بھارت انسانی ہڈیو ں کی سمگلنگ کا سب سے بڑا مرکز

EjazNews

سب سے بڑی جمہوریت میںبہت سے کام جمہوریت کے منافی بھی ہو جاتے ہیں۔مسلمانوں ،عیسائیوں اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم بھی گزشتہ چند سالوں میں اس سب سے بڑی جمہوریت کی پہچان بن چکی ہے۔ آج سے بیس سال قبل یہی سب سے بڑی جمہوریت مردہ جسموں، انسانی ہڈیوں اور کھوپڑیوں کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتی تھی۔ اتنا بڑا مرکز کہ اس نے مصنوعی ہڈیاں بنانے والی کمپنیوں کو ٹھپ کر دیا تھا۔ 1980ءکی دہائی میں کچھ امریکی کمپنیوں نے اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی انسانی سمگلنگ پر شدید احتجاج کیا۔ کاروباری حکمت عملی بھی اس میں ضرور شامل تھی لیکن دنیا کے کسی بھی حصے ، کسی بھی مذہب میں اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چنانچہ عالمی دباﺅ اس قدر بڑھا کہ بھارت کو 1985ءمیں انسانی ہڈیوں ، کھوپڑیوں اور مردہ جسموں کی خریداری اور برآمد کو خلاف قانون قرار دینا پڑا ۔ ورنہ ہزاروں کھوپڑیاں ہر سال بھارت سے امریکہ ، جاپان، یورپ اور مشرق وسطی سمگل کی جاتی تھیں۔ جہاں میڈیکل ٹریننگ ان ہڈیوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ چین میں ہڈیوںکو ادویہ سازی میں بھی استعمال کیا جارہا تھا۔ خود بھارت میں بھی ہڈیوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔جادو ٹونہ ، مردہ جسموں اورہڈیوں کے ذریعے سے بھی کیا جاتا ہے۔ کئی قسموں کے جادوﺅں میں بھی اسے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض مذہبی رسومات میں بھی ہڈیوں کا استعمال معمول کا حصہ ہے۔
قانوناً جرم قرار دئیے جانے کے بعد یہ دھندہ زیر زمین چلا گیا۔ کولکتہ کے ضلع میں پچھلے دنوں پولیس نے چھاپہ مار کر تین سو پینسٹھ کھوپڑیوں کو برآمد کر لیا۔ 8 رکنی گروہ نے ان کو ہائیڈروجن سے اچھی طرح دھو کر بوریوں سے بھر لیا تھا۔وہ اسے ٹرانسپورٹ سے لے جارہے تھے کہ بوریو ں کے اندر سے ہڈیوں پر لگایا جانے والا کیمیکل رسنا شروع ہوگیا۔ شک پڑنے پر لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ اس طرح یہ گینگ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ ایسے درجنوں گینگ بھارت کے مختلف حصوں میں خفیہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں قبریں کھود کر لاشوں کو چوری کرنے کی شکایت پولیس کو کی جا چکی ہیں۔ پولیس کوئی مدد کرنے کی بجائے بسا اوقات مدعیوں کو بھگا دیتی ہے۔اس وجہ سے مظاہروں میں کئی مرتبہ شدت بھی آئی۔ جرم اپنی جگہ قائم ہے اور مجرموں کی سرکوبی کرنے والے ہاتھ اتنے مضبوط نہیں ہوئے کہ وہ اس سیاہ دھندے کو روک سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جب سب کچھ صاف نظرآرہا ہو تو پھر آپ اچھے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں