پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ: ہلاک میڈیکل کی معصوم طالبہ اور وزیراعلیٰ کا نوٹس

EjazNews

گزشتہ روز ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے دوران رکشے میں بیٹھی نمرہ بیگ کو گولی لگی تھی۔مبینہ پولیس مقابلے میں فائرنگ کی زد میں آنے والی میڈیکل کی طالبہ کو سپرد خا ک کر دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کیلئے انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں بھی بروقت طبی امداد مہیا نہیں کی گئی۔
سب باتیں اپنی جگہ لیکن کیا ایسی جگہوں پر جہاں معصوم شہری موجود ہوں ۔ ڈاکوؤ ں سے مقابلے کرنا ٹھیک ہیں۔

اب ساہیوال واقعہ میں جو لوگ بے گناہ اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ان کے قتل کی ذمہ داری کون لے گا ۔

پولیس اگر کہتی ہے انہوں نے گولیاں چلائیں تو ہم کیا کرتے ، جواب تو دینا ضروری تھا۔ بھئی پولیس کا کام حفاظت کرنا ہے اس کی آخری حد تک کوشش یہ ہوتی ہے کہ سامنے والے کو زندہ گرفتار کر کے اس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے نہ کہ پولیس مقابلے میں اس کو ختم کر کے اس سے جڑے نیٹ ورک کو ہی دبا دیا جائے ۔
پولیس کا مسئلہ صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایساہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ساہیوال واقعہ پیش آیا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کوشہید کر دیا گیا۔ لیکن اس وقعہ کے بعد بھی پولیس کی اصلاح کے لیے کوئی پروگرام شروع کرنے کی ابتداء ہی نہیں کی گئی۔ اب یہ معصوم بچی جو اپنے گھرسے حصول تعلیم کے لیے گئی تھی پتہ نہیں کیا کیا خواب لیے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئی اور اس خاندان پر کیا گزری ہو گی جنہوں نے صبح اپنی بچی کو پڑھنے بھیجا اور کچھ دیر بعد اس کی لاش تھامے بیٹھے تھے۔ اب اس لڑکی کے والدین کس کیخلاف مقدمہ درج کرائیں ۔
شنید ہے وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور انہوں نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کیا ہمارے ہاں انکوائریاں وہ لوگ کرتے ہیں جو انکوائریاں کرنے میں ایکسپرٹ ہوں ۔آج تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کو گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ دوسری طرح پتہ چلتا ہے کہ ساہیوال واقعہ میں ڈرائیورذیشان مشکوک تھا ، اگر مشکوک تھا تو وہ لاہور کے ایک گنجان آباد علاقے کا رہائشی تھا جو ایک انٹرنیٹ پر چلنے والی کار سروس میں بطور کار ڈرائیور کام کرتا تھا ، جس کی گاڑی اپنے گھر کے باہر ہی کھڑی رہتی تھی، جس کو باآسانی کسی بھی وقت پکڑا جاسکتا تھا، اگر مشکوک تھا تو کیا اس کو پکڑ کر اس کے نیٹ ورک تک نہیں پہنچا جا سکتا تھا یا پھر اس کوقتل کر کے سراغ ہی ختم کر دینا ٹھیک تھا۔جس بیہمانہ طریقے سے وہا ں قتل و غارت گری کی گئی اس کی ویڈیو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ اب ساہیوال واقعہ میں جو لوگ بے گناہ اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ان کے قتل کی ذمہ داری کون لے گا ۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں اس کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا۔ پولیس کی تربیت کا نظام صرف ایک جگہ پر ہے جہاں ان کی ٹریننگ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد پولیس کے ہاتھ میں بندوق تھما دی جاتی ہے ۔اور اس کے بعد ان کے پھولے ہوئے پیٹ اور آدھ کلو میٹر سے زیادہ بھگا کر پتہ چلتا ہے کہ ان کو کتنا سانس چڑھا ہوا ہے۔ ان کی تربیت کا کوئی نظام وضع ہونا چاہیے۔ سزا اور جزا کا ڈر قائم ہونا چاہیے ۔
اگر پاکستان میں ایسے ایکسپرٹ نہیں ہیں جو پولیس اصلاحات کر سکیں تو ہم باہر سے کرکٹ کے لیے کوچ بھی تو امپورٹ کرتے ہیں تو پھر پولیس کی اصلاح کے لیے دنیا کےبہترین لوگ جنہوں نے دنیا کے کئی ممالک میں پولیس کی اصلاح کی ہے کیوں نہیں ان کی خدمات حاصل کر سکتے۔ہمارا پولیس کا نظام درست ہو گیا تو یقین کیجئے معاشرے میں آدھ سے زیادہ برائیاں خود ہی ختم ہو جائیں گی ۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں سرکاری افطاریوں پر پابندی عائد