کلونجی کے فوائد

آئیے جانتے ہیں کلونجی ہماری صحت کےلیے کتنی مفید ہے

EjazNews

کلونجی اپنے اندر بے پناہ فوائد کا خزانہ رکھتی ہے اور جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفاء ہے ۔کلونجی جسے شونیز بھی کہا جاتا ہے ابتدائی زمانے میں رومی ان سے واقف تھے اوریونانی طبیبوں اور عرب طبیبوں نے کلونجی کو روم ہی سے حاصل کیا ۔ آہستہ آہستہ یہ پودا دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی کاشت کیا جانے لگا۔ کلونجی کے بیج پیاز کے بیجوںکے ہم شکل ہوتے ہیں۔اسی لئے بہت سے لوگ انہیں پیاز کے بیج ہی سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھا جائے تو کاغذ پر چکنائی کے دھبے لگ جاتے ہیں۔
اطبائے یونانی کلونجی کے استعمال سے خوب آگاہ تھے اور انہوں نے ان بیچوں کو پیٹ کے مختلف امراض مثلاً پیٹ کا پھول جانا، ایام کا زیادہ ہونا، درد قولنج اور استسقاء جیسے امراض میں بکثرت استعمال کراتے تھے۔ اس کے علاوہ دماغی امراض مثلاً فالج ، نسیان، رعشہ اور دماغی کمزوری میں بھی کلونجی کو تنہا یا دیگر دوائوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا۔
کلونجی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں قسم کے امراض کو دور کرتی ہے ۔امام ذہبی کا قول ہے کہ کلونجی سے جسم کے کسی بھی حصے کی رکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ اس قول کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ کلونجی ان مریضوں کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔ جن کے دل کی رگیں کولیسٹرول کی وجہ سے بند ہو جاتی ہیں اور جنہیں بائی پاس کروا کر تبدیل کرانا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک دشوار اور مہنگا آپریشن ہے اور کلونجی اس کا آسان اور سستا ترین علاج ہے۔
کلونجی پیشاب آور ہے اور اس کے استعمال سے معدہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ کلونجی پرانے زکام میں بہت مفید ہے۔
کلونجی کے کیمیائی تجزئیے سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس میں روغنی اجزاء کے علاوہ نگیلین ، البیومن، ٹے نین، رال دار مادے ، گلوکوز ، ساپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو بے شمار امراض پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دمہ کے مرض میں کلونجی نہایت مفید ثابت ہوئی ہے اس کا آدھا چمچ دن میں تین یا چار مرتبہ تازہ پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو دمہ کے مریضوں کو بہت افاقہ ہوتا ہے۔
پیشاب کی بندش کی تکلیف میں کلونجی تھوڑے تھوڑے وقفہ سے آدھا چمچ استعمال کریں۔
خواتین میں حیض کی بندش اور ماہواری کی جملہ خرابیوں کے لئے جس میں کمر کا درد، پٹھوں کا کچھائو، جی متلانا اور ٹانگوں کے کچھائو و درد وغیرہ میں کلونجی نہایت مفید ہے۔
بدہضمی، ڈکاریں، گیس، تبخیر، دائمی قبض وغیرہ کے لئے کلونجی کا استعمال نہایت مفید ہے۔
شوگر کے مرض میں کلونجی کا استعمال بہت مفید پایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں صبح شام ایک چمچ کلونجی باقاعدگی کے ساتھ استعمال کی جائے۔ برٹش ریسرچ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق دو سو شوگر کے مریضوں کا کلونجی کے ذریعے علاج کیا گیا۔ جس سے حیرت انگیز طور پر شوگر کنٹرول ہونا شروع ہو گئی۔
جن خواتین کو دودھ کی کمی کی شکایت ہو وہ کلونجی کا باقاعدہ استعمال کریں اس سے یہ تکلیف دور ہو جائے گی۔
کلونجی کا تیل بھی بہت سے امراض میں مفید و مؤثر پایا گیاہے۔
آدھے سر کا درد کی شکایت میں کلونجی کا تیل ایک قطرہ درد والے حصے کے مخالف ناک کے نتھنے میں ڈالیں اور تقریباً دس قطرے کلونجی کا تیل روزانہ استعمال کریں۔
قوت حافظہ کے لئے کلونجی کے دانے سات عدد پیس کر ایک چھوٹی چمچ شہد، کلونجی کا تیل دس قطرے ڈال کر پئیں۔
آنکھ کے امراض کے سلسلہ میں موتیا کی ابتدائی حالت میں روزانہ کلونجی کا تیل ایک قطرہ آنکھ میں ڈالیں۔
یرقان کے مرض میں مہندی کی پتیاں دو تولہ رات کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح چھان کر چودہ عدد کلونجی کے دانے، ایک چمچ شہد اور دس قطرے کلونجی کا تیل ملا کر استعمال کریں۔
پیشاب کی جلن میں ایک پائو دودھ میں آٹھ قطرے کلونجی کا تیل اور ایک چمچ شہد ملا کر استعمال کریں۔
جنسی کمزوری کی صورت میں دو قطرے کلونجی کا تیل، ایک بڑا چمچ شہد، جائفل کا تیل ایک قطرہ ملا کر رات کو دو ہفتہ تک استعمال کریں۔
اگر بال گرتے ہوئے تو کلونجی کا تیل باقاعدگی کے ساتھ سر پر لگائیں۔
ذیابیطس کی شکایت کلونجی ایک تولہ کاسنی اور میتھی کے بیج آدھا آدھا تولہ ملا کر پیس کر رکھ لیں۔ تین ماشہ کی مقدار میں صبح و شام چار قطرے کلونجی کے تیل کے ہمراہ استعمال کریں۔
کلونجی چوتھائی چمچ ہلکی سی کوٹ لیں۔ ایک کپ پانی میں ڈال کر ابالیں اور چائے کی طرح دن میں دو یا تین دفعہ استعمال کریں۔ یہ چائے مندرجہ ذیل امراض کے لئے بہت مفید اور مؤثر ہے۔
ضعف دماغ اور نسیان کے لئے مفید ہے۔
اعصابی کمزوری اور پٹھوں کے کچھائو کے لئے مفید ہے ۔
دائمی نزلہ و زکام اور ناک سے پانی بہنے کے لئے موثر ہے۔
جمے ہوئے بلغم کو خارج کے لئے مفید ہے۔
ٹانسلز اور گلے کے ورم کے مرض میں اس چائے کو استعمال کیا جائے اور غرارے کئے جائیں تو بہت فائدہ مند ہے۔
کانوں کے امراض، سماعت کی کمی کانوں میں شور کی آواز اور کان بہنے کو ختم کرتی ہے۔
کھانسی، سینے کا جکڑائو، کھچائو اورسینے میں بلغم کی وجہ سے خر خراہٹ کی تکالیف میں مفید ہے۔
پسلی کے درد، نمونیہ، پھیپھڑے کی جھلیوں کے ورم ، سردی اور بارش میں بھیگنے کی وجہ سے سانس کی تنگی تمام کیفیات میں مفید ہے۔
معدہ کی بادی ،تبخیر ، گیس اور بدہضمی کے لئے سب سے بہترین دوا ہے۔
پتے کا ورم اور پتے کی پتھری کا بغیر آپریشن کے کامیاب علاج ہے
گردے کے ورم میں مبتلا افراد کے لئے اس کا استعمال نہایت مفید ہے۔
بواسیر کے مرض میں اور خاص طور پر بادی بواسیر میں یہ چائے اور کچھ دانے انجیر کا استعمال نہایت فائدہ مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹماٹر گھر میں اگاتے ہیں