لیڈر اپنی ذاتی خواہشوں ، تمناؤں اور آرزؤں کی سطح سے اوپر اٹھ کر عوام کیلئے سوچتا ہے

EjazNews

اے محمود چوہدری
لیڈر کبھی بھی اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا وہ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں جیتا اور سانس لیتا ہے۔ اس کے منہ سے نکلے ہوئے لفظ اس کی جیتیں اس کی ماتیں، اس کے پچھتاوے، اس کی لغزشیں اس کے قول و قرار ، اس کے افعال ، صرف اس کے اپنے نہیں ہوتے اس لئے کہ اس کے کارناموں ، اس کے وعدوں، اور اس کی غلطیوں کا بوجھ وہ لوگ بھی اٹھاتے ہیں جو کروڑوں لوگ اپنے خواب اور اپنی امیدیں اس شخص سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ لیڈر سے ہونے والی لغزشوں کی چھبن ان کی آنیوالی نسلیں بھی سہتی ہیں۔ اس لئے کہ ایک اصلی لیڈر کبھی اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا، اس کی ذات کے گرد کئی دائرے کھنچے ہوتے ہیں۔ اس کے با اعتماد رفقاء اورساتھیوں کا دائرہ اپنے لیڈر کیلئے ماریں کھاتے ہیں تشدد برداشت کرتے ہیں۔ جیلیں بھرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں۔
اپنے لیڈر کو چاہنے والے لوگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں ان کے گھروں میں بدحالی ناچ رہی ہوتی ہے مگر یہ اپنے اپنے لیڈر کے خمار میں گرم تپتی سڑکوں پر محو رقص آتے ہیں۔ اس پر جوش جان نثار کرنے والی مخلوق کے دائرے سے باہر بھی ایک دائرہ ہے۔ عوا م کا دائرہ ،عام لوگو ں کا دائرہ، وہ لوگ جو اپنے سیاسی میلان اور ذہنی رجحان کے سبب لیڈرسے وابستگی قائم کر لیتے ہیں وہ اس کے بیانات سنتے ہیں ، لیڈر کی جنبش ابرو کے اشارے سے داستانیں تراش لیتے ہیں یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنے ٹی وی اور اخبار کے ذریعے اپنے لیڈرسے ربط جوڑ لیتے ہیں اور یوں ایک لیڈر کی ذات شہروں ، قصبوں ، دیہات کے چھوٹے چھوٹے گھوں تک پھیل جاتی ہے۔ لیڈر ایک بیان دیتا ہے تو یہ لوگ اپنی اپنی بیٹھکوں، تھڑوں اور محفلوں میں بیٹھ کر اس کے الفاظ کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ جس نظرئیے کا حامی ہوتا ہے یہ لوگ اس کے حق میں دلیلیں دینے لگتے ہیں۔ لیڈر شعلہ بیان تقریریں کرتا ہے، ہزاروں کے مجمعے کو گرماتا ہے۔ وہ لوگوں کو خواب دکھاتا ہے اور پھر یہ خواب ہزاروں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں پلنے لگتے ہیں ان خوابوں کی روشنی سے ان کے گھروں کے تاریک کمروں میں روشنی ہوتی ہے، یوں لیڈر اپنے وعدوں کے کدالوں سے زندگی کے بنجر کھیتوں میں خواب بوتا ہے ۔ لیڈر کی ذات کروڑوں لوگوں کے اندر سانس لینے لگتی ہے۔
اگر لیڈر ہے تو پھر اسے لوگوں کے ساتھ، عوام کے ساتھ اپنے اس نازک حساس مگر مضبوط رشتے کا احساس رہتا ہے یہ ا حساس اسے باندھے رکھتا ہے کہ وہ کوئی ایسا وعدہ نہ کرے جسے وہ پورا نہ کر سکے۔ عوام کے ساتھ اعتماد کا یہ رشتہ اسے پابند رکھتا ہے کہ وہ ان بیانات کی کھیتی نہ اُگائے جسے کل کو کاٹنا اس کیلئے مشکل ہو جائے اگر وہ لیڈر ہے رہنما ہے تو پھر اسے اپنے وعدوں کا پاس رہتا ہے اس کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ اس کے لئے آئینہ بن جاتے ہیں۔
ایک لیڈر جس کی ذات کروڑوں لوگوں کے اندر سانس لیتی ہو وہ اپنے فیصلے کرتے وقت اپنے رب سے صائب فیصلے کرنے کی دُعا ضرور مانگتا ہوگا۔ اس لئے کہ اس کے جنبش ابرو سے کتنے گھرانے اور کتنے لوگ وابستہ ہیں۔ ایک لیڈر اپنی ذاتی خواہشوں ، تمنائوں اور آرزئوں کی سطح سے اوپر اٹھ کر عوام کیلئے سوچتا ہے، وقتی فائدے اس کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ لیڈر سر پھری ہوائوں کے سامنے دیا جلانا اور پھر اس کی پھڑ پھڑاتی لو کی حفاظت کرنے کا ہنر جانتا ہے۔
لیڈر کا ایک ویژن ہوتا ہے، حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، دھند خواہ کتنی ہی دبیز کیوں نہ ہو۔ رات چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، لیڈر راستے کا تعین کرنا جانتا ہے۔ اسے اپنی منزل کا ادراک ہوتا ہے۔ سچا رہنما یعنی اصلی لیڈر لوگوں کے ذہنوں اورسوچوں تک رسائی رکھتا ہے۔ وہ ان دلوں پر حکومت کرتا ہے تو حکمت کرنے کیلئے اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنا اس کیلئے ضروری نہیں ہوتا۔ وہ انسان سے محبت کرتا ہے اپنے کارکن سے محبت کرتا ہے۔
لیڈر بن کر پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں ۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، ٹیبل پر بیٹھئے مسائل کو حل کیجئے اور اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی گزارئیے ۔

یہ بھی پڑھیں:  پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھائیں