مسئلہ کشمیر

مسئلہ کشمیر آخر ہے کیا؟

EjazNews

یہ جاننے کے لئے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے ۔اس کے لئے یہ ضروری جاننا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر آخر ہے کیا۔ اس کے فریق کون ہیں اور اس کا اگر کوئی حل ہے تو اس میں رکاوٹیں کیا کیا ہیں؟ اس مسئلہ کی حقیقت کیا ہے؟ اور یہ کہ دکھائی کیا دیتا ہے کیونکہ ہر شخص کو ان تفاصیل کی خبر نہیں ہے۔
یہ معلوم کرنے کے لئے یہ مسئلہ آخر ہے کیا دو تین امور پر غور کرنا ہوگا۔ ایک ریاست جموں و کشمیر کا تاریخی و جغرافیائی محل و وقوع
دوسرے 1947ء میں برصغیر کی تقسیم جس کے نتیجہ میں اسلام کے نام پر سارے عالم میں پہلی بار ایک نظریاتی مملکت معرض وجود میں آئی اور
تیسرے یہ کہ ریاست جموں و کشمیر میں وہ ڈیڑھ سالہ جہاد جس کے ذریعے آزاد کشمیر و شمالی علاقہ جات کا 32ہزار مربع میل کا خطہ معرض وجود میں آیا ۔
یہ وہ تین بنیادی عناصر ہیں جنہیں سمجھے بغیر اس مسئلہ کی اصل صورت سمجھ میں نہیں آسکتی اور جب تک وہ سمجھ میں نہ آئے تو ظاہر ہے کہ اس کا حل کیسے معلوم ہوگا؟

جغرافیائی محل و وقوع اور اس کی اہمیت

ریاست جموں و کشمیر کے محل و وقوع کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ اس پر ایک ہی نگاہ ڈالنے سے عیاں ہوگا کہ غالب مسلم اکثریت کا تقریباً 84ہزار مربع میل کا یہ علاقہ پاکستان، چین، بھارت اور روس کی سرحدات سے متصل ہے اور اپنی خصوصی جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے ان ملکوں کے مابین کسی بھی جنگ کی صورت میں کسی کیلئے اس پر قبضہ بیشمار فوائد اور دوسرے فریق پر سبقت و غلبہ کا باعث بن سکتا ہے اسی طرح تاریخی ، جغرافیائی اورتمدنی عوامل کے اعتبار سے اس علاقہ کا گہرا تعلق صرف پاکستان سے بنتا ہے۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل یہ ریاست اپنی تہذیب، ثقافت و تمدن، مذہب، تجارت غرضیکہ ہر اعتبار سے ان متصل علاقوں کے ساتھ وابستہ رہی ہے جن کو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کہا جاتا ہے اور اسی طرح پاکستان کی معیشت اور دفاع کا کافی حد تک انحصار اسی علاقے جموں و کشمیر پر ہے یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی تشریخ قائداعظم ؒ کا مشہور قول کرتا ہے کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘اور کوئی باغیرت قوم اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے نیچے نہیں رکھ سکتی۔ بھارت ، افغانستان اور روس کے ساتھ کشمیر کی ملنے والی سرحدات کے مجموعے سے ریاست کاکہیں زیادہ علاقہ یعنی دو صد میل سے زائد علاقہ پاکستان کے ساتھ متصل ہے، اس قدرتی تقسیم میں جہاں کشمیر کا سارا دارومدار پاکستان پر ہے وہاں خود پاکستان کی معیشت اور دفاع کا نہایت گہرا تعلق خود کشمیر سے ہے یہاں تک کہ بالفاظ دیگر جب تک کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل نہیں ہو جاتا تب تک پاکستان اپنی جغرافیائی ،نظریاتی، تاریخی، معاشی اور دفاعی سرحدات میں مکمل نہیں ہے۔ ان بنیادی عوام میں ہر ایک پر ایک علیحدہ مقالے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھ آئے کہ پاکستان کی معیشت اور ثقافتی و تہذیبی و تاریخی معاملہ کیا ہے اور پاکستان کے دفاع کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے اس توجیہہ سے سمجھنے کی بات دراصل یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کوئی علیحدہ ملک نہیں ہے نہ کشمیری کوئی علیحدہ قوم ہیں کہ ان کو آزاد کروا کر کسی دوسری مملکت اور دوسری قوم کے ساتھ ملانا مقصو د ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوچ و فکر کی ادنیٰ سی غلطی سے تمام مقاصد ہی بدل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب مقاصد بدل جائیں تو طریق کار بھی ان ہی کے مطابق ہوگا۔ بھارت کے ساتھ ریاست کا الحاق ایک انتہائی غیر طبعی اور غیر فطری عمل ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ الحاق طبعی اور فطری امر ہے بلکہ اس اعتبار سے پاکستان کیساتھ کشمیر کا الحاق پاکستان کے کئی دوسرے ملحقہ حصوں سے زیادہ فطری اور طبعی ہے اور کشمیر قدرتی اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے۔ بھارت کا یہ دعویٰ کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے محض لغو ، بے بنیاد اوربلا جواز ہے۔ سوائے اس کے کہ کشمیر پر بھارت کا فوجی قبضہ ہے اور تاریخ اس کی شاہد ہے کہ بھارت نے سازش، فریب، تشدد اور فراڈ کے ذریعہ کشمیر پر قبضہ کیا اور اس میں لارڈ مائونٹ بیٹن، گاندھی، نہرو اور رسوائے زمانہ ریڈ کلف خاص طور پر شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو تشدد کی ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے

برصغیر کی تقسیم اور ریاست کا الحاق

دو قومی نظریہ کی بناء پر تاریخی تقسیم ہوئی تو اس وقت ہندوستان میں موجود چھ صد سے زائد دیسی ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے بھارت یا پاکستان میں شریک ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے عملاً مقصود یہی ہو سکتا تھا کہ جو ریاستیں ہمسایہ ملک کا طبعی حصہ ہو سکتی تھیں وہ اسی ملک سے الحاق کریں گی نہ وہ ریاست جو بھارت کے اندر تھی پاکستان سے عملاً الحاق کر سکتی تھی نہ وہ جو پاکستان کے اندر تھی بھارت میں شامل ہو سکتی تھیں ورنہ دونوں حصو ں کا نقشہ ہی مختلف ہوتا۔ بھارت میں ایسی بڑی ریاستیں تھیں جن کے حکمران مسلمان تھے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیتے مگر بھارت نے ان پر جبراً قبضہ کرلیا ۔ مثلاً حیدر آباد، جوناگڑھ، بھوپال وغیرہ۔ اسی اصول کی بنیاد پر ریاست جموں و کشمیر بھی جو جغرافیائی اعتبار سے بھی اور آبادی کی غالب اکثریت کی رائے کی بنیاد پر بھی پاکستان کے متصل تھی اس کے ساتھ الحاق کر سکتی تھی بلکہ اس میں ایک امتیازی اور اضافی خصوصیت یہ بھی تھی کہ دوسری تمام ریاستوں کے برعکس اس ریاست میں پاکستان بننے سے قبل ہی یعنی 19جولائی 1947ءکو سری نگر کے مقام پر ریاست کے مسلمانوں کی نمائندہ اور ترجمان جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ ا لحاق کی قرار داد بھی منظور کرلی بلکہ پاکستان بننے سے پہلے ہی الحاق پاکستان کیلئے ایک عوامی تحریک چل پڑی تھی ۔ اگر ریاست جموں و کشمیر اس وقت پاکستان میں شامل ہو گئی ہو تی تو پاکستان مکمل ہو جاتا اور برصغیر کے عوام مسلسل کشمکش اور باہمی دشمنی کی سزا سے بچ جاتے۔

مسئلہ کشمیر میں انگریز کا کر دار

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا بھارت کے ہندو لیڈروں کے علاوہ خود اس وقت کے حکمران انگریز کو بھی ناگوارتھا وہ اپنے ہاتھ سے ایک مسلم ریاست کو کیسےقائم کر کے جاتا جبکہ ہندوستان کی ہندو اکثریت کیلئے تو یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا کیونکہ ان کے وہ سب لیڈر جو ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی واپس اپنے مذہب پر لانے کے پروگرام بنارہے تھے اپنے ہی دروازے پر پاکستان کے نام سے ایک عظیم مسلم ریاست کے قیام کو کیسے گوارا کر سکتے تھے۔ تمام واقعات اور شواہد اس امر کے تاریخی گواہ ہیں کہ عین اس وقت جبکہ پاکستان بن رہا تھا ہندو اور انگریز کی ملی بھگت سے پاکستان کی تخریب کےمنصوبے بھی تیار کر لئے گئے تھے جس میں سر فہرست اس بددیانت انگریز ثالث ریڈ کلف کا ایوارڈ ہے جس کے ذریعہ گورداسپور کا ضلع ایک معروف سازش کے تحت بھارت کو دے دیا گیا ورنہ بھارت کی سرحد کسی بھی جگہ کشمیر سے نہیں ملتی تھی اور اس طرح کشمیر پر بھارت کا سرے سے کوئی دعویٰ ہی نہیں تھا۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت اس ضلع کے ذریعہ بھارت کو ریاست میں فوجی راستہ دیا گیا تاکہ وہ اپنی فوج بھیج کر ریاست پر قبضہ کر سکے بلکہ اس سازش کو اور زیادہ مستحکم اور کامیاب کرنے کیلئے تقسیم کے وقت پاکستان کے حصہ میں آنے والی فوج اور اس کا اسلحہ پورے بھارت میں اس طرح منتشر کر دیا گیا تھا کہ وہ سب کافی دیر تقریباً ایک سال تک بھارت کے قبضہ میں ہی رہا تاکہ پاکستان کشمیر میں کوئی جوابی فوجی کارروائی نہ کر سکے۔ بالاختصار یہ کہ اگر گورداسپور کا ضلع بددیانتی سے بھارت کو نہ دیا جاتا تو بھارت کا کشمیر کےساتھ سرے سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔اور کشمیر خود بخود اپنے مذکورہ عوامل کی بناء پر پاکستان کا حصہ بن جاتا اور اس طرح پاکستان کو اس کی مطلوبہ سرحدات میں مکمل کر دیتا اور اس طرح ہندو لیڈروں کا ہوس ملک گیری کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا اور نہ وہ مکر وہ کشمکش باقی رہتی جس کی بناء پر بھارت نے اپنی فوجی اور مادی اور سیاسی صلاحیتوں کو اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مسلسل دشمنی کی فضا قائم رکھنے کیلئے صرف کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیسے کیسے میرے ملک کو لوٹا گیا لیکن آج بھی وسائل سے مالا مال ہے

حق خود ارادیت

اس حقیقی اور تاریخی تجزئیے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر در حقیقت اسی تحریک پاکستان کا حصہ ہے جس نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی صورت یہ ہے کہ جبکہ متحدہ ہندوستان کے کروڑوں عوام کو حق خود ارادیت ملا وہاں کشمیری عوام ابھی تک اس حق سے محروم ہیں حالانکہ کشمیری عوام نے 1931ء سے ہی اپنے حق کے حصول کیلئے تحریک حریت شروع کی تھی جس کی حمایت علامہ اقبالؒ اور دیگر سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کی سرکردگی میں مسلم انڈیا نے کی تھی اس ضمن میں ایک اور تاریخی واقعہ نا قابل فراموش ہے۔ وہ واقعہ مسئلہ کشمیر کی اس حیثیت کی مزید تصدیق بھی کرتا ہے کہ 14اگست 1947ء یعنی پاکستان بننے کے وقت ریاست جموں و کشمیر بھر میں تحریک پاکستان کے نام پورے پندرہ ماہ مسلح جہاد جاری رہا جس کے نتیجہ میں 32ہزار مربع میل ریاست آزاد ہوئی جس کو آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کہتے ہیں اس طرح نہ صرف تاریخی تسلسل اور جغرافیائی اعتبار سے کشمیر ی پاکستان کے ساتھ لازوال وابستگی کا پتہ چلتا ہے بلکہ ایک مسلح جہاد کے ذریعہ اس خطہ کے عوام نے پاکستان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار بھی کیا، یہ امتیاز بھی صرف ان ہی حریت پسند لوگوں کو حاصل ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی رائے یعنی ووٹ سے بلکہ تلوار سے بھی یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں اور اگر وہ جنگ ایک دھوکے سے بند نہ کروادی جاتی تو ریاست کے لوگ بھارت سے لڑ کر آزادی حاصل کر لیتے اور پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ یہ ناقابل تردید تاریخی واقعہ ہے کہ ریاست کے لوگ جس وقت پاکستان کے نام پر لڑے رہے تھے تو ان کا مقابلہ صرف بھارتی فو ج کر رہی تھی اور ڈوگرہ فوج تقریباً دم توڑ چکی تھی۔ کشمیر کا وہ حصہ جو بھارتی فوجوں کے تسلط میں رہا وہاں کے باشندوں نے ہمارے خلاف جنگ نہیں لڑی بلکہ مجاہدین آزادی سے تعاون کیا۔ اسی کشمکش میں مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا جس کی ایک بڑی وجہ ریاست میں کانگریسی حکمرانو ں کی ریشہ دوانیاں اور بھارتی فوج کی یلغار تھی یہی وہ پس منظر ہے جس میں مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں پیش ہوا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ موقف کی روسے یہ طے ہوا کہ ریاست کے لوگوں کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا حق دیا جائے گا اور اسی تصفیہ کے تحت پہلی جنوری 1949کو جہاد آزادی روک دیا گیا ۔ آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کشمیریوں کو ان کا یہ پیدائشی حق نہ ملے جس کا وعدہ اقوام متحدہ کے کشمیر کمیشن کی 13اگست 1948ء اور 5جنوری 1949ء کی قرار دادوں میں اہل کشمیر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ان قرار دادو ں کی تعبیر و تفسیر اصل میں یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر سے تمام غیر ملکی فوجی اور عناصر نکل جائیں اور اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ناظم رائے شماری کی نگرانی میں کشمیریوں سے الحاق کے مسئلہ پر رائے دریافت کی جائے۔

الحاق پاکستان کی بنیاد

اب یہ بات قدرے واضح ہو گئی ہے اور قابل غور بھی ہے کہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے وہ محض اسی قدر نہیں ہے کہ دنیا کے کسی حصے میں ہم فیشن یا اصول کے طور پر آزاد ی کی تحریکوں کی حمایت کرتے رہتے ہیں بلکہ اس حمایت کی بنیاد بالکل مختلف ہے اس کے پس منظر میں ایک تو وہ جغرافیائی اور قدرتی رشتہ ہے دوسرے یہ کہ ریاست کے عوام خود پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں جس کی وکالت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کرتا رہا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ خود بھارت نے نہایت چالاکی سے پاکستان کو حملہ آور قرار دے کر پاکستان کو فریق بنا ڈالا مگر بنیاد یہ رکھی کہ ریاست کے لوگ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان اور بھارت میں کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اگر کشمیر اور پاکستان کے درمیان اخوت کی بناء پر گہرے بندھن کا معقول جواز نہ ہوتا تو بھارت جیسے مستحکم بڑے اور باوسائل ملک کے ساتھ پاکستان کا یہ جھگڑا محض مذاق بن کر رہ گیا ہوتا۔ پاکستان کا کشمیر کے ساتھ یہی وہ اٹوٹ رشتہ ہے جو بھارت کی عین کمزوری ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی

اہل کشمیر کا غیر متزلزل عزم

دین اسلام کی پیروکار ریاست کی غالب آبادی ابھی تک پاکستان کے ساتھ الحاق کی باب پر قائم ہے ورنہ اگر اس میں سرمو بھی شک ہوتا تو بھارت استصواب رائے سے کبھی انحراف نہ کرتا ۔ اس طرح یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی غالب اکثریت اب بھی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے اور وہ بدستور تحریک پاکستان پر قائم و دائم ہے تو جب ہم الحاق پاکستان کی بات کرتے ہیں تو وہ محض کوئی جماعتی یا سیاسی نعرہ نہیں ہے جیسے انتخابات میں عارضی اور وقتی نعرے ایجا د کئے جاتے ہیں بلکہ یہ ایک تاریخی عمل اور اس کےتسلسل کا حصہ ہے یہ دوقومی نظرئیے کی صدائے بازگشت ہے اور ایک ایسا مقدس مشن ہے جس پر پندرہ ماہ تک جنگ لڑی گئی اور ہزاروں مجاہدین نے اپنا مقدس خون نچھاور کیا اور اپنا سب کچھ قربان کر دیا یہ ایسا مبارک عمل ہے کہ ریاست کے مسلمانوں نے بے دریغ اپنا خون بہایا ، گھر بار لٹا دئیے اور تحریک الحاق پاکستان کی تاریخ کو اپنے خون سے رقم کیا جس کو بھارت جیسے بڑے ملک کے وسائل، ذہنی و فکری و فوجی قوت اوربین الاقوامی اثر و رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اگر کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق محض ایک دوسری قومی ا وردوسرے ملک کے ساتھ الحاق کی تحریک ہوتی تو دنیا بھر میں ایسی کسی دوسری تحریک کی کوئی ایک ک مثال تو دی جاسکتی ۔ اگر یہ الحاق کی تحریک ایک فطری اور طبعی امر نہ ہوتا تو نہ یہ اتنی طویل مدت تک قائم رہ سکتی نہ اس میں کوئی کشش باقی رہتی۔ نہ اس پر کوئی قربانی دی جاتی اس مقد س تحریک کی فطرت میں اتنی لچک ہے کہ جتنا اس کو دبا یاجائے یہ اتنا ہی ابھرے گی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مصنوعی اور فرضی تحریک کو عارضی طور پر ابھارا تو جاسکتا ہے لیکن کوئی بھی مادی طاقت اپنے زور سے اس تسلسل کے ساتھ اسے قائم نہیں رکھ سکتی نہ ایسی کوئی مثال ہے ۔دوسری طرف اس تحریک کی سچائی اور اس کے تقدس کا طرئہ امتیا ز ہے۔ ایک تیسرا امر معروف یہ ہے کہ اس کے باوجود اس تحریک کو ختم یا کمزور نہیں کیا جاسکا اور اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھارت نے صرف سرزمین کشمیر پر محض فوجی قبضہ کر رکھا ہے وہ کشمیریوں کی روح کو غلام بنانے میں سراسر ناکام رہا ہے۔ کیا یہی اس تحریک کی صداقت اور اس کے طبعی اور فطری ہونے کی یہی کافی دلیل نہیں؟ اور کیا اب بھی کسی کو اس میں شک ہے کہ کشمیر کی تقدیر پاکستان کے ساتھ ہے، تاریخ پاکستان کے ساتھ ہے اور کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔

(یہ مضمون سردار عبدالقیوم خان کی کتاب مقدمۂ کشمیر سے لیا گیا ہے)