او آئی سی کا بائیکاٹ، کون کیا کہتا ہے

EjazNews

اوآئی سی میں نہ جانے کے فیصلے کے بارے میں آئیے دیکھتے ہیں کون کیا کہہ رہا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں بھارت خطے کی سپر پاور بنناچاہتا ہے ، پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے، بھارت ان ممالک کے ساتھ تعلقات چاہتا ہے جن سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ او آئی سی سے ہمارے مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ لیکن اگر حکومت او آئی سی کابائیکاٹ کرنا چاہتی ہے تو ہم ساتھ ہیں۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کہتے ہیں او آئی سی میں نہ جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں،اگر دوست ممالک سے بیانات بھی آئیے تو زیادہ بہتر ہے۔خواجہ آصف کہتے ہیں بھارت کی موجودگی میں او آئی سی میں نہ جانے کا فیصلہ درست ہے۔ خوشی ہے ہماری صفوں میں اتحاد ہے۔ میں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جس طرح یو اے ای کے تعلقات بھارت سے بڑھ رہے ہیں اس کا ہمیں نقصان ہوگا۔ پاکستان او آئی سی کے بانی ارکان میں سے ہے۔ بھارت کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بھارت کی او آئی سی کا ممبر بننے کی دیرینہ خواہش ہے۔سابق چیئرمین سینٹ کہتے ہیں موجودہ صورتحال میں ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ امریکہ بھارت کے ذریعے چین کا اثر کم کرنا چاہتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کہتے ہیں بھارت کشمیر سے متعلق او آئی سی کی متعدد قرار دادوں کو مسترد کر چکا ہے۔ جبکہ گزشتہ برس بھی بھارت نے منظور کی گئی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی کی، ایسے بدترین ریکارڈ کے بعد بھارتی حکام کو اجلاس میں مدعو کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کانفرنس کے حوالے سے اپنے اعتراضات اور تحفظات او آئی سی تک پہنچا دئیے، بھارت سے ہمارے تصفیہ طلب تنازعات چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی دنیا اور او آئی سی ممالک کی توجہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دراندازی کر کے انسانیت سوز مظالم کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش کو انڈیا سے جیتنے کیلئے 315رنز بنانا ہوں گے