امن کی صبح

بے فکری کی صبح

EjazNews

تحریر : الف سلیم

اتوار کی صبح تھی دیر سے سو کر اٹھے۔ بچوں کا۔ اٹھنے کا ابھی موڈ نہیں تھا۔ بیگم کا ناشتہ بنانے کا موڈ نہیں تھا۔ اسی اثناء میں میرے ہاتھ اخبار آگیا۔ پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ خبروں کا منبا پاک بھارت کشیدگی کا تھا۔ سوتے ہوئے بچوں کو دیکھا بیوی کو دیکھا اورپتہ نہیں کیوں خیال مودی کی جنونیت۔ عمران خان کی سمجھداری۔ مظلوم کشمیریوں اور سرحد پر موجود فوجی جوانوں کی طرف چلا گیا۔ مظلوم کشمیریوں کے ہاں بھی تو صبح ایسی ہی ہوتی ہو گی۔ بچے تو سرحد پر لڑنے والے دونوں طرف کے جوانوں کے بھی ہیں۔ اب جب گولی چلے گی تو وہ نقصان ہی کرے گی۔ گولی کو کیا پتہ اس کے بچے ہیں یا نہیں۔ چاہے ستر سال سے انڈیا کے ساتھ لڑنے والے کشمیری ہوں یا پھر ان ہر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی انڈین فوج ہو۔ بچے تو سبھی کے ہیں۔ ہر ایک کی صبح فکر مندی میں گزرتی ہے۔ مودی اور بی جے پی تو پہلے سے ہی فسادات سے الیکشن جیتتے آئے ہیں۔ انہیں تو خون سے لکیر کھینچ کر جیتنا سکھایا گیا ہے۔ اب وہ اپنی اس جنونیت کو سرحدوں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دفعہ تو سامنے عمران خان جیسے سمجھدار وزیراعظم تھے۔ معاملات کو سنبھال گئے۔ لیکن ہر دفعہ ایسا ممکن نہیں۔ اب کی جنگ ٹینکوں کی جنگ نہیں ہے۔ ایٹم بم کی جنگ ہے اور ایٹم بم کسی سے اس کا نہ تو مذہب پوچھتا ہے اور نہ ہی ذات۔ وہ تو صرف تباہی کرتا ہے۔ میں جانتا ہوں انڈیا میں بھی امن سے رہنے والے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ وہ امن چاہتے ہیں، اور امن کی باتیں بھی کرتے ہیں لیکن شدت پسندی سے بھرے کچھ میڈیا ہاؤسز تو ایسا لگتا ہے جیسے جنگ کروا کر ٹی آر پی حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ جب جنگ ہوگی تو بچے کا انڈیا بھی نہیں۔ دوسری طرف نریندرا مودی کا بیان پڑھنے کو ملا فرما رہے تھے کہ اپنی فوج پر شک کرنا بند کرو ۔ بھئی سوال پوچھنے کی آزادی ختم کرو۔ اب انڈین کے امن پسندوں کی باری ہے کہ شدت پسند اپنا کھیل پوری شدت سے کھیل رہے ہیں اب امن پسندوں کی باری ہے کہ وہ امن کیلئے نکلیں کیونکہ امن سے ہی بے فکری والی صبح ہوتی ہے۔ سکون والی صبح ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کی وجہ سے قربانی کو موقوف کرنے کا مشورہ دینا درست نہیں