص کی جتنی حیثیت ہے وہ اس کے مطابق دے سکتا تاکہ ادارہ فلاح کا کام جاری رکھ سکے۔ اگر کوئی 5سو بھی دے سکتا ہے تو دے ۔ ہم سو فیصد فری علا ج کرتے ہیں ۔ اگر ہمیں یہ لگتا ہے کہ کوئی 100فیصد اخراجات برداشت کر سکتا ہے تو ہم انہیں کہتے ہیں کہ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے ،آپ اپنے علاقے سے اس پر تصدیق کروالیں۔ ہم جانتے ہوتے ہیں کہ وہ مستحق نہیں ہوتے لیکن دیکھئے کہ وہ زکوٰۃ فارم ٹیسٹ کروا لاتے ہیں۔ ہم اس سے آگے کیا کر سکتے ہیں ۔
س:تھیلسیمیا کی ادویات کہاں سے ملتی ہیں؟
ج:تھیلسیمیا کے مریضوں کی ادویات بہت مہنگی ہیں ہم یہ ادویات سبسڈائز لیتے ہیں۔
س:کمپنی جو ادویات سبسڈائز کر تی ہیں وہ تو مجبور کرتی ہیں کہ آپ نے ہماری کمپنی کے علاوہ کسی کی دوا استعمال نہیں کرنی؟۔
ج:نہیں ایسا نہیں ہے، ایک تو یہ بہت مخصوص ادویات ہیں یہ مارکیٹ میں عام دستیاب نہیں ہیں۔کیونکہ اس کےمریض بہت کم ہیں۔بازار سے اگر کوئی خریدتا ہے تو پوری قیمت پر ملے گی۔ہم ان لوگوں سے جو پیسے دے سکتے ہیں ان کو بھی رعایتی قیمتوں پر دیتے ہیں اور جو پیسے نہیں دے سکتے ان کو فری دیتے ہیں۔کچھ ادویات بہت کم قیمت پر ہیں کچھ ادویات کمپنیاں ہمیں مفت میں دیتی ہیں وہ ہم بھی آگے بالکل مفت دیتے ہیں۔زیادہ تر ہم ادویات مفت میں دیتے ہیں بہت کم ایسی ہیںجو قیمتاً دیتے ہیں اور ان میں بھی پیسے ادا کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
س:تھیلسیمیا کے بچوں کی زندگی کی ریشو کیا ہے؟
ج:ہمارے پاس ایسے بچے بھی ہیں جن کو بہتر علاج کی سہولت کے باعث ان کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی۔ اور ان کی زندگی کا دورانیہ بڑھ گیا۔ 1980ء کے ز مانے میں پانچ ، چھ سال ان بچوں کی زندگی ہوتی تھی۔ اب ایسے مریض بھی ہیں جن کی عمریں 30-40سال ہیں اور انہوں نے شادیاں بھی کیں ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں۔ یہ علاج کی بہتر سہولت کے باعث ممکن ہے۔ بہتر میڈیسن اور بہتر علا ج کی سہولت سے ان بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
س: کیا ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض ادویات لے کر باہر بیچ دیں؟
ج:کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو ادویات لے کر باہر بیچ دیتے ہیں۔ لیکن اس سے وہ اپنی صحت کے ساتھ کھیلتے ہیں جو ادویات کا خیال کرتے ہیں وقت پر لیتے ہیں ان کی صحت بہتر رہتی ہے۔
س:آپ کے پاس رجسٹرڈمریض کتنے ہیں؟۔
ج:ہمارے پاس پورے پنجاب میں رجسٹرڈ مریض 5ہزار ہیں۔
س۔1998ءسے لے کر 2019ء تک آپ نے کتنے مریضوں کا علاج کیا اور ان میں کتنے فوت ہوئے اور کتنے زندہ ہیں؟
ج:زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ فوت وہی ہوتا ہے جو ادویات کا خیال نہیں کرتا ۔
س: روزانہ کتنے مریضوں کو خون لگاتے ہیں؟۔
ج:ہمارے ہاں 50-60مریض آتے ہیں اور ہم ان سب کے لیے خون کی دستیابی یقینی بناتے ہیں اور سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات دیتے ہیں۔ہم بلڈ کی سکریننگ کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ مشینیں رکھی ہوئی ہیں اس میں ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرتے۔ہم جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو جدید بنارہے ہیں۔ ہم نے سکریننگ کی مشین جو رکھی ہے اس کی قیمت ڈھائی کروڑکی ہے اور اس میں موجود کٹ5 لاکھ کی ہے اور اس میں 100ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ایک ٹیسٹ ہمیں5ہزار میں پڑتا ہے۔
س:گورنمنٹ ہسپتالوں میں کیا اتنی جدید مشینری ہے؟
ج:نہیں وہ تو سکریننگ کرتے ہیں ڈیوائس میں ، وہ تو اللہ معاف کرے 2سو میں بھی ہو سکتی ہے ۔بچے پہلے سے بیمار ہیں ہم ان کو اور بیمار کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ہمارے گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں موجود سسٹم بوسیدہ ہے ، ہمارے پاس سب سے جدید سسٹم موجود ہے۔
س:اگر پنجاب گورنمنٹ اعلان کردیتی ہے کہ شادی سے پہلے تھیلسیمیا کا ٹیسٹ لازمی کرائیں تو کیا آپ پورے لاہور کے ٹیسٹ کر سکتے ہیں؟
ج:ہمارے پاس یہ مشینری نہیں ہے ہم ابھی اس طرف نہیں گئے۔ ہم اس وقت تب جائیں گے جب ہمارے پاس فنڈ زہوں گے۔ ہم تو ابھی بچوں کا علاج کر رہے ہیںمشکل سے۔اگر گورنمنٹ ایسا کوئی اعلان کرتی ہے تو وہ ہمیں مشین لے دے ۔ یہی ٹیسٹ جو پندرہ سو یا ہزار روپے میں ہوتا ہے ہم آدھے پیسوں میں کر دیں گے کیونکہ ہمیں تو کوئی منافع نہیں چاہیے۔ جو کمرشل ادارے کام کر رہے ہیں وہ تو اس سے آمدن بناتے ہیں۔
س: کیا سال میں کوئی ایسے مہینے بھی ہوتے ہیں جب خون ملنا مشکل ہوتا ہے؟
ج: جی ہاں جب کالج اور یونیورسٹیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور ایک مہینہ رمضان ہمیں کافی مشکل ہوتی ہے۔لیکن ہم ارینج کر لیتے ہیں۔ ڈونر ڈھونڈ لیتے ہیں کیونکہ بچوں کو تو خون لگنا ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ مہینے ہمارے لیے خاصے مشکل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میڈیا بحران میں ہزاروں صحافی گھر میں بیٹھ گئے ہیں،کوئی پرسان حال نہیں
مرحوم منو بھائی کی بچوں کے ساتھ لی گئی ایک یادگار تصویر