ترقی

پاکستان اور انڈیا کی ترقی کا راز

EjazNews

تحریر: اے ایس خان
پاکستان بننے کے بعد ابھی ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہی نہیں ہوا تھا کہ قائد اعظم اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے بعد پاکستان کو ایک اور بڑے سانحے کا سامنا وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کی صورت میں کرنا پڑا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ایسی سازشیں شروع ہوئیں کہ پاکستان میں وزیراعظم بس آنے جانے لگے اس دوران ایک وزیراعظم ہم نے امریکہ سے بھی امپورٹ کیا۔ وزیراعظموں کی آنی جانی تھی کہ جنرل ایوب خان مارشل لاءلگا کر ملک میں حکمران بن بیٹھے ،انہو ں نے اپنے بعد حکومت جنرل یحییٰ خان کے حوالے کی۔ ملک دو لخت ہوا اس کے بعد وزیراعظم بنے ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک کرشماتی شخصیت تھے ایک تو سیاست ان کو وراثت میں ملی تھی ، دوسرا وہ عوام کے دلوں میں راج کرنے لگے۔ آج بھی پیپلز پارٹی جئے بھٹو کے نعروں سے ہی گونجتی ہے۔

بہرکیف ان کی حکومت ختم کی جنرل ضیاء الحق نے ، جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو اقتدار کے ایوانوں میں آئیں ، ان کے بعد نواز شریف ، پھر بے نظیر، پھر نواز شریف اور پھر جنرل مشرف صاحب نے نواز شریف کو جدہ بھجوادیا۔ قدرت کا نظام دیکھئے پہلا مارشل لاء کے بعد بنی پیپلز پارٹی ، دوسرے مارشل لاء کے بعد اقتدار میں آئی پیپلز پارٹی اور تیسرے مارشل لاء کے بعد بھی اقتدار میں پیپلز پارٹی ہی آئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں دو وزیراعظم بنے۔ ان کے بعد نواز شریف آئے اور ن لیگ کی حکومت میں بھی دووزیراعظم بنے۔ اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں نہ ن لیگ ہے اور نہ پیپلز پارٹی ۔ اس دفعہ اقتدار کے ایوان میں تحریک انصاف ہے جس نے پہلی دفعہ حکومت سنبھالی ہے۔
اتنے لمبے عرصے میں جو بھی حکومت میں آیا اس نے ایک لفظ ضرور کہا کہ خزانہ خالی ہے جانے والی حکومت نے آنے والوں کیلئے کچھ نہیں چھوڑا ۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آگے بڑھتا ہی گیا۔ اس کے باوجود کہ اس عرصے میں پاکستان نے 2جنگیں بھی لڑیں ۔ ملک بھی دو لخت ہوا ، لیکن پاکستان سنبھلا اور آج پھر ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے ملک مستحکم ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا استحکام ان لوگوں سے کیسے برداشت ہو گا جو دن رات اسے غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مگن رہتے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں ہی ہمارے دشمن نہیں ہیں اور بھی بہت ہیں اس دل کے جلانے والے۔
لیکن ان سب ادوار میں جو بھی حکمران اقتدار کے ایوان میں آیا ایک بات اس میں مشتر ک رہی یہ سب کے سب مسئلہ کشمیر کا کوئی حل چاہتے تھے۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر ہی ایک ایسی وجہ ہے جس کے حل کے بغیر انڈیا اور پاکستان کی آپسی ہمسائیگی کبھی بہتر ہو ہی نہیں سکتی۔ کشمیری انڈیا کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے لیکن انڈیا نے 70سال سے بزور طاقت ان پر حکمرانی جمائی ہوئی ہے۔ کشمیریوں کی ہر نسل نے اپنے گھر سے شہیدوں کے جنازوں کو نکلتے دیکھا ہے، اب موت کا خوف ان پر نہیں رہا۔ انسان جب کچھ ٹھان لیتا ہے تو زندگی اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ نہیں تو انڈیا والے اپنی تاریخ کو دیکھ لیں، راجیو گاندھی ، اندر گاندھی، مہاتما گاندھی ان سب کے ساتھ کیا ہوا۔
جب کشمیریوں کے گھر سے جنازے نکلتے ہیں تب تو انڈیا میں کہیں سے آواز نہیں آتی کہ یہ کشمیری کیسے شہید ہوا کس نے مارا، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو رہے ہیں ، پرویز مشرف کو انڈین ٹاک شو میں سب سے فیورٹ سمجھا جاتا ہے اور وہ انہی ٹاک شومیں ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا کہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔

کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے کہ کسی ملک کی ریاست یا صوبہ میں 70سال تک فوج لڑے ۔ نہیں یہ صرف اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں پر قبضہ کیا گیا ہوتا ہے، جہاں پر عوام ساتھ نہیں ہوتے ، اگر عوام حکومتوں اور فوج کے ساتھ ہوں تو وہاں فوج رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔
کشمیری 70سالوں سے شہادتیں دیتے آئے ہیں۔ انہوں نے قابض فوج کو دیکھتے ہوئے اپنی جوانی میں قدم رکھا ہے، اب ان کے سروں سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے ۔ نادر موقع ہے اچھی ہمسائیگی کے لیے، اپنے اور ہمارے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے ، خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے، ترقی کے لیے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی طرف آئیے ۔کیونکہ اسی میں برصغیر پاک و ہند کی ترقی کاراز مضمر ہے ۔نہیں تو اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کاٹ کر جمع کیجئے اسلحے کے انبار اور چلائیے اسلحے کے بیوپاریوں کی فیکٹریو ں کو دن رات۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں اولیاء اللہ کے مزارات (۲)