ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بات چیت سے مل بیٹھ کر مسئلہ حل کیا جائے:وزیراعظم

EjazNews

میرے پاکستانیوں کل صبح سے جو صورتحال بنتی جارہی تھی میں چاہتا تھا آپ کا اعتماد میں لوں۔ہم نے پلوامہ کے بعد انڈیا کوپوری آفر کرائی کہ وہ جو کچھ انویسٹی گیشن چاہتا ہے ہم تیار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کے لوگوں کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی ،ہم نے یہاں 70ہزار لوگوں کو مرتے دیکھا ہے کتنے ہسپتالوں میں گئے ۔ اس کے بعد ان کے گھر والوں پرکیا گزری۔ ہم نے سیدھا سیدھا ہندوستان کو آفر کی آپ جیسی انویسٹی گیشن چاہتے ہیں اس کے لیے ہم تیار ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کہیں دہشت گردی کے استعمال کی جائے یا باہر سے ہمارے لیے یہ ہمارے حق میں نہیں۔
مجھے یہ خدشہ تھا کہ ہندوستان نے اس کے باوجود کوئی ایکشن لینا تھا کوئی بھی غیرت مند ملک اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے خلاف ایسا کچھ کیا جائے۔ صبح جب ایکشن لیا گیا میری ، ائیر فور س اور آرمی چیف کی بات ہوئی ،جب تک ہمیں پتہ نہ چلتا کہ کس طرح کا نقصان ہوا ہے۔ ہم نے انتظار کیا اورآج ہم نے ایکشن لیا۔ ہماری کوشش تھی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ ہم نے ہندوستان کو بتایا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
میں ہندوستان کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں پر ہم حکمت عملی اور عقلمندی کا مظاہرہ کریں۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد 6ماہ تک ختم ہونا تھی دوسری جنگ عظیم بھی اور اسی طرح دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھی، ویتنام جنگ میں بھی۔جو ہتھیار آپ کے پاس ہیں یا ہمارے پاس ہیں ۔اگر جنگ شروع ہوئی تو وہ نہ میرے کنٹرول میں ہوںگے نہ نریندر مودی کے کنٹرول میں ،ہم نے آپ کو کہا آپ کی پلوامہ کا جو حادثہ ہوا جس قسم کا ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں دہشت گردی پرہم تیار ہیں۔ میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ بات چیت سے مسئلے کا حل ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: پاکستا ن نے ٹیسٹ سیریز جیت لی