war

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی

EjazNews

پاکستان اور ہندوستان میں 1.5ارب کے قریب لوگ آباد ہیں اور ا ن کا مستقبل اور زندگیاں ہر اس وقت دائو پر لگ جاتی ہیں جب قیادت اپنی ذمہ داری کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دینے لگ پڑتی ہے ۔ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’’اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی برقرار رہی، تو دونوں ممالک ایک دوسرے کو ختم کر دیں گے۔ دونوں ممالک اپنے تلخ ماضی سے نجات پا کر امن کی جانب قدم بڑھائیں کہ جنگ ہر سوال کا جواب نہیں۔‘‘ اگر غور کیا جائے تو دونوں ممالک کی سیاسی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 1.5ارب لوگوں کا مستقبل محفوظ بنائے۔جب بھی مذاکرات شروع ہو تے ہیں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اوربھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سفارتکاری کے حسب منشا نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 4جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور میڈیا پر مستقبل میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا ذکر عام ہے، حالانکہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذرا سا بھی ادراک رکھنے والے ایٹمی جنگ کا تصور تک نہیں کر سکتے،اس وقت کے ایٹم بم اور آج کے ایٹم بم میں بہت فرق ہے آج کا ایٹم بم اس وقت سے کہیں گنا زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے رہنمائوں نے مذاکرات کیے۔ 1965ء کی جنگ کے بعد تاشقند میں پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں ’’اعلانِ تاشقند‘‘ ہوا۔ اس اعلان کے تحت حالات معمول پر آئے ۔ اس موقع پر روس نے پہلی مرتبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔یہ کر دار روس اس مرتبہ بھی ادا کرنا چاہتا تھا لیکن بھارت نے ماننے سے انکار کر دیا۔ 1971ء کی جنگ کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس جنگ کے بعد شملہ میں ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں شملہ معاہدہ ہوا۔ کارگل کی جنگ کے دوران پاکستانی و بھارتی وزرائے اعظم، میاں نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ یہ جنگ ختم ہونے کے بعد پرویز مشرف کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، لیکن 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد یہ سلسلہ منقطع گیا۔ بعد ازاں، 2014ء میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ پھر حالات بہتری کی طرف آنے کی امید دکھائی دی لیکن مذاکرات میں دہشت گردی کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ بھارت ممبئی، پارلیمنٹ ہائوس اور پٹھان کوٹ میں ہونے والی دہشت گردی کا ذ مہ دار کالعدم تنظیموں کو ٹھہراتا ہے جبکہ پاکستان کا ماننا ہے کہ اگر اسے ثبوت فراہم کیے جائیں تو وہ ان کے خلاف کارروائی پر آمادہ ہے۔

بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوان کا نماز جنازہ پڑھایا جارہا ہے

لائن آف کنٹرول کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے میڈیا میں بھی ایک جنگ جاری ہے، جس کے منفی نتائج عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انڈین میڈیا اس انتہا پر پہنچ چکا ہے کہ اگر کوئی امن کی بات کرتا ہے، تو اسے غدار قرار دے کر اس کا جینا دو بھر کر دیا جاتا ہے، انڈین سابق چیف جسٹس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔’’ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان کے حق میں ٹویٹ کیا تو انڈیا میں مجھے غدار اور پاکستانی ایجنٹ قرار دیا جانے لگا‘‘تو ایسے میں امن کی بات کون کرے گا، حالانکہ دشمنی کسی بھی وقت دوستی اور جنگ کسی بھی وقت امن میں ڈھل سکتی ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والی مفاہمت اور پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دو دور ایک مثال ہے۔ جو افراد ٹرمپ اور کم جونگ پر جنگی جنون اور عقل سے عاری ہونے کے الزامات لگاتے تھے وہ اب منہ لٹکائے ان کے درمیان ملاقات کے منتظر ہیں، جس کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کا صفایا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے جانی دشمن، چین اور جاپان بھی مذاکرات کی میز پر ہیں یہ بھی بہت بڑی پیش رفت ہے۔ روس اور مغربی ممالک کے درمیان بھی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور یورپ کی تباہ کن اقتصادی پابندیوں سے ماسکو بے حال ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ہر سطح پر تعاون اور بات چیت جاری ہے۔ تمام ہی ممالک سفارت کاری کے اسی طریقہ کار پر گامزن ہیں، کیونکہ ممالک کے درمیان ازلی دشمنی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، لیکن اس کا سب سے قریبی دوست چین ایک کمیونسٹ ملک ہے جبکہ اسی خطے میں واقع افغانستان جیسا مسلم اکثریتی ملک سے اس کے اختلافات موجود ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دیرینہ تنازعات موجود ہیں، لیکن کیا ہم نے اپنے عوام کے بارے میں کبھی سوچنا ہے کیا ہم نے اپنی ترقی کی سمت طے کی ہے؟ ان اہداف کا تعین کرنے کے لیے ہمیں حقیقت کی دنیا میں رہ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ پھر یہ سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہم ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر آمادہ ہیں؟ نیزاس راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو کس طرح عبور کیا جائے اور اختلاف رائے کو ہم آہنگی میں کیسے بدلا جائے؟ ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے ہمسائے میں بسے چین کو ہی اگر دیکھا جائے تو یہ مثال کافی ہے۔ چین نے دسمبر 1979ء میں ترقی کی راہیں ازسر نو متعین کیں۔ چین کی اقتصادی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا اور اس مقصد کے لیے پہلے اہداف مقرر کیے اور پھر انہیں حاصل کرنے کے طریقے وضع کیے۔ ان کی پالیسی میں دوسرے ممالک کی سازشوں کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا، بلکہ آگے بڑھنے کے رہنما اصول بیان کیے گئے تھے۔ کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ سازشوں کا رونا رونے سے خود اعتمادی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے سازشوں کا رونا رونے کی بجائے اگر اصل مسائل کو حل کرنے کی طرف آیا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں اور برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو سکتی ہیں یہاں کی غربت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اور یہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کا ہے۔
کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم ایشو ہے اوران دونوں میں پائے دار امن کے لیے اس کا حل بہت ضروری ہے۔وگرنہ بیانات تو صرف مسائل ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو معاشی استحکام کی ضرورت ہے کیونکہ اس خطے کی آبادی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اگر عوام کو بنیادی ضروریات فراہم نہ کیں تو آبادی کے بوجھ تلے دب کر ہی سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔اور پاک و ہند کی آبادی میںہر سال تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقتصادی پس منظر میں رکھ کر حل کرنے کی کوشش کی جائے تو ترقّی پر اتفاق رائے پیدا کرنا کسی حد تک ممکن ہو گا۔اس کی مثال اگر یوں دیکھی جائے کہ بھارت نے ون بیلٹ، ون روڈ سے اختلاف کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جب بھارتی وزیراعظم چین گئے تو چینی قائدین نے ان کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ سو، اختلافات کے باوجود پاکستان اور بھارت بھی آپس میں تعلقات قائم کر سکتے ہیں اور پھر تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے کم و بیش 150کروڑ عوام کی زندگی کو دائو پر لگانا عقل مندی نہیں۔
پاکستان اور بھارت کے رہنمائوں کو قیامِ امن کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس کے متعلق بعدازاں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ، خورشید محمود قصوری نے یہ دعوی کیا تھا کہ یہ مذاکرات حتمی نتیجے کی جانب گامزن تھے۔اس موقع پر آزاد و مقبوضہ کشمیر کے رہنمائوں کو ایک دوسرے سے روابط قائم کرنے کے مواقع ملے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے راستے کھلے اور آپسی نفرتوں میں کمی واقع ہوئی۔ آپ کچھ بھی کر لیں آخر میں مذاکرات پر ہی بات ختم ہوتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے سے ہی مسائل کو حل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہی حقیقت ہے اور یہی سچائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ریاستوں کے درمیان کبھی دشمنی نہیں ہوتی