غذا اور اس کی اہمیت

غذا اور اس کی اہمیت کے ساتھ

EjazNews

تحریر: راشدہ

غذا کی کیا اہمیت ہے اور یہ کس وقت کھانی چاہئے۔ اس کا سب سے زیادہ صحیح اور درست جواب یہی ہو سکتا ہے کہ غذازندہ رہنے کے لئے اور تندرست رہنے کے لئے انتہائی ضروری ہے اور یہ اس وقت کھانی چاہئے جب خوب بھوک لگے۔ کھانے کے لئے اپنے روزانہ کے مشاغل اور کام کاج کی مصروفیت کے لحاظ سے اوقات مقرر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ وقت مقررہ پر خوب بھوک لگتی ہے۔ معدہ وقت کا منتظر رہتا ہے اور جو غذا اس میں پہنچتی ہے اسے خوب اچھی طرح ہضم کرتا ہے جو لوگ ناشتے کے عادی ہیں وہ صبح ہلکا ناشتہ کریں اور دس گیارہ بجے کے قریب کھانا کھائیں اس کے بعد اگر بھوک محسوس کریں تو تیسرے پہر تازہ پھلوں کا استعمال کریں۔ گرمی کا موسم ہو تو دودھ یا دہی کی لسی پئیں اور پھررات کو تقریباً آٹھ نو بجے کھانا کھائیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ رات کا کھانا سونے سے دو تین گھنٹے پہلے کھا لینا چاہئے۔
غذا کس قسم کی ہونی چاہئے۔ اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ غذا کو موسم کے مطابق ہونا چاہئے۔ مثلاً سردی کے موسم میں ہضم قوی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس موسم میں ایسی غذائیں کھانا چاہئیں جن میں روغنی اجزاء کی کثرت ہو اور نشاستہ دار اجزاء بھی کافی ہوں مثلاً گوشت ، روٹی، انڈہ، گھی، مکھن ، بالائی ، دود ھ ، شکر اور ان سے بنائے ہوئے حلوے اور مٹھائیاں کھانا چاہئے۔

گرمی کے موسم میں ہضم کمزور ہوتا ہے اور جسم میں گرمی کا غلبہ ہوتا ہے لہٰذا سبز تر کاریاں مثلاً گھیا، کدو، ٹینڈ ے ، توری، کریلا، ساگ، پالک وغیرہ استعمال کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ مونگ کی دال، ماش کی دال، چاول، کھچڑی دہی کے ساتھ بہترین غذائیں ہیں۔ گرمی کے موسم میں دہی، چھا چھ، پنیر اور املی کی چٹنی بھی اس موسم میں مفید ہے۔ زیادہ مرغن غذا ئیں، گوشت ،انڈہ ، مچھلی، حلوہ اور مٹھائیاں وغیرہ نہ کھائیں۔ بلکہ تھوڑی مقدار میں استعمال کریں۔پھلوں میں انار، لوکاٹ، سنگترہ ، خربوزہ، تربوزوغیرہ تمام موسمی پھل مناسب ہیں۔
برسات کا موسم بیماریوں کا مخزن ہوتا ہے۔ ملیریا اور ہیضہ وغیرہ جیسی خطرناک بیماریاں اس موسم میں پھیلتی ہیں۔ ان کا سبب عموماً ہضم کی خرابی اور قبض ہوتا ہے۔اس لئے حتی الامکان ہاضمے کو خراب ہونے سے بچایا جائے اور قبض سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جائے ۔ زیادہ تر زود ہضم اور مقوی غذائیں استعمال کی جائیں اور ساتھ ساتھ ترش چیزیں مثلاً سرکہ ،پودینہ، سرکہ کی چٹنی، لیموں اورانار وغیرہ استعمال کئے جائیں۔ موسمی پھلوں میں سے آم، انار ، لیموں ، انگور وغیرہ کا خوب استعمال کرنا چاہیے۔
غذا کے متعلق چند ضروری اصول
کھانا اس وقت کھانا چاہئے جب خوب بھوک معلوم ہو اور جب تھوڑی بھوک باقی رہ جائے تو کھانا ختم کر دینا چاہئے۔
برسات کے موسم میں باسی غذائوں سے قطعی پرہیز کرنا چاہیے۔
غذا کا دیکھنے میں خوشنما، صاف ستھر اور خوش ذائقہ ہونا چاہئے۔
غذا آہستہ آہستہ چبا کر کھانی چاہئےتاکہ اس کے اجزاء خوب باریک ہو جائیں اور اس کے ساتھ لعاب دہن اچھی طرح مل جائے تاکہ معدہ کے لئے اس کو ہضم کرنے میں آسانی ہو ۔
زیادہ گرم کھانا مناسب نہیں ہے اس سے دانت جلد خراب ہو جاتے ہیں اور کئی دوسری مہلک بیماریاں مثلاً معدہ میں کینسر پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
کھانا کھانے کے دوران زیادہ پانی پینا مناسب نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہو تو مناسب مقدار میں پانی پی لیا جائے اور پھر کھانے کے تقریباً تین گھنٹہ بعد پانی پینا چاہئے اگر درمیان میں پیاس محسوس ہو تو تھوڑا سا پانی پی لینا چاہئے۔ کھانے کے ساتھ برف کا زیادہ ٹھنڈا پانی مناسب نہیں۔ اس سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور نزلہ و زکام کی شکایت ہو جاتی ہے۔
دوپہر کے کھانے کے بعد تقریباً گھنٹہ آدھا گھنٹہ آرام کرنا چاہئے ۔ اس سے کھانا خوب ہضم ہو تا ہے اور کاہلی و سستی نہیں رہتی۔
رات کو کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی ضرور کرنی چاہئے۔ اس سے نیند خوب آتی ہے اور روح تازہ دم ہو جاتی ہے۔
تین چیزیں خاص طور پر مفید ہیں۔ یہ تینوں چیزیں دودھ ، دہی اور مکھن انسان کی صحت کو قائم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دانت صرف خوبصورتی نہیں صحت کے بھی ضامن ہیں
کیٹاگری میں : صحت