Josh

آج ہی کی تاریخ میں جوش ملیحہ آبادی ہم سے جدا ہوئے

EjazNews

کسی بھی شاعر یا ادیب کو سمجھنے کےلئے اس کے فن کا مقام متعین کرنے کے لئے اس کی نجی زندگی ہی نہیں اس دور کے سیاسی اور سماجی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا فن ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا جن میں اس نے اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا عرصہ بسر کیا ہے۔ بہر طور سیاسی، سماجی اور معاشی حالات اس کے ذہن کی ساخت پر برابر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں اور یہ اثر بالآخر اس کے فکر و فن کی تکمیل وتعمیر میں ایک اہم ترین کردار ا دا کرتا تا ہے۔

جوش ملیحہ آبادی نے ایک علمی اورادبی خاندان میں آنکھ کھولی ان کے والد نواب بشیر احمد خاں بشیر بھی شعرو ادب کے دلدادہ تھے کہا جاتا ہے کہ جب تک ان کے والد حیات تھے جوش کے گھر میں آئے دن محفل مشاعرہ ہوا کرتے تھے ۔ جوش ملیحہ آبادی کے والد کا کلام ”کلام بشیر“ کے نام سے شائع ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  مس یونیورس 2019ء کا مقابلہ سیاہ فام حسینہ نے جیت لیا

جوش نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور اس کے بعد عربی ، فارسی، اردو اور انگریزی کی تعلیم اودھ کے مانے ہوئے اساتذہ سے حاصل کی۔جوش نے اودھ کے سیتا پور، حسین آباد ہائی سکول، جوبلی ہائی سکول، مشن سکول ا ور آگرہ کے سکولوں کے علاوہ علی گڑھ کے ایم اے او کالج میں تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ ٹیگور کے شانتی نیکیتن میں بھی رہے۔

نو برس کی عمر میں انہوں نے پہلا شعر کہا ۔ جوش ”یادوں کی برات “ میں لکھتے ہیں

”نوبرس کی عمر سے ہی شعر کی دیوی نے مجھے اپنی آغوش میں لے کر مجھ سے شعر کہلوانا شروع کر دئیے تھے“

1924ءمیں جوش نے ملیحہ آباد چھوڑ کر حیدر آباد کا رخ کیا ۔اس ہجرت میں عشق ، معاش سمیت بہت کچھ تھا۔ لیکن یہ ہجرت جوش کی زندگی میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بنی۔جوش کچھ عرصہ فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ ممبئی اور پونا میں رہ کر فلمی گیت لکھے جو کافی مقبول ہوئے ۔1948ءمیں وہ ماہنامہ آج کل کے ایڈیٹر بن گئے۔1955ءمیں جوش ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین انٹرٹینمنٹ بھی آر ایس ایس سے نہ بچ سکی

جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔ ان کی تصانیف میں نثری مجموعہ ، یادوں کی بارات، مقالات جوش، دیوان جوش اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے طلوع فکر، جوش کے سو شعر، نقش و نگار اور شعلہ و شبنم کو لازوال شہرت ملی۔

1972ءمیں شائع ہونے والی جوش کی کتاب ”یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست و اویلا مچا تھا۔جوش کو ان کی خودنوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی ۔22فروری 1982ءکو جوش نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے ۔

ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روز حساب تیرا

پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

عشاق بندگان خدا ہیں خدا نہیں

تھوڑا سا نرخ حسن کو ارزاں تو کیجئے

رکنے لگی ہے نبض رفتار جاں نثار اں

یہ بھی پڑھیں:  سشانت سنگھ کی خودکشی :ریاچکروتی گرفتار

کب تک یہ تندگامی اے میر شہسواراں

اٹھلا رہے ہیں جھونکے، بوچھار آرہی ہے

ایسے میں تو بھی آجا اے جان جاں نثاراں

اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے

جو دیکھے وہ کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے